لندن (آئی این پی) چیئرمین پیپلزپارٹی
بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک کا مستقبل چند بزنس مین طے نہیں کرسکتے، سسٹم کی ناکامی پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محسن نقوی اپنی زبان بول رہے ہیں اور وہ اپنی زبان بولتے ہیں۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ سنجیدہ اور عوامی نوعیت کا ہے، صوبے بنانے سے ملک سے بے روزگاری اور مہنگائی ختم نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ملک کی قسمت چند بزنس مین طے کریں۔ اگر سسٹم ناکام ہوا ہے تو قومی اسمبلی میں اس پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے، یہ بھی دیکھا جائے کہ سسٹم کیوں فیل ہوا اور اس کا حل کیا ہے۔ سسٹم کے مسائل ابھی سے نہیں بلکہ تاریخی طور پر موجود ہیں، ان پر کھل کر بحث ہونی چاہیے۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وہ جلد پاکستان پہنچیں گے اور قومی اسمبلی میں سسٹم کے مسائل پر بحث ہوئی تو خود بھی بات کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی کو بھی بزنس فورم کے بجائے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا چاہیے، کیونکہ منتخب نمائندوں کو عوام کی آواز بن کر پارلیمان میں بات کرنی چاہیے۔سیاسی تعاون سے متعلق بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پیپلزپارٹی سے رابطے میں ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے نمائندوں کی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں اور ان ملاقاتوں میں پیپلزپارٹی کا مقف اور تحفظات سامنے رکھے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئی ایک سیاسی جماعت پاکستان کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتی، تمام سیاسی جماعتوں کو مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، پیپلزپارٹی کا حکومتی جماعت کے ساتھ تعاون زیادہ ہے تاہم اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ نہ ہونے کی بات بھی درست نہیں۔پی ٹی آئی سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے، انہوں نے پی ٹی آئی کو پارلیمان میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی، اپوزیشن اور پارلیمان کے لیے درست نہیں۔سہیل آفریدی کے سندھ آنے سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی مہم جوئی سب کا حق ہے، مہمان نوازی میں سندھ مشہور ہے، سہیل آفریدی کو لاڑکانہ آنے پر خوش آمدید کہا۔
