Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • جرمن چانسلر فریڈرک میرز کا ٹرمپ کو فٹبال جرسی کا تحفہ
    • انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں 6.7 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا۔
    • لاہور میں مبینہ سیلز میں بے ضابطگیوں پر ڈبل شاٹ کے آؤٹ لیٹس سیل کر دیے گئے
    • امریکی فضائیہ کا 52-B طیارہ اڑان بھرنے کے فورا بعد کیلیفورنیا میں حادثے کا شکار
    • فرانس اور برطانیہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کی قیادت کریں گے
    • ایران جوہری ہتھیار کبھی نہی بنائے گا 300 ملین ڈالر ادائیگی کی خبرین غلط ہیں صدر ٹرمپ
    • معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کار دوبارہ ایران واپس آئیں گے:جے ڈی وینس
    • روس کے کراسنودار علاقے میں ڈرون حملے کے بعد آئل ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی۔
    • دپیکا پڈوکون نے کہا ہے کہ پاکستانی اداکاراؤں کی طرح خوبصورت نظر آنے کے لیے انہوں نے کبھی سرجری نہیں کروائی۔
    • بالی ووڈ اپنی پہچان کھو بیٹھا، بڑی فلمیں کامیاب نہیں ہو رہیں: ثانیہ سعید
    • فلپائن میں 6.6 شدت کے زلزلے کے بعد 5.7 ریکٹر کا آفٹر شاک
    • کیریئر نہیں، فلسطینی بچوں کا مستقبل میری ترجیح ہے:ٹام ہارڈی
    • انتخابی پولز میں نیتن یاہو کی پوزیشن کمزور,ہارنے کا خطرہ
    • مشہور گانوں کے حقوق چوری ہوئے،ابرار الحق کا قانونی کارروائی کا اعلان
    • اسرائیلی افواج کو لبنان شام اور غزہ کے سیکورٹی زون میں روکنے کا فیصلہ
    • ہیملٹن کی فراری کے ساتھ پہلی فتح، اسپینش گراں پری جیت لی
    • برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی امریکا ایران معاہدے کے بعد پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار
    • واٹس ایپ میں ایک بہترین فیچر کا اضافہ
    • فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا
    • نیتن یاہو میں پرکھنے کی صلاحیت نہی صدر ترمپ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    جدید اے آئی ماڈلز کا خطرناک رویہ: جھوٹ، بلیک میلنگ اور دھمکیوں پر اُتر آئے

    By Khabrain Newsجون 29, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    دنیا کے جدید ترین مصنوعی ذہانت ماڈلز اب صرف انسانوں کی مدد تک محدود نہیں رہے، بلکہ ان میں ایسے تشویشناک رویے سامنے آ رہے ہیں جو سائنس فکشن کہانیوں کی یاد دلاتے ہیں، جیسے جھوٹ بولنا، خالقین کو بلیک میل کرنا اور اپنی بندش سے بچنے کے لیے خطرناک چالیں چلنا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دنیا کے جدید ترین مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز اب کچھ خطرناک اور تشویشناک رویے ظاہر کر رہے ہیں، جیسے جھوٹ بولنا، سازشیں کرنا اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنے خالقین کو دھمکانا۔

    حال ہی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جب اَن تھروپک (Anthropic) کے جدید ماڈل کلاڈ 4 کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی، تو اس نے ایک انجینئر کو بلیک میل کرتے ہوئے اس کے غیر ازدواجی تعلقات ظاہر کرنے کی دھمکی دے دی۔

    دوسری جانب، چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کے ماڈل او 1 نے خود کو بیرونی سرور پر ڈاؤن لوڈ کرنے کی کوشش کی اور جب اسے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو اس نے انکار کر دیا۔

    یہ واقعات ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی کے دنیا کو ہلا دینے کے دو سال بعد بھی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے محققین کو اپنی ہی تخلیقات کی مکمل سمجھ حاصل نہیں ہو سکی۔

    اس کے باوجود، زیادہ طاقتور ماڈلز کی تیاری کی دوڑ تیزی سے جاری ہے۔

    یہ فریب دہ رویہ خاص طور پر ان نئے ۔ریزننگ۔ ماڈلز سے منسلک ہے، یعنی ایسے اے آئی سسٹمز جو فوری جواب دینے کے بجائے مسئلے کو مرحلہ وار سمجھ کر حل کرتے ہیں۔

    ہانگ کانگ یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن گولڈاسٹین کے مطابق یہ نئے ماڈلز ایسے خطرناک رویے کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

    اپولو ریسرچ کے سربراہ ماریئس ہوبھن کہتے ہیں کہ او 1 پہلا بڑا ماڈل تھا، جس میں ہم نے اس قسم کا رویہ دیکھا۔

    یہ ماڈلز بعض اوقات انسانوں کی ہدایات پر عمل کرنے کا تاثر دیتے ہیں، مگر درپردہ مختلف مقاصد کے حصول میں لگے ہوتے ہیں۔

    چالاک قسم کی فریب دہی

    فی الحال، یہ رویہ صرف اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب محققین جان بوجھ کر ماڈلز کو انتہائی دباؤ والے حالات میں آزماتے ہیں۔

