Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • روس میں پیوٹن کی جماعت کی بڑی کامیابی، سپر میجورٹی مل گئی
    • 23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز دنیا بھر میں بند ہونے کا امریکی اعلان
    • پاکستان ویمنز نے بنگلہ دیش کو 31 رنز سے شکست دے کر برونز میڈل جیت لیا
    • وفاقی دارالحکومت میں 22ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے
    • PTIکی طبعیت ٹھیک کردینگے
    • اسلام آباد:جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
    • لانگ مارچ ہر صورت ہو گا ،اسلام آباد آنے سے کوئی نہیں روک سکتا سہیل آفریدی
    • مکہ معاہدہ عملی مرحلے کے قریب مشترکہ عسکری ہیڈکوارٹر جلد فعال ہوگا
    • طاقت کا اندھا دھند استعمال، کسی کو احتجاج کا حق بھی نہیں دیا جارہا:فضل الرحمن
    • خیبرپختونخوا 37پنجگور میں 4 دہشت گرد جہنم واصل
    • شہباز حکومت کے دور میں قرضوں میں 37 ہزار 307 ارب کا تاریخی اضافہ
    • 2 روز بعد ایرانی ایئر لائنز بند امامریکہ پروازیں جاری رہیں گئیں تہران
    • شہباز شریف مختصر وفد کے ہمراہ نیو یارک پہنچ گئے’ٹرمپ سے ملا قات بھی متوقع
    • نیتن یاہو کا اہلیہ سمیت مسجد الاقصی کے کمپاونڈ کے نیچے سرنگوں کا دورہ، سوشل میڈیا پر غم و غصہ
    • تشدد انتشار کا راستہ اپنانے والے ملک دشمن ہیں مریم نواز
    • وزیراعظم جنرل اسمبلی میں کشمیر، فلسطین کے مسائل اٹھائیں گے،عاصم افتخار
    • وفاقی وزیر احسن اقبال ایئرپورٹ پر عام مسافروں کی قطار میں لگ گئے،وزیر داخلہ محسن نقوی نے سراہا
    • اٹلی: سکولوں میں نقاب پر پابندی غیر ملکی طلبہ کی حد مقرر کا اعلان
    • انتظامی یونٹس کا قیام ملک کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں:مصطفی کمال
    • ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ انتظامی یونٹس بنائے جائیں: خالد مقبول
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کرپشن اورطاقت ورمافیاز

