انسانیت کی تباہی کے خطرے سے نزدیک ہونے کی پیمائش کرنے والی ‘ڈومس ڈے کلاک’ کو ایک سیکنڈ آگے بڑھا کر ’89 سیکنڈ ٹو مڈ نائٹ’ تک لے جایا گیا ہے، جو اب تک کا سب سے قریب وقت ہے۔
ڈومس ڈے کلاک پر آدھی رات یعنی مڈ نائٹ کا وقت اصل میں عالمی تباہی کی علامت ہے، جیسے ایٹمی جنگ یا ماحولیاتی تباہی، اس کا مقصد کسی مخصوص واقعہ کی پیش گوئی کرنا نہیں ہے بلکہ موجودہ خطرات کی شدت اور ممکنہ نتائج کو اجاگر کرنا ہے۔
یہ گھڑی اس بات کی ایک استعاراتی نمائندگی ہے کہ انسانیت تباہی سے کتنے قریب ہے، اسے جوہری سائنسدانوں کے بلیٹن کے لیے آرٹسٹ مارٹل لینگسڈورف نے 1947 میں تخلیق کیا۔
یہ گھڑی ان سائنسدانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متاثر ہو کر بنائی گئی جنہوں نے مین ہٹن پروجیکٹ پر کام کیا تھا اور جوہری ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے کی فوری ضرورت کے بارے میں فکر مند تھے۔
ایٹمی جنگ، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی خطرات، اور تباہ کن ٹیکنالوجی جیسے خطرات سے آگاہ کرنے کے لیے گھڑی آدھی رات (مڈ نائٹ) تک الٹی گنتی کا استعمال کرتی ہے۔
گھڑی کا اصل وقت 1947 میں 7 منٹ ٹو مڈ نائٹ سے شروع کیا گیا تھا جو اب بڑی حد تک کم ہوچکا ہے، پچھلے سال اس کے 90 سیکنڈ پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔
ہر سال، بلیٹن کا سائنس اور سیکیورٹی بورڈ، نوبل انعام یافتہ افراد کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد گھڑی کے وقت کا تعین کرتا ہے۔
بلیٹن آف دی اٹامک سائنٹسٹس (BAS) جو سالانہ گھڑی کا تعین کرتا ہے، نے کہا کہ جوہری خطرات، حیاتیات اور مصنوعی ذہانت میں پیش رفت کے ممکنہ غلط استعمال کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی اس گھڑی کو ایک سیکنڈ آگے کرنے کے کلیدی عوامل تھے۔
بلیٹن کے سائنس اور سیکورٹی بورڈ کے سربراہ ڈینیل ہولز نے کہا کہ تازہ ترین اقدام ‘تمام عالمی رہنماؤں کے لیے ایک انتباہ’ ہے اور ‘گھڑی کو مڈ نائٹ کے ایک سیکنڈ کے قریب سیٹ کرنے سے ہم ایک سخت سگنل بھیج رہے ہیں’۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘چونکہ دنیا پہلے ہی خطرناک حد تک خطرے سے دوچار ہے، اس لیے ایک سیکنڈ کی حرکت کو بھی انتہائی خطرے کی علامت کے طور پر لیا جانا چاہیے اور ایک غیر متزلزل انتباہ کہ راستہ بدلنے میں ہر سیکنڈ کی تاخیر سے عالمی تباہی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں’۔
بی اے ایس نے کہا کہ امریکا، چین اور روس کے پاس ‘تہذیب کو تباہ کرنے کی اجتماعی طاقت ہے، تینوں ممالک پر ‘دنیا کو تباہی کے دہانے سے پیچھے ہٹانے کی اولین ذمہ داری عائد ہوتی ہے’۔

