Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پنجاب نے مقامی اور عالمی کرکٹ ستاروں کے ساتھ چیمپئنز کرکٹ لیگ کا آغاز
    • روپے کی قدر میں مزید کمی,ڈالر 277، کینیڈین ڈالر 200 کے قریب
    • امریکا نے چینی اے آئی کمپنیوں پر مبینہ ماڈل ڈسٹلیشن کے الزام میں پابندیوں کی دھمکی دے دی
    • * بحیرۂ احمر کشیدگی، تیل 100 ڈالر سے اوپر
    • درفشاں سلیم نے بھارت کے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
    • وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں انگریزی اور کیمسٹری پڑھانے کا اعلان۔
    • مون سون بارشوں سے پنجاب میں 21 افراد جاں بحق، 154 زخمی۔
    • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یورپی معیار کا پہلا طیارہ مرمت مرکز قائم کیا جائے گا۔
    • لاہور کے ایل ڈی اے اسپورٹس کمپلیکس میں تیراکی کے دوران ایک شخص جاں بحق۔
    • چین کے دورے پر وزیراعظم شہباز شریف کو کھلونا راکٹ اسحاق ڈار کو چمڑے کی بیلٹ تحفے میں دے دی
    • یونیسکو نے تاریخی قلعہ روہتاس کی بحالی کے کام پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
    • کرائم انڈیکس 2026: اسلام آباد اور لاہور، لندن، پیرس اور نیویارک سے زیادہ محفوظ قرار۔
    • پنجاب حکومت نے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کا نام تبدیل کر دیا
    • امریکی خفیہ فوجی ٹیکنالوجی تک اسرائیل کی رسائی کے حق میں ریپبلکنز کی حمایت
    • پاکستان میں کانگو وائرس کا دوسرا کیس رپورٹ
    • پٹرول، ڈیزل ٹرانسپورٹرز نے ترسیلی نرخوں پر شٹ ڈاؤن کی دھمکی دے دی۔
    • میسی کو 2026 فیفا ورلڈ کپ کا بہترین کھلاڑی قرار دے دیا گیا
    • ایف آئی اے کا پاسپورٹ ایجنٹ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن، 18 افراد گرفتار
    • وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں روبوٹکس ایکسپو کا افتتاح کر دیا
    • دی اوول WTC 2027 کے فائنل کی میزبانی کرے گا
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ایرانی میزائل سعودی عرب نے بھی گرائے، اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    By Khabrain Newsاپریل 16, 2024
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ جہاں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اردن نے اسرائیل پر داغے گئے ایرانی میزائلوں کو روکا وہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیل کی حملہ ناکام بنانے میں مدد کی۔

    اسرائیلی اخبار ”ٹائمز آف اسرائیل“ نے امریکی اخبار ”وال اسٹریٹ جرنل“ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کئی خلیجی ریاستوں نے جن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، اسرائیل پر حملے کے ایرانی منصوبوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، ان معلومات نے حملے کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا۔

    دوسری جانب ایک اور اسرائیلی اخبار ”یروشلم پوسٹ“ نے سعودی شاہی خاندان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ان ملک کے پاس موجود دفاعی نظام نے اپنی فضائی حدود سے گزرنے والی مشکوک فضائی اشیاء خودکار طریقے سے روکا۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ایرانی حملہ روکنے کیلئے اسرائیل کے ساتھ تعاون کی قیادت امریکہ نے کی۔

    ہفتے اور اتوار کی رات ایران نے اسرائیل پر 300 سے زائد ڈرونز کے ساتھ ساتھ بیلسٹک اور کروز میزائل داغے۔ جن میں سے زیادہ تر اسرائیل کے اتحادیوں نے مار گرائے جبکہ چند ایک جو اسرائیل میں گرے وہ کوئی خاطر خواہ نقصان نہ پہنچا سکے۔

    جرنل کی رپورٹ نے پہلی بار پورے خطے میں پھیلی ہوئی مشترکہ سرگرمیوں کے دائرہ کار کا انکشاف کیا، جس کے مطابق اسرائیل کو بچانے کی اس کارروائی میں وہ ممالک بھی شامل رہے جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اردن نے اپنی فضائی حدود سے گزرنے والے ایرانی ڈرونز کو گرانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

    رپورٹ میں حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اتنے زیادہ ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے میں کامیابی عرب ممالک کو ایرانی منصوبے کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی فضائی حدود کے استعمال اور ریڈار سے باخبر رہنے کی سہولت فراہم کرنے کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ کئی مواقع پر عرب افواج نے خطرات کو روکنے میں فعال کردار ادا کیا اور ’مدد کے لیے اپنی فوجیں فراہم کیں‘، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن ایسا کرنے والا واحد عرب ملک نہیں تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب اور ’دیگر اہم عرب حکومتوں‘ کی طرف سے ادا کیے گئے کردار پر مکمل خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔

