“معرکۂ حق” صرف ایک جنگ نہیں بلکہ دو مختلف نظریات، سوچوں اور اصولوں کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس جدوجہد میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، انصاف اور ظلم کے نظریات آمنے سامنے تھے۔ یہ معرکہ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات نے پوری دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ماہرین کے مطابق اس معرکے نے ثابت کیا کہ نظریات کی طاقت ہتھیاروں سے زیادہ دیرپا اور مؤثر ہوتی ہے۔






































