نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطین کی آزادی کے لیے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ متحد ہو کر مشترکہ اور مؤثر اقدامات کریں۔ انہوں نے یہ بات مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اسحاق ڈار نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی گروہوں کے داخلے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے عرب اور مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور اسلامی مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے اپنے اتحاد کو مزید مضبوط بنائیں اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔
وزیر خارجہ نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں خوراک، صاف پانی، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ تک انسانی امداد کی فوری اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنائی جائے اور فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ فلسطین کے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق منصفانہ، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
