اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت نے شیر افضل مروت کی جانب سے وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے والی آئینی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے آج درخواست کی ابتدائی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ سماعت کے دوران شیر افضل مروت نے مقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کا استعفی آئینی طریقہ کار کے مطابق نہیں تھا اور سہیل آفریدی کا بطور وزیراعلی انتخاب بھی قانونی و آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوا۔ درخواست میں سہیل آفریدی کے انتخاب کو کالعدم قرار دینے اور علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزیراعلی کے منصب پر بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے شیر افضل مروت سے استفسار کیا کہ **اس معاملے میں آئینی سوال کیا بنتا ہے؟** عدالت نے کیس میں آئینی تشریح کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان کو بھی معاونت کے لیے نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے مزید سماعت **اکتوبر کے دوسرے ہفتے** تک ملتوی کردی۔ یوں آج کی کارروائی میں عدالت نے فوری طور پر سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے یا علی امین گنڈاپور کو بحال کرنے کا حکم جاری نہیں کیا بلکہ معاملے پر فریقین کے جوابات اور آئینی نکات سننے کا فیصلہ کیا ہے
دوسری جانب سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے اپنے مقدمے کا دفاع کیا، جبکہ صحافیوں کی جانب سے ان کے مقف اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔ کیس کی آئندہ سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے، جہاں فریقین کے جوابات اور درخواست میں اٹھائے گئے آئینی نکات مزید زیرِ بحث آئیں گے۔شہید پولیس آفیسر چوہدری مقصود علی خان کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ بلکسر میں سپردِ خاک کر دیا گیابلکسر(نمائند ہ خبریں )بلکسر کی فضا سوگوار، ہر آنکھ اشک بار اور ہر دل غمگین تھا، جب اسلام آباد پولیس کے شہید آفیسر اور علاقے کی ہر دلعزیز شخصیت چوہدری مقصود علی خان کو گزشتہ شب پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ آبائی علاقے بلکسر میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔شہید کی نمازِ جنازہ میں اسلام آباد پولیس کے اعلی افسران، پولیس کے جوانوں، عمائدینِ علاقہ، عزیز و اقارب اور اہلِ بلکسر نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر اسلام آباد پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہید کو شاندار سرکاری سلامی پیش کی اور وطن و فرض کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اس بہادر سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کیا
