گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ اور مٹی کے ریلوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے مختلف اضلاع میں سڑکوں، پلوں، بجلی کے نظام، زرعی اراضی اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے ضلع نگر کی ہوپر اور ہسپر وادیوں کے لیے گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (GLOF) کا الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ضلع غانچھے میں سیلابی ریلوں نے رابطہ سڑکوں، پلوں اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، جبکہ ہُشے نالے پر معلق پل زیرِ آب آ گیا۔ قراقرم ہائی وے بھی خنجراب کے قریب کچھ وقت کے لیے بند رہی، جس کے باعث مقامی افراد، سیاح اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں، تاہم بعد میں ٹریفک بحال کر دی گئی۔
ریسکیو 1122 اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں اور سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور گلیشیئرز کے قریب جانے سے گریز کریں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جاری ہے جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