    سعودی اور مصری حکام نے جرنل کو بتایا کہ یکم اپریل کے حملے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد، امریکی حکام نے عرب حکومتوں پر ایران کے انتقامی منصوبوں اور حملے کو روکنے میں مدد کے لیے انٹیلی جنس کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کیا۔

    شروع میں، کچھ عرب حکومتیں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں، اس ڈر سے کہ اسرائیل کی مدد کرنے سے وہ ایران کے ساتھ براہ راست تنازعہ میں آجائیں گی یا جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس کے علاوہ، کچھ لوگ اس مدد کو غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی مدد کے طور پر دیکھے جانے کے بارے میں محتاط تھے۔

    تاہم، بالآخر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نجی طور پر معلومات فراہم کرنے پر اتفاق کیا جبکہ اردن نے امریکہ اور ”دوسرے ممالک کے جنگی طیاروں“ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا۔

    حکام کے مطابق اردن نے یہ بھی کہا کہ وہ میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے اپنے جیٹ طیارے استعمال کرے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے سے دو دن قبل ایرانی حکام نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کو اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی اور اس کے وقت کے بارے میں بتایا تھا تاکہ وہ ممالک اپنی فضائی حدود کو محفوظ بنا سکیں۔ یہ معلومات امریکہ کو دی گئیں، جس میں امریکہ اور اسرائیل کے دفاعی منصوبوں کی اہم تفصیلات فراہم کی گئیں۔

    ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے جرنل کو بتایا کہ جیسے ہی حملے کا وقت قریب آیا، واشنگٹن نے علاقے میں طیاروں اور میزائلوں کے دفاعی نظام کی تعیناتی اور اسرائیل اور عرب حکومتوں کے درمیان دفاع کو مربوط کرنے کا حکم دیا۔

    رپورٹ کے مطابق قطر میں امریکی آپریشن سینٹر اور خلیج فارس کے ممالک میں ریڈاروں کے ذریعے میزائلوں اور ڈرونز کو فوری طور پر ٹریک کیا گیا۔ یہ معلومات اردن اور دیگر ممالک کے اوپر فضا میں موجود ”کئی ممالک“ کے لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں اور اسرائیل کے میزائل ڈیفنس یونٹس تک پہنچائی گئیں۔

    حکام نے بتایا کہ جیسے ہی ڈرون رینج کے اندر آئے انہیں زیادہ تر اسرائیلی اور امریکی افواج نے مار گرایا، کچھ کو اردنی، برطانوی اور فرانسیسی جنگی طیاروں نے مارا۔

    ایک امریکی اہلکار نے جریدے کو بتایا کہ حملے کے دوران ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب 100 سے زائد ایرانی بیلسٹک میزائل بیک وقت فضا میں تھے اور اسرائیل کی طرف بڑھ رہے تھے، لیکن اکثریت کو اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے اپنی سرحدوں کے باہر ہی مار گرایا۔

    امریکی حکام نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آدھے ایرانی بیلسٹک میزائل یا تو لانچ ہونے میں ناکام رہے یا اسرائیل کے قریب کریش لینڈ کر گئے۔

    دو امریکی حکام نے اے بی سی نیوز کو اس اعدادوشمار کی تصدیق کی۔

    اس رپورٹ کے مطابق ، پانچ میزائلوں نے نیواتیم ایئر بیس کو معمولی نقصان پہنچایا، جس میں ایک C-130 ٹرانسپورٹ ہوائی جہاز اور خالی پڑی اسٹوریج کی سہولیات متاثر ہوئیں۔

    اسرائیل نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک ٹیکسی وے کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے۔

    جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے آپریشن میں 70 ڈرونز استعمال کئے، جبکہ دو گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز نے چھ میزائلوں کو روکا۔

    یک امریکی اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ عراق کے اربیل کے قریب امریکی پیٹریاٹ سسٹم نے بھی ایک بیلسٹک میزائل کو نشانہ بنایا۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      امریکا نے چینی اے آئی کمپنیوں پر مبینہ ماڈل ڈسٹلیشن کے الزام میں پابندیوں کی دھمکی دے دی

      * بحیرۂ احمر کشیدگی، تیل 100 ڈالر سے اوپر

      امریکی خفیہ فوجی ٹیکنالوجی تک اسرائیل کی رسائی کے حق میں ریپبلکنز کی حمایت

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.