دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی مجموعی دولت میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کی دولت، جو جون 2026 میں 1.45 ٹریلین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر تقریباً 695 سے 715 ارب ڈالر کے درمیان رہ گئی ہے، یعنی تقریباً 750 ارب ڈالر کی کمی۔
اس بڑی گراوٹ کی بنیادی وجہ Tesla اور SpaceX کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی بتائی جا رہی ہے۔ خاص طور پر SpaceX کے شیئرز اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 50 فیصد تک گر چکے ہیں، جبکہ Tesla کے حصص بھی کمزور مالی نتائج اور سرمایہ کاروں کے خدشات کے باعث مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایلون مسک کی دولت کا بڑا حصہ ان کی کمپنیوں کے شیئرز پر مشتمل ہے، اس لیے حصص کی قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی ان کی مجموعی دولت پر اربوں ڈالر کا اثر ڈالتی ہے۔ اگرچہ ان کی دولت میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وہ اب بھی دنیا کے امیر ترین افراد میں سرفہرست شمار ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ کمی کے باوجود ایلون مسک کی دولت دنیا کے بیشتر ارب پتیوں سے کئی گنا زیادہ ہے، تاہم یہ کمی حالیہ برسوں میں کسی ایک فرد کی دولت میں آنے والی سب سے بڑی کمیوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