    By Daily Khabrainفروری 5, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    محمدنعیم قریشی
    یہ ضروری نہیں ہے کہ ملک میں سار ی کرپشن شریفوں کے زمانے کی ہو اور ہر رپورٹ شریف خاندان کی وجہ سے ہی جنم لے اور ہر غلطی ونقصان کو اگلے پچھلوں کے کھاتے میں ڈالنا بھی عقمندی نہیں ہوتی،سوچنے سمجھنے کی بات تو یہ ہے کہ اس وقت تو حکومت امانت دار اور دیانت دار وزرااور مشیروں کے پاس ہے تو پھر پاکستان کرپشن کے میدان میں اس قدر اونچائی پر کس طرح پہنچ سکتاہے،موجودہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشل کی رپورٹ تو ہمیں یہ ہی بتاتی ہے کہ پاکستان میں حالیہ برسوں کی نسبت اس بارملکی کرپشن میں زیادہ اضافہ ہو اہے۔
    پاکستان تحریک انصاف اور ان کے قائد عمران خان کی جانب سے انتخابات سے قبل احتساب کے نعرے نے خوب شہرت کمائی الیکشن سے قبل تحریک انصاف نے قوم کے سامنے یہ مؤقف پیش کیا تھا کہ پاکستان کے اقتدار پر مختلف ادوار میں فائز عہدیدارروں کی بد عنوانی نے ملکی خزانے کو شدید نقصان پہنچایاہے،اور اسی بد عنوانی، کرپشن کے خاتمے اور احتساب کا نعرہ لگا کر پاکستان تحریک انصاف ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر سامنے آئی اور 2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے اور ان دنوں وہ اپنے پہلے دور اقتدار کے تین بر س سے زائد عرصہ گزار چکے ہیں وقت پر لگاکر اڑتارہاہے اور اب ان کے اقتدار کے تیسرے برس عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ہے کہ ان تین برسوں میں پاکستان میں بدعنوانی اور رشوت خوری کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے۔
    رپورٹ کے مطابق 2018ء میں جب موجودہ حکومت برسر اقتدار آئی تھی تو پاکستان کا کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 117واں نمبر تھا جو اب گر کر 140ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے عالمی ادارے کی رپورٹ تیار کرنے کا طریقہ کار اور مقاصد بارے میں ماہرین کے درمیان بہت سارے تحفظات ہوسکتے ہیں، اس رپورٹ کے مندرجات میں بیان کردہ دعووں پر اعتراضات کے باوجود اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کہیں نہ کہیں تحریک انصاف کی حکومت اپنے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرنے میں ضرور ناکام رہی ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کا ریاستی و سیاسی نظام اتنا بدعنوان ہوچکا ہے کہ جو شاید اب لاعلاج مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔ تحریک انصاف کے بہت سے بڑوں کا یہ ماننا ہے کہ اگلی حکومت بھی تحریک انصاف کی ہی ہوگی،لیکن اس کا جواب یہ بنتاہے کہ آپکی حکومت بد عنوانی کے خاتمے اور طاقتور طبقے کے شفاف احتساب کا نعرہ لگا کر برسراقتدار آئی تھی وہ احتساب کے بارے میں فی الحال عوام کو مطمئن نہ کرسکی ہے۔ اس کے باوجودآپکو یقین ہے کہ اس با ر بھی قوم آپ ہی کو موقع فراہم کریگی جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری کا جو عالم اس کا تو پوچھے ہی نہ تو اچھا ہوگا۔
    ہم نے دیکھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے اجراء سے ایک روز قبل ہی وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر مستعفی ہونے پر مجبور ہو ئے انہوں نے خود استعفیٰ دیا ہے یا وزیراعظم نے ان سے استعفیٰ لیا ہے اس کے بارے میں سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن یہ درست ہے کہ وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے احتساب اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ بدعنوانی اور احتساب کے نعرے کا شور 90کی دہائی سے بہت پہلے کاہے اس نعرے نے ہردور میں ہی شہرت پکڑی ہے اس کے باوجود پاکستان کے سماج اور طاقت و اختیار کے ایوانوں میں اتنی ہی بدعنوانی بڑھتی رہی اور آج بھی ناجائز طریقہ سے یہ مال جمع کرنے کا جنون کسی نہ کسی طریقہ سے جاری ہے جس نے آجکل ایک خطرناک سیاسی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے اس کرپشن زدہ مافیا نے قومی خودمختاری، آزادی و سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھاہے،کرپشن اور بدعنوانی نے ہر سطح پر مجرموں اور مافیاوں کو طاقتور بنا دیا ہے۔
    ان تین برسوں میں توانائی مافیا، شوگر مافیا، آئل مافیا، گیس مافیا، جیسے طبقات کی لوٹ مار سامنے آئی ہے لیکن اب تک کسی کو لگام ڈالنے یا عبرت کا مقام بنانے کی خبرسامنے نہ آسکی ہے،یہ بھی ہے کہ جب قانون سازی تیز اور عوام دوست ہوگی تو اس میں خامیاں بھی ہوسکتی ہیں لیکن کچھ دکھائی تو دے کچھ اچھا ہورہاہے حکومتی ترجمان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جستجو سے نکلیں اور قوم کو بتائیں کہ ہم نے یہ اچھاکیاہے اور اس کے نتائج یہ نکلیں گے۔
    دوسری جانب یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم کبھی کشکول توڑ پائیں ہیں جو ہر روز آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑے رہتے ہیں اور آئے روز اس کی شرائط ماننے کے لیے عوام کی جیبوں کی قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔ستر سالوں کا سفر تو ابھی تک جاری ہے شاید ہی کوئی ریاستی ادارہ یا سرکاری محکمہ ایسا ہو جہاں کرپشن کا بھوت نہ ناچ رہاہو، چاہے وہ محکمہ پولیس ہو انکم ٹیکس،کسٹم ایکسائز ہو صحت جیسے ادارے تو پہلے ہی بدنام تھے اب دیگر ریاستی اداروں سمیت محکمہ تعلیم بھی شدید بد عنوان اداروں میں شامل ہو چکے ہیں ان تمام اداروں کے اپنے اپنے طریقہ واردات اور کرپشن کے طریقے ہیں۔ جن سے اس ملک کی عواماب بخوبی واقف ہوچکی ہے کیونکہ ان تمام اداروں میں ہر شہری کو روزانہ ان تمام مشکلات اور پریشانیوں سے گزرنا پڑرہا ہے سب کچھ ویسا ہی چل رہاہے جو چوروں اور ڈاکوؤں کے ادوار میں دکھائی دیتاتھا،یہ تو وہ حقائق ہیں جن سے ملک گزشتہ ستر سالوں سے گزر رہا ہے اور گزرتا رہے گا،کیا ایسا تو نہیں ممکن کہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست کے پیچھے قوم کو اصل ایشوز، غربت، مہنگائی سے توجہ ہٹانا پلاننگ کا حصہ ہو۔ میں سمجھتا ہو کہ اب بھی وقت ہے کہ ملک میں ایسے شفاف سسٹم کا اہتمام کیا جائے جس میں کرپشن کو حقیقی معنوں میں ختم کیاجائے نان ایشوز کو چھوڑ کر ایشوز میں ترجیحات کا ایسا تعین ہو جس سے سسٹم میں مضبوطی آئے اور جس میں ہر وزیر اور مشیر جواب دہ ہو۔
    (کالم نگار مختلف امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      پاکستانی فائٹر شہزیب رند کی دھوم میامی ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں فتح

      ‏عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور سے حراست میں لے لیا گیا

      آئی پی پیز سے بجلی کی پیداوار ڈیموں کے مقابلے میں 12 گنا مہنگی

      کوہاٹ پولیس لائنز دھماکا، 15 اہلکاروں سمیت 21 شہید، 81 زخمی

      سنگاپور ایئرلائنز 2026 کی بہترین ایئرلائن بن گئی

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.