صنعا، ریاض، اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں ) ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب
نے یمن کے مختلف علاقوں میں ان کے ٹھکانوں پر 32سے زائد فضائی حملے کئے ہیں۔جبکہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن سے سعودیہ پر حملوں سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ آپریشنل ہوگا۔ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں میں ان کے ٹھکانوں پر 32سے زائد فضائی حملے کئے ہیں۔ایک روز قبل حوثیوں نے اپنے پڑوسی ملک سعودی عرب کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ بی بی سی کے مطابق حوثیوں سے وابستہ المسیرہ ٹی وی نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران مختلف علاقوں پر 32فضائی حملے کیے ہیں۔ سعودی عرب نے تا حال حوثیوں کی جانب سے ان حملوں کے دعوؤں پر کوئی با ضابطہ ردِعمل نہیں دیا ہے۔سعودی حکام کہہ چکے ہیں کہ منگل کی صبح حوثیوں کے حملوں کے باعث بعض تیل تنصیبات کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئی تھیں اور 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔دریں اثناء سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں حوثی حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔سعودی کابینہ نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی حملوں کی شدید مذمت کی۔عرب میڈیا کے مطابق کابینہ اجلاس میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حرکت کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی گئی۔سعودی کابینہ نے ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔اجلاس میں زخمیوں کو اعلی ترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ فلسطین کے معاملے پر عرب مشترکہ کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے القدس اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کی مخالفت کی گئی۔سعودی کابینہ نے سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت کا بھی خیرمقدم کیا۔ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان موجود مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔ ایک انٹرویو میںخواجہ آصف نے کہا کہ مکہ میں طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہیں اور کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور سعودی عرب کی سلامتی سے متعلق پاکستان کا موقف واضح ہے۔
سعودی حملہ
