اسلام آباد (عادل عباسی سے)وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان
اچکزئی کے درمیان آئندہ ہفتے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں الیکشن کمیشن میں نئی تقرریوں کے علاوہ ملک میں انتخابی عمل کو مزید شفاف، قابلِ اعتماد اور مؤثر بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات پر بھی بات چیت کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقات کے لیے دونوں جانب سے رابطے شروع ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری سے متعلق خط کے جواب کے بعد سامنے آئی ہے۔ محمود اچکزئی نے بھی وزیراعظم سے مشاورت کے لیے دن اور وقت طلب کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں صرف چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرری تک معاملہ محدود رکھنے کے بجائے انتخابی نظام سے متعلق وسیع تر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص انتخابی عمل میں شفافیت، الیکشن کمیشن کی خودمختاری، سیاسی جماعتوں کے تحفظات اور آئندہ انتخابات کو زیادہ قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اصلاحات زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے رکھا جا سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن میں نئی تقرریاں آئینی طریقہ کار کے مطابق کی جائیں گی، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے انتخابی اصلاحات، ادارہ جاتی خودمختاری اور انتخابی عمل پر سیاسی جماعتوں کے اعتماد کی بحالی سے متعلق تجاویز پیش کیے جانے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ محمود خان اچکزئی نے رواں سال اگست میں وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا عمل شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپنے خط میں اپوزیشن لیڈر نے آئین کے آرٹیکل 213 اور 218 کے تحت وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کو ضروری قرار دیتے ہوئے نامزدگیوں کو حتمی شکل دینے کے لیے وزیراعظم سے فوری ملاقات کی خواہش ظاہر کی تھی۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے محمود اچکزئی کے خط کا جواب دیتے ہوئے الیکشن کمیشن میں نئی تقرریوں کے لیے آئینی طریقہ کار پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان کسی نام پر اتفاق کی صورت میں مجوزہ نام پارلیمانی کمیٹی کو منظوری کے لیے بھجوائے جائیں گے، جبکہ اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں آئینی طریقہ کار کے تحت معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے جائے گا۔ذرائع کے مطابق متوقع ملاقات میں انتخابی اصلاحات کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں گزشتہ عام انتخابات کے نتائج اور انتخابی عمل کے حوالے سے متعدد تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتخابی اصلاحات پر براہ راست سیاسی مکالمہ آئندہ انتخابات کے لیے قواعد و ضوابط، انتخابی نگرانی، نتائج کی شفافیت اور سیاسی جماعتوں کے اعتماد جیسے معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔سیاسی حلقوں کے مطابق اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان انتخابی اصلاحات پر ابتدائی اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے تو یہ معاملہ بعد ازاں پارلیمانی فورم پر بھی لے جایا جا سکتا ہے، جہاں تمام سیاسی جماعتوں کی تجاویز کو شامل کرکے انتخابی نظام میں تبدیلیوں پر بحث ممکن ہوگی۔تاہم ذرائع کے مطابق ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ارکان کی تقرری کا آئینی معاملہ بھی اہم ایجنڈے کا حصہ رہے گا۔ اس لیے یہ ملاقات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان صرف تقرریوں کے معاملے پر مشاورت کے بجائے وسیع تر سیاسی رابطے کے آغاز کا باعث بھی بن سکتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کے درمیان براہ راست ملاقات کو موجودہ سیاسی ماحول میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اچکزئی کے ساتھ مشاورت آئینی تقاضا بھی ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان سیاسی رابطے کے لیے اہم راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔اگر دونوں جانب سے انتخابی اصلاحات کے بنیادی نکات پر پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں انتخابی اداروں، سیاسی جماعتوں اور پارلیمان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک نیا فریم ورک سامنے آنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔فی الحال ملاقات کی حتمی تاریخ اور مقام کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم دونوں جانب رابطوں کے بعد آئندہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
