لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ،
انسدادِ دہشت گردی ترمیمی قانون 2026 کیخلاف آئینی درخواست دائر، محمد اعجاز شفیع ایم پی اے اور شیخ امتیاز محمود ایم کی جانب سے جوڈیشل ایکٹیو ازم پینل کی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ قانون بنیادی حقوق، منصفانہ ٹرائل، عدلیہ کی آزادی اور اختیارات کی آئینی تقسیم سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتا ہے، درخواست میں خصوصی سکیورٹی مقدمات کے نام سے ایک ایسا نظام وضع کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے جس کے تحت ایک خفیہ نامزد اتھارٹی کسی مقدمے یا مقدمات کے پورے زمرے کو خصوصی سکیورٹی مقدمہ قرار دے سکتی ہے، ایسے مقدمات میں جج، سرکاری وکیل، دفاعی وکیل، پولیس افسران اور گواہوں کی شناخت مخفی رکھنے، عدالتی ریکارڈ کو سربمہر رکھنے اور کارروائی کو محفوظ مقامات، ویڈیو کانفرنسنگ یا دیگر خفیہ انتظامات کے ذریعے چلانے کی گنجائش رکھی گئی ہے، درخواست میں کہا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت دہشت گردی کے مقدمات میں سکیورٹی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پہلے ہی عدالتی تحفظات موجود ہیں، جبکہ دفعہ 21 کے تحت ضرورت کے مطابق بند کمرے میں کارروائی اور گواہوں و دیگر متعلقہ افراد کے تحفظ کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں، اسی طرح پنجاب گواہان کے تحفظ کا ایکٹ 2018 بھی گواہوں کے تحفظ کے لیے قانونی نظام فراہم کرتا ہے، درخواست کے مطابق ان موجودہ عدالتی نگرانی میں موجود طریقہ کار کے ہوتے ہوئے ایک الگ اور خفیہ انتظامی نظام قائم کرنے کی ضرورت اور تناسب کا آئینی جواز واضح نہیں کیا گیا، درخواست کی مطابق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997ء وفاقی قانون ہے، جبکہ پنجاب ترمیم کے ذریعے اس کے بنیادی عدالتی اور فوجداری طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی ہے، جس سے آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت وفاقی اور صوبائی قانون کے باہمی تعلق اور قانون سازی کے اختیار کا اہم آئینی سوال پیدا ہوتا ہے، درخواست گزاروں نے عدلیہ کی آزادی اور انتظامیہ و عدلیہ کے اختیارات کی علیحدگی کے حوالے سے متعدد آئینی اور عدالتی اصول بھی عدالت کے سامنے رکھے ہیں، درخواست گزاران کے مطابق کسی ملزم کے لیے اس عدالت، جج یا استغاثہ کی شناخت سے لاعلم رہنا جس کے سامنے اس کے خلاف فوجداری کارروائی ہو رہی ہو، آئین کے آرٹیکل 10-A میں دیئے گئے منصفانہ ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے بنیادی اصولوں سے متعلق سنگین سوال پیدا کرتا ہے، درخواست میں پاکستان کے آئینی اور قانونی اصولوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (آئی سی سی پی آر) اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں ہر شخص کے لیے آزاد، غیر جانب دار اور قانون کے مطابق قائم عدالت کے سامنے منصفانہ اور عوامی سماعت کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے، استدعا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) ایکٹ 2026ء اور اس میں شامل کی گئی دفعہ 21-اے اے اے کو آئین سے متصادم قرار دے کر اس کے نفاذ کو معطل کیا جائے اور کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک مذکورہ قانون اور اس کے تحت بنائے جانے والے خصوصی سکیورٹی مقدمات کے نظام پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا جائے۔
بریکنگ نیوز
- لاہور میں خواتین کیلئے خصوصی پولیس رسپانس یونٹ متعارف
- چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
- سرکاری ہسپتالوں میں ڈیتھ آئوٹ کا نظام غیرمؤثر ہونے کا انکشاف
- وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ کی مسجد کی توسیع کا سنگ بنیاد رکھ دیا
- لیسکو کی نادہندگان کیخلاف کارروائی، ستمبر میں42 کروڑ 8 لاکھ روپے سے زائد ریکوری
- اماراتی پرواز کا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبار
- سرکاری عازمین حج کے لئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کا آغاز کل سے ہوگا ،وفاقی وزارت مذہبی امور
- والدین کی رضامندی سے بھی بچوں کا خرچہ کم’ معاف نہیں کیا جا سکتا: ہائیکورٹ
- محکمہ اوقاف پنجاب کی زرعی و کمرشل پراپرٹی سے اربوں روپے کی آمدن قومی خزانہ انکم ٹیکس سے محروم
- فی تولہ سونا4300روپے سستا 4لاکھ 36 ہزار 336روپے کا ہوگیا
- عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی’ امریکی خام تیل کی قیمت 91.11 ڈالر فی بیرل ہوگئی
- پاکستان کا نظام زمیں بوس نہیں ہوا، اصل مسئلہ کمزور ڈیلیوری سسٹم ہے:انوار الحق کاکڑ
- الزامات کا فیصلہ پراپیگنڈے سے نہیں، شواہد اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے:پاکستان علماء کونسل
- غیرملکی لڑکی کا مبینہ گینگ ریپ کیس،ڈیانا کا آذربائیجان واپس جانے سے انکار
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وزیراعلیٰ جی بی امجد حسین کے خط پر فوری ریسپانڈ
- خضدار ،تین افراد کی لاشیں برآمد
- نیٹ فلیکس سیریز سے متاثر ہوکر بینک ڈکیتی کی:برطانوی نژاد شہری
- لاہور ہائیکورٹ،انسداد دہشت گردی ترمیمی قانون2026ء کے خلاف آئینی درخواست دائر
- جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ر ہےگا۔ پاکستان
- بانی پی ٹی آئی کا مینڈیٹ ہی پارٹی کے فیصلوں کی بنیاد ہے علی امین گنڈاپور
