-
دورانیہ: اسرائیلی میڈیا (چینل 7) کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ہنگامی گفتگو 30 منٹ سے زائد جاری رہی۔
-
وقت: یہ رابطہ اسرائیل کے سیکیورٹی کابینہ (Security Cabinet) کے اہم اجلاس کے آغاز سے ٹھیک پہلے قائم ہوا، جس میں نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو ٹرمپ سے ہونے والی گفتگو پر اعتماد میں لیا۔
اس گفتگو کا بنیادی مرکز ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور دوبارہ فوجی کارروائیاں (Resuming Military Hostilities) شروع کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ یاد رہے کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد 8 اپریل سے ایک عارضی جنگ بندی نافذ تھی، لیکن حالیہ مذاکرات میں تعطل کے بعد اب دوبارہ جنگی بادل منڈلا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو اپنے حالیہ اہم دورہِ چین (13 تا 15 مئی) کے نتائج اور عالمی منظرنامے پر ہونے والی پیشرفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
اسرائیلی اخبار Yedioth Ahronoth نے ایک نامعلوم سینئر اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ایران پر دوبارہ حملوں کا معاملہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا:
“اب حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کو کرنا ہے۔ اگر وہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو یقیناً اسرائیل اس فوجی مہم میں صفِ اول میں شامل ہوگا۔”
نیتن یاہو سے بات چیت کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر ایران کو انتہائی سخت اور آخری وارننگ جاری کرتے ہوئے لکھا:
امریکی اخبار Axios کے مطابق، صدر ٹرمپ نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنی نیشنل سیکیورٹی ٹیم کا ایک اہم اجلاس بھی طلب کر رکھا ہے جس میں ایران کے خلاف عسکری آپشنز کا حتمی جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم، ٹرمپ کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایران اب بھی دباؤ میں آ کر مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتا ہے۔






































