واشنگٹن: مصنوعی ذہانت (AI) نے سائنسدانوں کو ایسے نئے سپر کنڈکٹر مواد کی نشاندہی میں مدد دی ہے جو مستقبل میں بجلی کی ترسیل، کوانٹم کمپیوٹنگ اور جدید طبی آلات میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق مشین لرننگ کی مدد سے ہزاروں ممکنہ مرکبات کا تجزیہ چند گھنٹوں میں ممکن ہوا، جبکہ یہی عمل روایتی طریقوں سے کئی سال لے سکتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کمرہ درجہ حرارت پر کام کرنے والے سپر کنڈکٹرز تیار ہو گئے تو توانائی کے شعبے میں ایک نئی صنعتی انقلاب کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت نے سپر کنڈکٹرز کی تلاش میں سائنسدانوں کو بڑی کامیابی دلا دی

