Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • خواتین ہاکی کوارٹر فائنل: بھارت کے ہاتھوں پاکستان کو 19-0 سے عبرتناک شکست
    • سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے
    • امام الحق اور محمد رضوان این سی سی آئی اے کے ریڈار پر، موبائل فونز بھی چیک ہوں گے
    • نیتن یاہو کا بڑا دعویٰ، جنوبی شام میں اسرائیل کا مکمل کنٹرول
    • انتظامی افسروں کے استعفوں سے نیا پنڈورا باکس کھل گیا
    • حوثیوں کا بڑا حملہ، یمن کے اہم ساحلی شہر موخا پر قبضہ
    • جوہر ٹاون کی نئی سڑک اچانک بڑا گڑھا بن گیا
    • پنجاب بھر کے میزاروں کی کیش کشادگی میں ماہانہ کروڑوں روپے کی خوردبرد کا سلسلہ جاری
    • فن ایلن کی میلبورن اسٹارز میں بڑی ڈیل بی بی ایل کی سب سے بڑی سائننگ
    • فیصلوں میں تاخیر پولیس کی لوٹ مار عوام اپنی عدالتیں لگا کر سزائیں دینے لگے
    • ماں بچہ صحت پروگرام کےبعد کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام بھی بحران کا شکار
    • دھرنوں کے دوران حکومت نے راطہ کیا ہم نے معذرت کی حافظ نعیم الرحمن
    • نیپال چین سرحد پر سیلاب ہلاکریںہلاکتیں 1410تک پہنچ گیئں سے 5,650 ذائد لا نپتہ
    • پاکستان نے آخری میچ میں ہانگ کانگ کو 72 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنائی
    • پنجاب ‘ سموگ سیزن سے قبل آلودگی کیخلاف کارروائیاں سخت کرنیکا فیصلہ
    • این اے 168 ضمنی انتخاب، 20 امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ
    • جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس شروع، کثیرالجہتی نظام پر اعتماد کی بحالی ترجیح قرار
    • حکمران عوام کو ایسے لوٹ رہے ہیں جیسے منگولوں نے بغداد کو لوٹا تھا، فواد چودھری
    • الیکشن کمیشن ،مالی گوشوارے جمع نہ کرانے پر صاحبزادہ حامد رضا، عبدالطیف اور زرتاج گل نااہل قرار
    • 26نومبر احتجاج کیس، وزیرِ اعلی کے پی سہیل آفریدی سمیت دیگر کے وارنٹ برقرار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    توہین عدالت کیس: ‘حکومت فوجداری کارروائی چاہتی ہے تو تقاضے بھی سمجھے’

