امریکی محکمہ دفاع نے ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک کو مستقبل کی جنگوں کیلئے درکار ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی کا جائزہ لینے والے نئے منصوبے "پروجیکٹ میریڈیئن” کا شریک سربراہ مقرر کردیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق یہ 120 روزہ منصوبہ مستقبل کے میدانِ جنگ کا جائزہ لے گا اور اس بات کی نشاندہی کرے گا کہ امریکی فوج کو آنے والے برسوں میں کن ہتھیاروں، ٹیکنالوجیز اور دفاعی صلاحیتوں کی ضرورت ہوگی۔
ایلون مسک کے ساتھ اینڈوریل انڈسٹریز کے بانی پالمر لکی اور سابق امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر نیوٹ گنگرچ بھی منصوبے کی قیادت کریں گے۔ منصوبے میں مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، روبوٹکس، ڈائریکٹڈ انرجی اور بائیوٹیکنالوجی سمیت جدید ٹیکنالوجیز پر توجہ دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق منصوبہ صرف موجودہ جنگوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ 2030، 2050 اور 2100 تک ممکنہ جنگی حالات اور ان سے نمٹنے کیلئے درکار ٹیکنالوجی کا بھی جائزہ لے گا۔ اس کی حتمی سفارشات تقریباً 120 دن میں امریکی محکمہ دفاع کو پیش کی جائیں گی۔
ایلون مسک کیلئے یہ امریکی حکومت میں دوبارہ باضابطہ مشاورتی کردار ہے۔ وہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں DOGE منصوبے کی سربراہی کرچکے ہیں، تاہم بعد میں دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ بعد ازاں ٹرمپ اور مسک کے تعلقات میں دوبارہ بہتری آئی۔
مسک کی کمپنی اسپیس ایکس پہلے ہی امریکی محکمہ دفاع کے اہم معاہدوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ پالمر لکی کی کمپنی اینڈوریل بھی امریکی دفاعی شعبے کو مختلف خودکار اور الیکٹرانک جنگی نظام فراہم کرتی ہے۔