بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اُجین میں 600 سال سے زائد قدیم شاہی مسجد کے ایک حصے کو ممکنہ طور پر منہدم کیے جانے کے خلاف سینکڑوں مسلمانوں نے احتجاج کیا اور مسجد کے اندر دھرنا دے دیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مسجد تاریخی اور مذہبی اہمیت رکھتی ہے اور اسے مسمار نہیں کیا جانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادگی کے منصوبے کے تحت ہٹانے کی تجویز ہے، جس کا مقصد 2028 میں ہونے والے سمبھاسٹھ کمبھ میلے کے دوران ٹریفک اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ مجوزہ کارروائی سے مسجد کے نماز ہال کے ایک حصے، تقریباً 120 فٹ بلند مینار اور مزہر چوک شاہی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مسجد انتظامیہ نے مجوزہ انہدام کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا تھا۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے متعلقہ درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ سڑک کشادگی کا منصوبہ قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ تاہم مسجد انتظامیہ کی جانب سے مزید قانونی کارروائی کی کوشش جاری ہے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق پولیس کی بھاری نفری اور ریپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی کے باوجود بڑی تعداد میں مسلمان مسجد میں موجود رہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ باری باری مسجد میں بیٹھ کر مجوزہ انہدام کے خلاف احتجاج جاری رکھیں گے۔

