وسیم اکرم کا پاکستان کی کوچنگ سے انکار
پاکستان کے سابق کپتان اور لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ساتھ براہِ راست کام کرنے سے گریز کی وجہ بیان کردی۔
وسیم اکرم نے دی ایتھلیٹک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے کچھ کیوں نہیں کرتے، لیکن ان کے مطابق مسائل اتنے گہرے ہیں کہ ایک شخص اکیلا پورا نظام تبدیل نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کا مسئلہ صرف کھلاڑیوں یا کرکٹ بورڈ تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ کے ڈھانچے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بار بار تبدیلیاں کی گئیں، جس کے باعث طویل مدتی منصوبہ بندی اور تسلسل متاثر ہوا۔
وسیم اکرم کے مطابق پاکستان میں شکست کے بعد شائقین بھی فوری طور پر پورے نظام کو تبدیل کرنے کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بار بار سب کچھ تبدیل کرنے کے نتیجے میں اب نظام میں بہت کچھ باقی نہیں رہا۔
وسیم اکرم نے موجودہ انگلینڈ سیریز پر بھی سخت مایوسی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی خدشہ تھا کہ پاکستان 3-0 سے سیریز ہار سکتا ہے، کیونکہ بیٹنگ مشکلات کا شکار، بولنگ اوسط درجے کی اور فیلڈنگ اس سے بھی خراب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں استحکام، صبر اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، جبکہ بار بار کوچز، کھلاڑیوں اور نظام میں تبدیلیاں مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

