اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 24اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دے دیا ۔ جبکہاسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر کو سڑکیں بند کرنے کااختیار نہیں، وزرائے اعلی یقینی بنائیں سیاسی جماعت کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال نہ ہو،کوئی سرکاری افسر احتجاج یا ریلی پر مجبور کرنے والے حکم پر عمل نہ کرے، ان ہدایات کے ساتھ عدالت نے 27 ستمبر احتجاج کیخلاف درخواست نمٹا دی ، ادھر وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست باضابطہ سماعت کیلئے منظور کر لی۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے 24 اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت کی جانب سے اسد قیصر، شہرام ترکئی، شاہ احد، شیر علی ارباب، محمد اقبال آفریدی اور ڈاکٹر امجد علی کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے جنید اکبر، شاہد خٹک، زبیر وزیر، عمر ایوب ارشد عمر زئی، زر عالم، میاں عمر اور اختر خان کا بھی پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے جن اراکین کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیاہے ان میں ہمایوں خان، ریاض خان، عبدالکبیر خان، طفیل انجم آصف محسود، عجب گل، محمد عثمان اور بابر سلیم سواتی بھی شامل ہیں۔عدالت کی جانب سے عرفان سلیم، ایڈووکیٹ علی زمان اور ملک شہاب کا بھی پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق ملزمان مقدمے میں نامزد ہیں، تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان قانونی عمل سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہوسکتے ہیں، ملزمان پر ریاستی اداروں پر حملے اور دہشت گردی کے فروغ جیسے سنگین الزامات ہیں، ملزمان عدالت کے روبرو پیش ہونے میں بھی ناکام رہے۔عدالت نے کہا کہ عبوری ضمانت حاصل کرنے والے ملزمان بھی مقدمے میں شامل تفتیش نہیں ہوئے، تفتیشی افسر کی ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست منظور کی جاتی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ ایف آئی اے اگلے احکامات تک ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کردے۔پولیس کی جانب سے تھانہ کوہسار کے مقدمہ میں پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست کی تھی، انسداددہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پاسپورٹ بلاک کرنے کا فیصلہ جاری کیا۔دریں اثناء اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27ستمبر احتجاج کے خلاف درخواست ہدایات کے ساتھ نمٹا دی، عدالت نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر کو سڑکیں بند کرنے کااختیار نہیں، وزرائے اعلی یقینی بنائیں سیاسی جماعت کے احتجاج میں سرکاری مشینری استعمال نہ ہو،کوئی سرکاری افسر احتجاج یا ریلی پر مجبور کرنے والے حکم پر عمل نہ کرے۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بنچ نے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس آصف پر مشتمل 3 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک، پراسیکیوٹر جنرل، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ اور آئی جی خیبر پختونخوا عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت کی جانب سے خصوصی اجازت ملنے کے بعد کمرہ عدالت میں تحریک انصاف کے سال 2022 اور 2024 کے احتجاج کی ویڈیوز بھی چلائی گئیں۔دلائل دیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک نے کہا کہ 2022 کے احتجاج میں سرکاری مشینری کا استعمال کیا گیا اور اسلام آباد انتظامیہ نے مارچ کو روکنے کیلئے جو رکاوٹیں کھڑی کی تھیں انہیں کرین سے ہٹایا گیا۔انہوں نے کہا کہ ڈی چوک میں آگ لگا کر سب کچھ تباہ کر دیا گیا اور یہی کچھ 2024 میں بھی دہرایا گیا جب پوری قوت کے ساتھ اسلام آباد پر حملہ کیا گیا، تحریک انصاف کے رہنما آزادی یا شہادت جیسے بیانات دے رہے ہیں اور یہ کسی طور پر پرامن جلسے کا منظر نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس لانگ مارچ کے دو بنیادی مقاصد سامنے آتے ہیں، ایک قیدی کی رہائی اور دوسرا حکومت گرانا، اور یہ دونوں مطالبے غیر آئینی ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے موقف اختیار کیا کہ مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی احتجاج نہیں ہو سکتا کیونکہ قانون کے مطابق درخواست دینا ضروری ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اگر 20 لاکھ لوگ اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں تو ہمارے پاس انہیں روکنے کی صلاحیت نہیں ہے، ہم دفعہ 144 لگا کر انتظامی انتظامات تو کر سکتے ہیں لیکن اپنے ہی شہریوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے اور نہ ان کی جانیں لے سکتے ہیں، اس لیے پانی سر سے گزرنے سے پہلے عدالت کو اقدامات کرنے ہوں گے۔دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی 40 لاکھ لوگ لانے کی تقریریں کر رہے ہیں، اگر غیر آئینی مطالبات کیلئے ایسا احتجاج روکا نہ گیا اور عدالت کوئی حکم جاری نہیں کرتی تو انتظامیہ کے پاس کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔سماعت کے دوران عدالت نے آئی جی خیبر پختونخوا کو روسٹرم پر طلب کر کے ان کا جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھنے کی ہدایت کی۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے آئی جی خیبر پختونخوا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو آپ اسے روکیں گے اور مظاہرین کو منتشر کریں گے؟اس پر آئی جی خیبر پختونخوا نے عدالت کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جو ڈائریکشن دی ہے اس کے مطابق بیان حلفی جمع کرا دیا گیا ہے اور اگر صوبے کی طرف سے کوئی غیر قانونی اقدام یا پیش قدمی ہوئی تو ہم اسے ہر صورت روکیں گے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کی جانب سے تحریری رپورٹ جمع کرائے جانے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو کہ بعدازاں سنادیا گیا ۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کسی سیاسی جماعت، پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ صوبوں کے وزرا اعلی یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو، کوئی سرکاری افسر کسی احتجاج یا ریلی پر زبردستی مجبور کرنے والے آرڈر پر عملدرآمد نہ کرے، کوئی بھی افسر جسے مجبور کیا جائے وہ فوری طور پر اپنے صوبے کے چیف سیکرٹری /چیف کمشنر یا آئی جی کو اگاہ کرے۔ادھر وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلی انتخاب کالعدم قرار دینے کی درخواست باضابطہ سماعت کیلئے منظور کر لی۔وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلی نااہلی کے لئے شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار شیر افضل مروت نے اپنی درخواست پر خود دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ نے استعفیٰ اپنی مرضی سے دینا ہوتا ہے۔ علی امین گنڈاپور نے رضاکارانہ استعفیٰ نہیں دیا، سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر علی امین گنڈاپور سے استعفیٰ لیا گیا ، سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہل شخص ریاستی معاملات نہیں چلا سکتا۔شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست میں علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ بحالی کی بھی استدعا کی گئی ہے۔آئینی عدالت نے درخواست باضابطہ سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کر دیئے۔وفاقی آئینی عدالت نے عدالتی معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ
