امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزے معطل کرنے کی پالیسی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
مین ہٹن کی امریکی ڈسٹرکٹ جج جینیٹ ورگاس نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ پالیسی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیار سے تجاوز کرتی ہے۔ عدالت نے پالیسی کو واضح طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی امیگریشن قانون وزیر خارجہ کو قونصلر افسران کے امیگرنٹ ویزا سے متعلق فیصلوں پر اس نوعیت کا اختیار نہیں دیتا۔
یہ پالیسی امریکی محکمہ خارجہ نے رواں سال جنوری میں متعارف کرائی تھی، جس کے تحت 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا کے اجرا یا پراسیسنگ کو معطل کیا گیا تھا۔ اس اقدام سے لاطینی امریکا، بلقان، جنوبی ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور کیریبین کے متعدد ممالک متاثر ہوئے۔
جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بنگلہ دیش بھی ان ممالک میں شامل تھے جن کے شہری اس پابندی سے متاثر ہوئے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس وقت مؤقف اختیار کیا تھا کہ فہرست میں شامل ممالک کے بعض ویزا درخواست گزاروں کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ امریکا پہنچنے کے بعد حکومتی وسائل پر انحصار کرسکتے ہیں اور ’’پبلک چارج‘‘ بننے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر انتظامیہ نے امیگرنٹ ویزا کی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متاثرہ درخواست گزاروں نے اس پالیسی کو عدالت میں چیلنج کردیا۔ مقدمے میں ایسے امریکی شہری بھی شامل تھے جو متاثرہ ممالک سے اپنے خاندان کے افراد کو امریکا بلانے کے لیے امیگرنٹ ویزا اسپانسر کررہے تھے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ حکومت کی جانب سے ویزا پالیسی میں اس طرح کی وسیع پابندی قانونی اختیارات سے تجاوز ہے اور اس سے خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد قرار دیا کہ امریکی امیگریشن قوانین وزیر خارجہ کو قونصلر افسران کے امیگرنٹ ویزا فیصلوں پر اس نوعیت کا اختیار نہیں دیتے۔ جج جینیٹ ورگاس کے فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی مذکورہ پالیسی کو ایک اہم قانونی دھچکا لگا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقتدار میں آنے کے بعد امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی اختیار کی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کا مقصد امریکا کی داخلی سلامتی بہتر بنانا اور حکومتی وسائل پر دباؤ کم کرنا ہے۔
دوسری جانب تارکین وطن کے حقوق کی تنظیمیں ٹرمپ انتظامیہ کے متعدد اقدامات پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ حقوقِ انسانی کے گروہوں کا مؤقف ہے کہ بعض امیگریشن اقدامات آزادیِ اظہار، قانونی عمل اور دیگر بنیادی حقوق کو متاثر کرتے ہیں اور خاص طور پر نسلی و قومی اقلیتوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔
تازہ عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کے امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کے لیے صورتحال میں اہم قانونی تبدیلی آئی ہے، تاہم پالیسی پر مزید قانونی کارروائی یا اپیل کی صورت میں معاملہ آگے بھی بڑھ سکتا ہے۔

