اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے قومی خزانے سے تمام ریٹائر چیف جسٹس صاحبان کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں( ایس یو ویز) کی فراہمی کی منظوری دے دی ہے، جس کا اطلاق ریٹائر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ہوگا۔ وفاقی حکومت کے مو¿قف میں یہ تبدیلی حیران کن ہے کیونکہ وہ اس سے قبل سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے بلٹ پروف گاڑی واپس لینے کی کوشش کررہی تھی۔تاہم حالیہ تبدیلی 5 ستمبر 2016 کو حکومت کے سابقہ موقف میں دیکھی گئی، جب وزیراعظم نے فیصلہ کیا تھا کہ تمام سابقہ چیف جسٹس کو 2400 سی سی کی بلٹ پروف ایس یو ویز فراہم کی جائیں گی۔ یہ انکشاف کابینہ ڈویژن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کو پیش کی گئی ایک سمری میں کیا گیا جو حکومت کی جانب سے جسٹس افتخار محمد چوہدری سے بلٹ پروف گاڑی کی واپسی کے حوالے سے دائر ایک اپیل کی سماعت کررہی تھی۔ وزیراعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد کی جانب سے دستخط کی گئی سمری کے مطابق ‘چیف جسٹس آف پاکستان کا دفتر ایک منفرد دفتر ہے جس کو تمام شکلوں میں تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ سمری میں کہا گیا ہے کہ ‘چیف جسٹس کے فرائض کی نوعیت، خاص طور پر دہشت گردی اور جرائم کے مقدمات کی سماعت کے حوالے سے، کے مطابق انھیں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کچھ خاص قسم کی بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ تمام چیف جسٹس کو 2400 سی سی کی ایک گاڑی فراہم کی جائے جس کا اطلاق سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ہوگا۔ یہ سہولت چیف جسٹس کو ان کی پوری زندگی کیلئے حاصل ہوگی جبکہ اس کے تمام اخراجات کو مکمل کرنا سپریم کورٹ آف پاکستان کی ذمہ دار ہو گا’۔ سمری کے مطابق ‘اسی طرح کی دو گاڑیاں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی اور ناصر الملک کو بھی فراہم کی جائیں گی’۔ تاہم بعد میں 4 اکتوبر 2016 کو سیکریٹری فواد حسن فواد کی جانب سے سمری میں ترمیم کا ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں ‘ریٹائر جسٹس جواد ایس خواجہ کا نام ریٹائر جسٹس ناصر الملک کے بعد سمری میں شامل کردیا گیا’۔ سمری میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زیر استعمال موجودہ بلٹ پروف گاڑی ان سے واپس لے کر انھیں نئی گاڑی فراہم کی جائے گی۔ گزشتہ روز اسلام آباد نے وفاقی حکومت افتخار محمد چودھری اور نجی وکیل ریاض حنیف راہی کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔
اہم سابق افسران کیلئے بلٹ پروف گاڑیاں, بڑی منظوری دیدی گئی
