لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) نادرا کے نیشنل پنشنرز ویریفکیشن سسٹم کے اجرا کے بعد اب تک تین لاکھ سینتیس ہزار سے زائد پنشنرز پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ اس سہولت کا افتتاح وزیراعظم نے بیس اگست کو کیا تھا اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ پنشنرز نے پاک آئی ڈی ایپ کو ترجیح دی، جس کے ذریعے ایک لاکھ چوہتر ہزار نو سو چھ پنشنرز، یعنی تقریبا باون فیصد نے گھر بیٹھے آن لائن یہ عمل مکمل کیا۔ اس کے بعد نادرا رجسٹریشن سینٹرز کے ذریعے ایک لاکھ چونتیس ہزار پانچ سو اکیس پنشنرز، یعنی چالیس فیصد نے سرٹیفکیٹ حاصل کیے۔ ای سہولت مراکز کے ذریعے چوبیس ہزار دو سو اڑتالیس پنشنرز، یعنی سات فیصد، جبکہ موبائل رجسٹریشن وینز کے ذریعے تین ہزار پانچ سو پچاسی پنشنرز، یعنی ایک فیصد نے اس سہولت سے استفادہ کیا۔ نادرا کے ترجمان نے اس موقع پر کہا کہ اس سہولت سے اب تک تین لاکھ سینتیس ہزار سے زائد افراد استفادہ کر چکے ہیں، جو اس کی مقبولیت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی پنشنرز کی جانب سے مسلسل سوالات موصول ہو رہے ہیں، جن کا نادرا اپنی بھرپور کوشش سے جواب دے رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ان چند سہولیات میں سے ایک ہے جسے عوام نے ماضی میں پیش کی گئی دیگر خدمات کے مقابلے میں کہیں تیزی سے اپنایا ہے۔ نادرا کے مطابق پنشنرز اپنی سہولت کے مطابق آن لائن یا قریبی نادرا سروس چینل کے ذریعے پروف آف لائف مکمل کر سکتے ہیں۔ جو پنشنرز ایپ استعمال نہیں کر سکتے ان کے لیے نادرا رجسٹریشن سینٹرز، ای سہولت مراکز اور موبائل رجسٹریشن وینز کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ نادرا نے پنشنرز پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی غلط یا گمراہ کن معلومات پر توجہ نہ دیں اور صرف نادرا کے مستند ذرائع سے رجوع کریں۔ کسی شکایت یا رہنمائی کے لیے نادرا ہیلپ لائن، قریبی نادرا دفتر یا ای سہولت مرکز سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی پنشنر کا شناختی کارڈ نمبر پنشنرز کی فہرست میں شامل نہ ہو تو وہ اپنے متعلقہ محکمے سے رابطہ کرے۔
