اسلام آباد (آئی این پی)وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈپٹی ڈائریکٹر شاہد حبیب پر قاتلانہ حملہ’ 2روز گزرنے کے باوجوو تھانہ صادق آباد پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا’ نامعلوم حملہ آور نے سرکاری افسر کی گاڑی کا پیچھا کرتے ہوئے اسے دو بار
روکا تاہم ٹریفک پولیس کی مداخلت پر حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا’ ڈپٹی ڈائریکٹر شاہد حبیب نے آئی جی پنجاب سے معاملہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انفارمیشن گروپ کے گریڈ18کے ڈپٹی ڈائریکٹر شاہد حبیب کی طرف سے راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں اندراج مقدمہ کیلئے دی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ 9ستمبر کی شام 6بجے جب وہ اپنے دفتر سے بحریہ ٹائون میں واقع گھر کے لئے جارہے تھے تو BVN156 نمبر کی سوزوکی سوئفٹ نے راول ڈیم چوک سے ان کا پیچھا کیا۔ فیض آباد پل پر گاڑی میں سوار نامعلوم ملزم نے انہیں روکنے کی کوشش کی تاہم وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے جبکہ مذکورہ نمبر کی گاڑی نے دوبارہ ان کا پیچھا کیا اور چاندنی چوک مری روڈ پر ان کی گاڑی کے آگے گاڑی لگا کر سڑک بلاک کردی۔ اس دوران گاڑی میں سوار نامعلوم ملزم باہر نکلا اور میری گاڑی ہونڈا سوک کا دروازہ زبردستی کھولنے کی کوشش کی تاہم میں نے گاڑی لاک کردی اور دروازہ نہیں کھولا۔ اس دوران اس نامعلوم ملزم نے میری گاڑی کی توڑ پھوڑ شروع کردی اور ٹریفک پولیس نے آکر روڈ کھلوائی اور حملہ آور بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ شاہد حبیب کے مطابق حملہ آور نوجوان منظم منصوبہ بندی کے تحت میرے پیچھے آیا اور وہ مجھے جان سے مارنا چاہتا تھا تاہم وہ اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہوا۔ دوسری جانب پولیس نے شاہد حبیب کی درخواست پر دو روز گزرنے کے باوجود تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی۔
