لاہور(جنرل رپورٹر) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی تعلیمی و تحقیقی پیش رفت کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پی ایچ ڈی اور ایم فل طلبہ کی سست پیش رفت پر سپروائزرز کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیدیا۔یہ فیصلہ ایڈوانسڈ سٹڈیز اینڈ ریسرچ بورڈ کے 231ویں اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت وائس چانسلر میجر جنرل (ر) پروفیسر سہیل صابر نے کی۔ اجلاس میں پوسٹ گریجویٹ تعلیم، تھیسسز، تحقیق، ٹائم بارڈ طلبہ اور امتحانی امور کا جائزہ لیا گیا۔وائس چانسلر نے ہدایت کی کہ ہر پوسٹ گریجویٹ طالب علم کی تعلیمی و تحقیقی پیش رفت کی سہ ماہی رپورٹ تیار کی جائے تاکہ تاخیر کی بروقت نشاندہی اور ڈگری کی مقررہ مدت میں تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔پروفیسر سہیل صابر نے واضح کیا کہ سست پیش رفت کا ذمہ دار صرف طالب علم کو قرار نہیں دیا جا سکتا سپروائزر بھی برابر کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے سپروائزرز کو طلبہ کی موثر رہنمائی، تحقیق کی نگرانی اور مقررہ اہداف کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں توسیع حاصل کرنے والے طلبہ کی ماہانہ مانیٹرنگ کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی ایسے طلبہ کی حاضری، تعلیمی کارکردگی اور تحقیقی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لے گی۔ بورڈ نے مختلف شعبوں میں تھیسز اور امتحانی امور کا جائزہ لینے کے ساتھ پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کے لیے نئے امتحانی ماہرین کے پینلز پر بھی غور کیا۔ بنیادی علوم کے لیے 1,186، ڈینٹل سائنسز 438، کلینیکل سائنسز 2,078، نرسنگ سائنسز 122 اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے لیے 38 ماہرین کے پینلز شامل ہیں۔ اجلاس میں جدید تحقیقی موضوعات، جن میں MDR/XDR Klebsiella pneumoniae، گولڈ نینو پارٹیکلز کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات اور خون کے فلم کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ورچوئل اسٹیئنگ سسٹم شامل ہیں، کے ابتدائی تحقیقی خاکہ جات بھی زیر غور آئے۔وائس چانسلر نے ہدایت کی کہ پوسٹ گریجویٹ طلبہ سے متعلق فیصلوں پر شفاف اور مسلسل مانیٹرنگ کے ذریعے عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تحقیق کا معیار بہتر ہو، غیر ضروری تاخیر ختم ہو اور طلبہ اپنی ڈگریاں مقررہ مدت میں مکمل کر سکیں۔
