اسلام آباد (حبہ عباسی سے)کیا دارالحکومت کے مہنگے اور نامور تعلیمی ادارے بھی بچوں کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں؟ ویسٹ منسٹر سکول میں ایک بچی کے ساتھ مبینہ ہراسگی کے واقعے نے نہ صرف والدین بلکہ پورے تعلیمی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معاملہ اب نیشنل کمیشن آن چائلڈ رائٹس (این سی آر سی) تک پہنچ چکا ہے جہاں فریقین کو الگ الگ سنا گیا اور ان کیمرہ بریفنگ کے بعد مزید تحقیقات کا عندیہ دیا گیا ہے۔این سی آر سی کی چیئرپرسن عائشہ رضا فاروق کا کہنا ہے کہ کمیشن کو سکول کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تھی جس کے بعد والدین اور سکول انتظامیہ دونوں کا مؤقف سنا گیا۔ ان کے مطابق کمیشن اپنی انکوائری مکمل کرنے کے بعد مفصل رپورٹ اور سفارشات متعلقہ اداروں کو بھجوائے گا، تاہم سزا دینا کمیشن کا اختیار نہیں۔ چیئرپرسن نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بچوں کے ساتھ ایسے واقعات میں اچانک اضافہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور اس کے تدارک کے لیے ریاست، سکولوں اور والدین سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ذرائع کے مطابق متاثرہ بچی کے والدین نے چیئرپرسن کو تفصیلی بریفنگ دی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ کیس کی حساس نوعیت اور ہائی پروفائل حیثیت کے باعث فریقین کو الگ الگ سنا گیا تاکہ ہر مؤقف کو بغیر دباؤ کے ریکارڈ کیا جا سکے۔ والدین کا مؤقف ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور متاثرہ بچی کو انصاف مل سکے۔دوسری جانب اسکول انتظامیہ بھی این سی آر سی کے سامنے دستاویزات اور سی سی ٹی وی فوٹیج لے کر پہنچی۔ تاہم چیئرپرسن نے واضح کیا کہ صرف فوٹیج دیکھ کر کمیشن کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور یہ مواد متعلقہ تحقیقاتی اداروں کو فراہم کیا جائے گا جو قانون کے مطابق اس کا جائزہ لیں گے۔ یہ مؤقف خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ محض ایک ویڈیو یا ایک بیان سے زیادہ پیچیدہ ہے اور تمام شواہد کی جامع جانچ ضروری ہے۔سب سے اہم سوال وہ ہے جس کا جواب میڈیا کے سامنے نہیں دیا گیا۔ این سی آر سی میں پیشی کے بعد اسکول کے سی ای او راحیل سجاد اور پرنسپل نے مختصر گفتگو تو کی، انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی یا ہراسگی کے حوالے سے کسی قسم کی چیز برداشت نہیں کی جائے گی اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، لیکن جب صحافیوں نے اپنے ہی اسکول میں پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق تفصیلی سوالات کیے تو انتظامیہ جواب دیے بغیر روانہ ہو گئی۔ یہی وہ پہلو ہے جو شکوک و شبہات کو مزید بڑھا رہا ہے۔ اگر ادارہ خود شفاف تحقیقات کا حامی ہے تو پھر میڈیا اور والدین کے بنیادی سوالات کے جواب کیوں نہیں دیے گئے؟ کیا اسکول کے اندر بچوں کے تحفظ کے لیے موجود نظام مؤثر تھا؟ اگر تھا تو پھر یہ شکایت سامنے کیسے آئی؟ اور اگر نہیں تھا تو ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ این سی آر سی نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف اس ایک واقعے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسلام آباد کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں بچوں کے تحفظ کے نظام، پالیسیوں اور قوانین کا بھی جائزہ لے گا۔ یہ انکشاف اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ مسئلہ کسی ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام میں بچوں کے تحفظ کے میکنزم کا ہو سکتا ہے۔اب نظریں این سی آر سی کی حتمی رپورٹ پر لگی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رپورٹ صرف سفارشات تک محدود رہے گی یا پھر ایسے عملی اقدامات بھی سامنے آئیں گے جو مستقبل میں کسی اور بچے کو ایسے مبینہ واقعات کا شکار ہونے سے بچا سکیں؟ کیونکہ جب معاملہ بچوں کے تحفظ کا ہو تو خاموشی، تاخیر اور ابہام خود ایک بڑا سوال بن جاتے ہیں۔
