ٹینکر حملوں کا اثر، برینٹ خام تیل 100 ڈالر سے اوپر
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر برقرار ہیں، جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور تیل بردار ٹینکرز پر ہونے والے حملوں کے باعث سپلائی میں مزید رکاوٹ کا خدشہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل 101.10 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً 96.24 ڈالر فی بیرل پر رہا۔ برینٹ کی قیمت اگست کے اوائل کی کم ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد بڑھ چکی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی اہم وجہ ایران اور امریکا کے درمیان بحری جہازوں پر بڑھتے حملے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکا کی جانب سے 5 ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کیے جانے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔ موجودہ صورتحال میں اس راستے سے تیل کی آمدورفت معمول کی سطح سے کافی کم ہوچکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحری حملوں اور خطے میں کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو عالمی تیل سپلائی مزید متاثر ہوسکتی ہے، جس سے قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب عالمی تیل کے ذخائر میں کمی کے باعث امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے رواں اور آئندہ سال کے لیے تیل کی قیمتوں کے اندازوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔
اسی دوران سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں میں اضافے نے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی متبادل ترسیل کو بھی خطرات سے دوچار کردیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔

