Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • جاوید میانداد عمران خان کیلئے رو پڑے ایمانداری کی گواہی دے دی’’میں جانتاہوں خان کو وہ ایماندار ہے ،اسے باہر نکالنے سے کیا فرق پڑے گا؟‘‘
    • پاکستان کا نیپال میں سیلاب متاثرین کیلئے ہنگامی امداد کا اعلان
    • عمران خان کے بیٹوں کے اسکائی اسپورٹس انٹرویو سے ٹیم لاعلم تھی: سرفراز احمد
    • محکمہ موسمیات کی بارشوں کی پیشگوئی، لاہور، راولپنڈی، مری، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں 5 ستمبر تک بارش کا امکان
    • نیپال اور چین میں سیلاب، 600 سے زائد افراد ہلاک، ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع
    • شدید گرمی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بڑھا دی گئی، شہری پریشان
    • ومبلے اسٹیڈیم کے قریب خوفناک آگ بھڑک اٹھی 100 سے زائد فائر فائٹرز کی کارروائی جاری
    • مناب اسکول حملہ کبھی نہیں بھولیں گے نہ معاف کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ
    • پی سی بی کی اسکائی اسپورٹس کے خلاف شکایت پر عثمان خواجہ کا طنزیہ ردعمل، ’’یہ ضرور کوئی مذاق ہوگا‘‘
    • ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی
    • بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم منتخب، اسمبلی سے 30 ووٹ حاصل کیے
    • پیٹ کمنز کا عمران خان کی صحت اور اہلِ خانہ سے ملاقات پر اظہارِ تشویش
    • لارڈز ٹیسٹ: امام الحق بائیں پنڈلی کی انجری کا شکار
    • پاکستان، کویت میں دفاعی معاہدہ طے، فوجی تعلقات مضبوط بنانے کا فیصلہ
    • غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان کا رخ کرلیا، تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کرگئی
    • ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89برس کی عمر میں انتقال کرگئے
    • یورپ میں ہیٹ ویوز کا تباہ کن اثر کم از کم 35 ہزار اضافی ہلاکتیں
    • 902 فرسٹ کلاس وکٹیں، محمد عباس لارڈز میں 4 وکٹیں لے کر ایلیٹ کلب میں شامل
    • نیپال، چین سیلاب: 469 افراد جاں بحق 1400 لاپتا، ریسکیو آپریشن جاری
    • سعودی کمپنی کا پاکستانی ایئرپورٹ خریدنے میں دلچسپی کا اظہار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پراسرار ’بھوت ذرّہ‘ کتنا بھاری ہے… آخرکار معلوم ہوگیا!

