اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کے انداز اور سفارتی لہجے میں تبدیلی کی ضرورت ہے، لیکن بنیادی پالیسی اور اس کی سمت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق موجودہ حکومت کا سخت اور ٹکراؤ پر مبنی سفارتی انداز اسرائیل کے عالمی تعلقات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ وہ زیادہ متوازن اور سفارتی زبان کے استعمال کی حمایت کرتے ہیں، تاہم وہ اسرائیل کی بنیادی سکیورٹی اور علاقائی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی یہ پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی اختلافات زیادہ تر "اسلوب” تک محدود ہیں، جبکہ بنیادی خارجہ پالیسی خصوصاً سکیورٹی اور علاقائی امور پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے۔

