ملتان(کامرس رپورٹر) مہنگی بجلی اور شدید لوڈشیڈنگ پر عوامی ردِعمل کے درمیان حکومت کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیز (ڈسکوز) قومی گرڈ سے ہٹ کر مہنگے نرخوں پر بجلی خرید رہی تھیں جو اقتصادی میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی ہے۔ایک سرکاری ذرائع کے مطابق ڈسکوز چھوٹے پاور پروڈیوسرز (SPPs) اور کیپٹو پاور پلانٹس (CPPs) سے دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے قومی
ٹیرف سے زیادہ قیمت پر بجلی خرید رہی تھیں اور اس عمل میں قومی گرڈ اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ذرائع نے مزید کہا گیا کہ آزادانہ تحقیقات کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے ڈسکوز کے نام اور خریدی گئی بجلی کی مقدار ظاہر نہیں کی گئی۔ بیان کے مطابق ڈسکوز کی جانب سے SPPs سے میرٹ آرڈر سے ہٹ کر بجلی خریدنے کا نوٹس لیا اور ایک آزادانہ تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا۔بیان میں کہا گیا کہ یہ معاملہ ڈسکوز اور ISMO کے جائزے (اسٹاک ٹیکنگ) کے دوران سامنے آیا۔ذرائع کے مطابق وزیرِ توانائی نے ہدایت کی کہ اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے اور اسے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے گرڈ کوڈ، ڈسٹری بیوشن کوڈ اور دیگر ہدایات کے مطابق لایا جائے۔مزید برآں وفاقی حکومت نے ہدایت کی کہ ISMO کے ساتھ رابطہ کیا جائے تاکہ SPPs اور CPPs کو اس طرح شامل کیا جا سکے کہ بجلی کی ترسیل اقتصادی میرٹ آرڈر کے اصولوں کے مطابق کم سے کم لاگت پر کی جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیرِ توانائی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پاور ڈویژن نے تمام ڈسکوز کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ SPPs سے میرٹ کے خلاف بجلی کی خریداری کسی بھی صورت میں ISMO کی پیشگی واضح منظوری کے بغیر نہ کی جائے۔ذرائع کے مطابق سمال پاور پروڈیوسرز (SPPs) سے بجلی کی خریداری صرف انہی صورتوں تک محدود ہوگی جہاں یہ بجلی قومی میرٹ آرڈر میں شامل ہو جس کا تعین بجلی کی پیداواری لاگت کے اضافی اخراجات کی بنیاد پر مقررہ طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا ہے.
مہنگی بجلی
