واشنگٹن ، تہران،فلوریڈا، لاہور(نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکہ نے خام تیل لے جانے والے 5 ایرانی جہازوں کو تباہ کردیا جس کے
ایران نے جواب میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی بارش کردی جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اسے اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔جبکہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی کم ، تنصیبات کو زیر زمین منتقل کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج فارس میں 20بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ بحریہ نے خلیج فارس میں 2امریکی بحری جہازوں اور 8آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے مزید 10بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ جہاز آبنائے ہرمز کے ایک ممنوع اور غیر محفوظ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے یہ حملہ ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا، امریکا سے انتقام لیتے ہوئے دشمن کو غیر معمولی نقصان پہنچایا گیا ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکا کے آئل ٹینکرز پر حملے کے بعد اردن کے الازرق میں واقع امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فورسز کے حملوں کے جواب میں اردن میں الازرق امریکی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں اردن میں الازرق میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔پاسدارانِ انقلاب کاکہنا ہے یہ حملہ ایرانی آئل ٹینکروں پر امریکی حملوں کے جواب میں کیا گیا۔ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا سے انتقام لیتے ہوئے دشمن کو غیرمعمولی نقصان سے دوچار کیا۔ادھرروسی میڈیا کا کہنا ہے کہ اردن میں پینٹاگون کا ڈیفنس نظام ایرانی میزائل روکنے کیلئے فعال ہوگیا ہے۔ اردنی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے 20 میزائل داغے، 18روک لیے گئے،2 آبادی سے باہر گرے۔اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فورسز نے ایران کے 5 خام تیل بردار بحری جہاز تباہ کردئیے ہیں۔سینٹکام کے مطابق کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے 2 روز کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز کو 2 مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے بعد کی گئی ۔سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ جنگی جہاز نے دونوں حملوں سے کامیابی سے بچا کیا اور علاقائی پانیوں میں گشت جاری رکھا، جبکہ حملوں میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔ حملے کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے ۔تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اردن میں موجود امریکی ایئربیس پر مبینہ میزائل حملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران امریکی جہازوں کو نشانہ بنائے گا تو اسے اپنے ٹینکرز سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔کولمبیا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی جنگی جہازوں پر حملے کی کوششوں کے ردعمل میں امریکا ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بناتا رہے گا۔دریں اثناء ایرانی عسکری قیادت نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں ایرانی نگرانی کے نظام کو مکمل طور پر فعال قرار دیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف علی عبداللہی نے واضح کیا کہ ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے جواب میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے بھی آبنائے ہرمز میں ایران کی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی جدید ٹیکنالوجی ایرانی نگرانی کے نظام کو عبور نہیں کر سکتی، آبنائے ہرمز میں ایرانی نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خلیج فارس کا کنٹرول ایران کے باصلاحیت نوجوانوں کے پاس ہے، انہوں نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو کیوبا کے ساحلوں تک محدود رہنا چاہیے۔ایرانی حکام کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے، حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں اور ایران کی جانب سے امریکی اہداف پر جوابی حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے نئی پابندیوں پر سخت تنقید کی ہے۔سوشل میڈیا پر بیان میں عراقچی نے کہا کہ 47 سال کی پابندیوں کے بعد امریکا نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کی، جس کے اثرات امریکا کے لئے خصوصا عالمی سطح پر اس کی ساکھ کے حوالے سے تباہ کن رہے۔عراقچی کے مطابق پابندیوں اور جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد واشنگٹن کا نیا حل مزید پابندیاں عائد کرنا ہے۔امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں مشرق وسطیٰ میں اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے پر غور جاری ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہونے کی صورت میں خطے میں امریکی موجودگی میں نمایاں کمی میں غور جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد امریکا نے عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں کارروائیوں کے لیے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بے پناہ وسعت دی تھی تاہم ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے مشرق وسطی میں امریکی انفراسٹرکچر کی خامیوں اور کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق فوجی اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان اس حوالے سے ہونے والی غیر رسمی بات چیت کا مقصد ایک ایسی جنگ کے بعد کے مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنا ہے جس کے بارے میں صدر کی جانب سے کوئی واضح پالیسی نہیں دی گئی۔ذرائع کے مطابق اس وقت بھی مشرق وسطی میں 50 ہزار امریکی فوجی، 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز موجود ہیں اور واپس بلائے گئے سی آئی اے اہلکاروں کو بھی دوبارہ خطے میں بھیجا جا رہا ہے۔امریکی فوج خطے میں باقی رہ جانے والے اپنے دستوں کے دفاع کو مضبوط بنانے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ دو ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ڈرون اور میزائل حملوں سے بچنے کے لیے بعض حساس تنصیبات کو زیرِ زمین منتقل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے، اگرچہ پینٹاگون طویل عرصے سے فوجی اڈوں کو زیرِ زمین منتقل کرنے پر غور کر رہا تھا لیکن ایرانی حملوں کے بعد اس منصوبے پر فوری عمل درآمد کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔ فوجی حکام نے آئندہ سال تک خطے میں امریکی فورسز کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے مختلف ممکنہ لائحہ عمل بھی تیار کر لیے ہیں۔
میزائلوں کی بارش
