اسلام آباد: ملک گیر ہڑتال کی کال پر پاکستان کے پٹرولیم ڈیلرز دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ایک جانب آل پاکستان پٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن (APPPOA) نے حکومت کے خلاف غیر معینہ مدت کی ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) نے فوری طور پر ہڑتال میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے مزید مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔
ہڑتال کی کال حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے تعین کے نئے نظام کے خلاف دی گئی ہے۔ ڈیلرز کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کا نظام ناقابلِ عمل ہے، اس سے کاروبار متاثر ہوگا اور پٹرول پمپ مالکان کو مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قیمتیں پہلے کی طرح ماہانہ بنیادوں پر مقرر کی جائیں اور ڈیلرز کا کمیشن بھی بڑھایا جائے، جو گزشتہ تین برس سے تبدیل نہیں ہوا۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان کے مطابق حکومت، اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی موجودہ پالیسیوں نے پٹرول پمپ مالکان کے لیے کاروبار چلانا مشکل بنا دیا ہے۔ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ملک بھر کے تقریباً 15 ہزار نجی پٹرول پمپ بند کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (PPDA) نے کہا ہے کہ وہ اوگرا اور حکومت سے مزید بات چیت کے بعد اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں ہڑتال سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گی۔ ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے تحفظات سننے کے لیے مزید وقت مانگا ہے، اس لیے فوری ہڑتال کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا نظام عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس کا مقصد قیمتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں ایڈجسٹ کرنا ہے۔ تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ملک کے مختلف شہروں میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

