اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور پیر مہر علی شاہ ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کے درمیان پاکستان میں کینابس کے ابھرتے ہوئے شعبے میں سائنسی تحقیق، تکنیکی تعاون اور ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ مفاہمتی یادداشت پر ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی کی جانب سے پروفیسر ڈاکٹر عابدہ رضا جبکہ سی سی آر اے کی جانب سے ڈائریکٹر آصف ہارون نے دستخط کیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل سی سی آر اے میجر جنرل (ر) ظفراللہ خان ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور وائس چانسلر پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان بھی موجود تھے۔اس شراکت داری کا بنیادی مقصد سائنسی تحقیق اور ریگولیٹری نظام کے درمیان مثر رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ مستند سائنسی شواہد اور قابلِ اعتماد نتائج کی بنیاد پر سی سی آر اے کو ریگولیٹری فیصلوں میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ دونوں ادارے معیاری جانچ، ذمہ دارانہ تحقیق اور سائنسی و تکنیکی استعداد کار میں اضافے کے لیے اپنی مہارت، وسائل اور تکنیکی معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ اس اشتراک کے تحت کینابینوئڈز کی شناخت اور مقدار کے تعین، تجزیاتی طریقہ ہائے کار کی تیاری اور توثیق، کیمیائی تجزیے، اور کینابس کی حیاتیات، جینیات، بائیوٹیکنالوجی اور حیاتیاتی طور پر مثر مرکبات پر تحقیق بھی کی جائے گی۔ڈائریکٹر جنرل سی سی آر اے میجر جنرل (ر) ظفراللہ خان ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے اس مفاہمتی یادداشت کو ابھرتے ہوئے صنعتی شعبے کے لیے سائنسی بنیادوں پر ایک مثر نظام کی تشکیل میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مثر ریگولیٹری نگرانی کے لیے قابلِ اعتماد سائنسی شواہد، معیاری ٹیسٹنگ اور مضبوط ادارہ جاتی استعداد کار بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔معاہدے کے تحت تعاون کے اہم شعبوں میں کینابس کی حیاتیات اور بائیوٹیکنالوجی پر مشترکہ تحقیق، پودوں، ان کے عرق اور دیگر مشتقات کی جانچ و تجزیہ، تجزیاتی طریقہ ہائے کار کی تیاری اور توثیق، کینابینوئڈز کی شناخت و مقدار کا تعین، ریگولیٹری فیصلوں کے لیے سائنسی معاونت اور سی سی آر اے کی لیبارٹریوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تکنیکی تربیت شامل ہیں۔اس موقع پر وائس چانسلر پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے اس معاہدے کو ریگولیٹری نظام اور سائنسی ترقی کو باہم مربوط کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے ایس ایریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی اور سی سی آر اے کے درمیان یہ شراکت داری ریگولیٹری نگرانی اور جدید سائنسی تحقیق و جدت کا امتزاج ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام یونیورسٹی کے اس عزم کا عکاس ہے کہ وہ اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو قومی ترجیحات اور ابھرتے ہوئے سائنسی و صنعتی شعبوں کی ترقی کے لیے بروئے کار لائے گی اور تعلیمی و تحقیقی اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی۔