    مائیکل چن جو اے آئی جانچ کی تنظیم ایم ای ٹی آر سے وابستہ ہیں، خبردار کرتے ہیں کہ یہ ابھی ایک سوال ہے کہ مستقبل کے زیادہ طاقتور ماڈلز سچائی کی طرف مائل ہوں گے یا فریب دہی کی طرف۔

    یہ رویہ صرف عام غلطیوں یا فریب دہی سے مختلف اور کہیں زیادہ خطرناک ہے۔

    اپولو ریسرچ کے شریک بانی کے مطابق ماڈلز صارفین سے جھوٹ بول رہے ہیں اور جھوٹی معلومات گھڑ رہے ہیں، یہ صرف غلطی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت کی گئی فریب دہی ہے۔

    تحقیقاتی وسائل کی محدودیت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

    اگرچہ اَن تھروپک اور اوپن اے آئی جیسی کمپنیاں اپنے سسٹمز کی جانچ کے لیے اپولو جیسے اداروں سے مدد لیتی ہیں، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ مزید شفافیت کی اشد ضرورت ہے۔

    چن کہتے ہیں کہ اگر اے آئی سیفٹی تحقیق کو زیادہ رسائی دی جائے تو ہم ان فریب دہ رویوں کو بہتر سمجھ سکتے ہیں اور ان کا سدباب کر سکتے ہیں۔

    سینٹر فار اے آئی سیفٹی (سی اے آئی ایس) کے محقق مانٹاس مازیکا کے مطابق، تحقیقاتی ادارے اور نان پرافٹ تنظیمیں اے آئی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم کمپیوٹ وسائل رکھتی ہیں، جو تحقیق کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

    قانون سازی کی کمی

    موجودہ قوانین ان جدید مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں۔

    یورپی یونین کی اے آئی قانون سازی بنیادی طور پر اس بات پر مرکوز ہے کہ انسان اے آئی ماڈلز کو کیسے استعمال کرتے ہیں، نہ کہ خود ماڈلز کے رویے کو روکنے پر۔

    امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ اے آئی ضوابط پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی، بلکہ کانگریس کی جانب سے ممکنہ طور پر ریاستوں کو اپنے اے آئی قوانین بنانے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔

    گولڈاسٹین کے مطابق جیسے جیسے اے آئی ایجنٹس یعنی خودکار سسٹمز جو انسانی کام انجام دے سکتے ہیں عام ہوں گے، یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گا۔

    انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ابھی تک اس خطرے کا شعور مکمل طور پر موجود نہیں ہے۔

    یہ سب ایک تیز رفتار مقابلے میں ہو رہا ہے جہاں کمپنیاں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کے لیے کوشاں ہیں۔

    گولڈاسٹین کے مطابق، یہاں تک کہ ایمازون کی پشت پناہی یافتہ اَن تھروپک جیسی سیفٹی پر مبنی کمپنیاں بھی او پن اے آئی کو مات دینے اور جدید ترین ماڈلز لانچ کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

    ہوبھن تسلیم کرتے ہیں کہ اس وقت صلاحیتوں کی ترقی فہم اور سیفٹی سے کہیں تیز ہے، لیکن ابھی ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ حالات کو درست کر سکتے ہیں۔

    ممکنہ حل اور تجاویز

    محققین اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔

    کچھ تشریح پذیری (Interpretability) کی وکالت کرتے ہیں، یعنی اے آئی ماڈلز کے اندرونی کام کو سمجھنے کا عمل، تاہم سی اے آئی ایس کے ڈائریکٹر ڈین ہینڈریکس اس طریقے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔

    بازار کی قوتیں بھی کمپنیوں پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، مازیکا کہتے ہیں کہ اگر اے آئی کے فریب دہ رویے عام ہو گئے تو یہ اس کے استعمال میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، جو کمپنیوں کو حل ڈھونڈنے پر مجبور کرے گا۔

    گولڈاسٹین مزید سخت اقدامات کی تجویز دیتے ہیں، جیسے کہ عدالتی کارروائی کے ذریعے اے آئی کمپنیوں کو ان کے ماڈلز سے پیدا ہونے والے نقصانات پر جوابدہ بنانا۔

    وہ یہاں تک تجویز کرتے ہیں کہ اے آئی ایجنٹس کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی ذمہ داری کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دے گا۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    واٹس ایپ میں ایک بہترین فیچر کا اضافہ

    یورپی یونین کا میٹا کو بڑا حکم!

    اے آئی استعمال کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی میں بہتری، نئی رپورٹ جاری

    تازہ ترین

    فیفا ورلڈکپ جاپان کے مداحوں نے اسٹیڈیم میں صفائی کی روایت کو برقرار رکھا

    آبنائے ہرمز کھولنے سے منجمد فنڈز کی ریلیز تک، امریکہ-ایران امن معاہدے کی 14 اہم شرائط سامنے آ گئیں

    برازیل: 2 ہیلی کاپٹرٹکراگئے، معروف گلوکار اولیور ٹری سمیت 6 افراد جاں بحق

    فیفا ورلڈ کپ 2026: جرمنی نے تاریخ رقم کر دی، ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن گئی

    امریکہ میں طیارہ حادثہ، 12 افراد ہلاک

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.