    By Khabrain Newsفروری 15, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    برلن: (ویب ڈیسک) سائنسدانوں کی ایک عالمی ٹیم نے ’نیوٹرائنو‘ ذرّے کی کمیت معلوم کرلی ہے جسے ’بھوت ذرّہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
    اس سے پہلے تک نیوٹرائنو کی کمیت (مادّے کی مقدار) کے بارے میں صرف اندازے ہی لگائے گئے تھے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب اس ذرّے کی کمیت پورے احتیاط اور درستگی سے معلوم کی گئی ہے۔
    حساس اور محتاط مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ نیوٹرائنو کی کمیت صرف 0.8 الیکٹرون وولٹ (0.8 eV/c^2)، یعنی الیکٹرون کے مقابلے میں پانچ لاکھ گنا سے بھی کم ہے۔
    بتاتے چلیں کہ اس ذرّے کی پیش گوئی آج سے 90 سال پہلے جرمن ماہرِ طبیعیات وولف گینگ پالی اور امریکی سائنسدان اینریکو فرمی نے کی تھی۔
    یہ اہم دریافت ’’کارلسروہے ٹرائٹیم نیوٹرائنو ایکسپیریمنٹ‘‘ (KATRIN) کے عنوان سے جرمنی میں جاری ایک عالمی تحقیقی منصوبے کے تحت کی ہوئی ہے جس میں جرمنی، امریکا اور برطانیہ سمیت چھ ممالک شریک ہیں۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ نیوٹرائنو کی کمیت معلوم کیے بغیر کائنات کے بارے میں ہمارے سائنسی نظریات بھی ادھورے رہیں گے۔
    نیوٹرائنو کو ’’بھوت ذرّہ‘‘ اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام مادّے کے ساتھ لگ بھگ نہ ہونے کے برابر ہی عمل (انٹریکشن) کرتا ہے۔
    آسان الفاظ میں یوں سمجھیے کہ نیوٹرائنو کچھ اس طرح ہماری زمین سے آرپار گزر سکتے ہیں کہ جیسے ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ موجود ہی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا براہِ راست مشاہدہ ہمارے لیے ناممکن ہے۔
    البتہ، اینریکو فرمی نے پیش گوئی کی تھی کہ ایٹمی مرکزوں (اٹامک نیوکلیائی) میں ٹوٹ پھوٹ یعنی انحطاط (decay) کے نتیجے میں الیکٹرون کے ساتھ ساتھ نیوٹرائنو بھی خارج ہوتے ہیں جن کی وجہ سے الیکٹرون کی کمیت میں بے حد معمولی کمی واقع ہوتی ہے۔
    یہ کمی اس قدر معمولی ہوتی ہے کہ انتہائی درست اور حساس آلات (ڈٹیکٹرز) ہی اس کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ یعنی ان آلات کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ ایٹمی مرکزے میں انحطاط سے خارج ہونے والے الیکٹرونوں کی کمیت میں کروڑویں حصے جتنا فرق بھی معلوم کرسکیں۔
    فرمی کی یہی پیش گوئی مدنظر رکھتے ہوئے جرمن شہر کارلسروہے کے نزدیک ’کیترن‘ (KATRIN) نامی منصوبے پر 2000 میں کام شروع کیا گیا جو عالمی تعاون و اشتراک سے آہستہ آہستہ آگے بڑھتا رہا۔
    اس منصوبے کے تحت سائنسدانوں نے ایک خاص قسم کی ہائیڈروجن استعمال کی جسے ’’ٹریٹیم‘‘ (Tritium) کہا جاتا ہے۔ اس کے مرکزے (نیوکلیئس) میں ایک پروٹون کے ساتھ دو نیوٹرون بھی موجود ہوتے ہیں۔
    عام ہائیڈروجن، جس کے مرکزے میں صرف ایک پروٹون ہوتا ہے، بے حد پائیدار ہے جو مناسب حالات میں اربوں سال تک خود کو برقرار رکھتی ہے۔
    اس کے برعکس ٹریٹیم بہت ناپائیدار ہوتی ہے کیونکہ اپنے مرکزے میں ایک پروٹون کے ساتھ دو اضافی نیوٹرونوں کو سنبھالنا اس کےلیے بے حد مشکل ہوتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ ٹریٹیم کے مرکزے (نیوکلیئس) میں نیوٹرون بھی انحطاط کا شکار رہتے ہیں۔
    اس انحطاط میں نیوٹرون خود کو پروٹون میں تبدیل کرتے ہوئے ایک الیکٹرون اور ایک نیوٹرائنو خارج کرتا ہے۔
    اب چونکہ ایٹمی مرکزے سے خارج ہونے والے الیکٹرون کو ’بی-ٹا‘ ذرّہ (Beta particle) کہتے ہیں لہذا نیوٹرون کے بدلنے اور اس سے الیکٹرون/ نیوٹرائنو خارج ہونے کا یہ عمل ’بی-ٹا انحطاط‘ (Beta decay) کہلاتا ہے۔
    فرمی کی پیش گوئی تھی کہ بی-ٹا انحطاط میں خارج ہونے والے الیکٹرون کی کمیت، دوسرے اور عام الیکٹرونز کے مقابلے میں بہت معمولی سی کم ہونی چاہیے کیونکہ اس عمل میں (الیکٹرون کے مقابلے میں) لاکھوں گنا کمتر کمیت والا نیوٹرائنو بھی خارج ہوتا ہے جس کا مشاہدہ ہمارے لیے ممکن نہیں۔
    یعنی عام الیکٹرونوں اور بی-ٹا انحطاط میں نکلنے والے الیکٹرونوں میں کمیت کے انتہائی معمولی فرق کی پیمائش کرکے ہم نیوٹرائنو کی کمیت بھی معلوم کرسکتے ہیں۔
    کیترن منصوبے میں ٹریٹیم کے بی-ٹا انحطاط سے خارج ہونے والے کھربوں الیکٹرونوں کی کمیت، انتہائی حساس آلات سے، کئی سال تک بار بار معلوم کی گئی۔
    اس دوران آلات کو بہتر سے بہتر بنانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
    جب اس منصوبے سے وابستہ ماہرین کو اپنے حاصل کردہ اعداد و شمار اور ان کے نتائج درست ہونے پر مناسب حد تک اعتبار ہوگیا تو انہوں نے اس دریافت کی تمام تفصیلات ریسرچ جرنل ’’نیچر فزکس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع کروا دیں۔
    نیوٹرائنو بظاہر بہت معمولی ذرّہ ہے لیکن بگ بینگ سے لے کر تاریک مادّے (dark matter) تک جیسے کائناتی مظاہر میں اس کا عمل دخل تسلیم کیا جاتا ہے۔
    نیوٹرائنو کی کمیت (0.8 الیکٹرون وولٹ) معلوم ہو جانے کے بعد، ماہرین کو امید ہے کہ ذرّات اور کائنات کے بارے میں کئی سوالوں کے جوابات حاصل کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔
    دوسری جانب ’کیترن‘ منصوبے میں شامل آلات کو مزید بہتر بنانے کا کام بھی جاری ہے تاکہ 2025 سے نیوٹرائنو کی کمیت کی اور زیادہ درست پیمائشیں کی جاسکیں۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      انسانی مزدوروں کا مستقبل خطرے میں؟ شیاؤمی کا ہیومنائیڈ روبوٹ 98 فیصد کامیاب

      "گلیکسی اَن پیکڈ ڈیوائسز لانچ سے پہلے لیک ہو گئیں۔”

      لاہور میں ٹریفک کی نگرانی کے لیے اے آئی سے چلنے والا ڈرون سسٹم متعارف کروا دیا گیا۔

      تازہ ترین

      پمز میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ای ڈی کی تصدیق

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.