    By Khabrain Newsدسمبر 2, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے 25 مئی لانگ مارچ سے متعلق عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس میں ریمارکس دئیے ہیں کہ حکومت فوجداری کارروائی چاہتی ہے تو تقاضے بھی سمجھے، حکومت توہین عدالت کارروائی کیلئے کیسے متاثرہ فریق ہے؟
    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت درخواست پر سماعت ہوئی، وزارت داخلہ کے وکیل سلمان بٹ نے دلائل دیے کہ عمران خان 24مئی سے ہی ڈی چوک جانے کی کال دے رہے تھے، وہ عدالتی حکم سے آگاہ تھے یہ بات ریکارڈ سے ثابت ہے، انہوں نے اپنے جواب میں غلط بیانی کی ہے، پہلے اپنے اور بعد میں وزیراعلی کے جیمرز کا بیان دیا گیا۔
    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے جو شہادتیں ریکارڈ کرے، حکومت کی درخواست پہلے ہی غیرموثر ہے، توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے، سپریم کورٹ نے کہا تھا عدالت چاہے گی تو کارروائی کرے گی، کوئی ایک عدالتی فیصلہ دکھا دیں جس میں غیرموثر کیس میں توہین عدالت کی کارروائی ہوئی ہو، لانگ مارچ حکومت کیخلاف احتجاج تھا ڈسپلن سے ہونے والی پریڈ نہیں۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود معلومات مانگی تھیں جو سامنے لائی گئی ہیں، جسٹس یحیحیٰ آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ جانے اور معلومات جانے، درخواست کیسے قابل سماعت ہے؟
    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 25 مئی والا کیس تو سپریم کورٹ نے نمٹا دیا تھا، موجودہ درخواست 25 مئی والے حکم کا تسلسل کیسے ہو سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے کیس غیرموثر ہونے پر ختم کیا تھا، حکومت کیسے متاثرہ فریق ہے جو توہین عدالت کی کارروائی شروع کرائے؟۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے مواد آ گیا ہے اور عمران خان کا موقف بھی، عمران خان کہتے ہیں انہیں عدالتی حکم کا علم ہی نہیں تھا، حکومت صرف معاونت کر سکتی ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، عدالت نے دیکھنا ہے کہ کن حالات میں کیا ہوا تھا، پچیس مئی کو حالات کشیدہ تھے، مظاہرین کسی کے کنٹرول میں نہیں تھے، لارجر بنچ نے جب سماعت شروع کی تو لانگ مارچ ختم ہوچکا تھا، کس نے کیا کہا اور کیا کال دی گئی تھی سب حالات کا جائزہ لینا ہے، دیکھنا ہے ڈی چوک پہنچنے والے مقامی تھے یا لانگ مارچ کا حصہ؟
    وکیل وزارت داخلہ نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ ڈی چوک ہی آنا چاہتے تھے، عمران خان نے عدالت میں متضاد بیانات دیے، پہلے کہا ڈی چوک جانا ہے، پھر کہا پالیسی ایچ نائن گرائونڈ جانے کی تھی، عدالت عمران خان کے کتنے متضاد بیانات کو درگزر کرے گی؟
    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈی چوک نہ جانے کے بیان پر عدالت نے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا تھا، عدالتی حکم سے پہلے کے بیانات اور ارادے کا مقدمہ سے کیا تعلق؟۔
    جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ڈی چوک پر احتجاج کیلئے ممنوعہ جگہ ہے؟۔
    وکیل نے جواب دیا کہ ریڈ زون میں احتجاج کی اجازت نہیں ہے، 2014ء میں بھی صرف آبپارہ میں دھرنے کی اجازت ملی لیکن پی ٹی آئی ریڈ زون آ گئی، جس سے سپریم کورٹ محصور ہوگئی، ججز کو دوسرے راستے سے آنا پڑا۔
    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ ماضی میں کیا ہوتا رہا اس سے متاثر نہیں ہونگے۔
    وزارت داخلہ نے عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات کی ویڈیوز اور ٹویٹس پیش کر دیں۔ وکیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے 25 مئی کی صبح ڈی چوک پہنچے کا ٹویٹ ہوا، تین بجے شیریں مزاری نے ٹویٹ کر کے ڈی چوک آنے کا کہا، حالانکہ ایک بجے اسد عمر جی 9 ایچ 9 گراؤنڈ کی یقین دہانی کروا چکے تھے، 3:09 بجے اسد عمر کنٹینر پر عمران خان کے ساتھ موجود تھے، اسد عمر عدالت کو یقین دہانی کروا کر گئے تھے کہ ایچ 9 کا گراؤنڈ چاہیے تھا، 4:13 منٹ پر عمران خان نے تقریر کی کہ رکاوٹیں عبور کر کے ڈی چوک پہنچیں گے۔
    جسٹس مظاہر نقوی نے پوچھا کہ اسد عمر نے عمران خان کو عدالتی حکم سے آگاہ کیا تھا اس کا کیا ثبوت ہے؟۔
    وکیل نے کہا کہ تحریری جواب کے مطابق اسد عمر ہیلی کاپٹر پر عمران خان کے پاس لانگ مارچ میں پہنچے، اسد عمر نے ایک بجے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی، یقین دہانی کے بعد ڈی چوک کا اعلان ہوا تو اسد عمر عمران خان کیساتھ کھڑے تھے، عدالتی حکم کے بعد بھی عمران خان ڈی چوک ہی آنا چاہتے تھے۔
    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ عدالت کے سامنے بیانات دینے پر پابندی نہیں، آپ نے انہیں غلط ثابت کرنا ہے، حکومت فوجداری کارروائی چاہتی ہے تو اس کے تقاضے بھی سمجھے۔
    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو براہ راست کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی، ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کی ہدایت پر یقین دہانی کرائی گئی، اگر کوئی غلط بیانی ہوئی ہے تو یہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی جانب سے ہوگی۔
    وکیل وزارت داخلہ نے اعتراض اٹھایا کہ جو سپریم کورٹ میں غلط بیانی کی گئی اس کا کیا ہوگا؟۔ جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ غلط بیانی پر الگ قانون کا اطلاق ہوتا ہے۔
    چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت کارروائی کسی کو سزا دینے کیلئے نہیں ہوتی، عدالت کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا لیکن نوٹس نہیں لیا ، عدالت کو اسکے فیصلوں پر پرکھیں نا کہ اپنے اپنی سوچ پر کہ نیت کیا تھی۔
    بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی حکومتی درخواست پر کیس کی مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      پاکستان کا پہلا وائلڈ لائف اسپتال تیار، 12 آپریشن تھیٹرز

      حوثی حملے سعودی عرب تک پھیلے تو مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوگا: پاکستان

      تازہ ترین

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      نئے صوبے ،شہبازشریف متحرک ‘ممتاز صنعت کاروں,کاروباری شخصیات سے طویل ملاقات

      آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آبدوز پکڑنے کا ایرانی دعویٰ

      عمران خان کیلئے وسیم اکرم بھی بول پڑے

      امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف انکوائری شروع، فون ضبط

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.