سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن ڈرون حملے میں نقصان پہنچنے کے بعد آئندہ 3 سے 5 ہفتوں تک زیادہ تر بند رہنے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق مرمت کے دوران پائپ لائن کو محدود گنجائش کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے، تاہم مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
1200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل کے ذخائر کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے جوڑتی ہے۔ اس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر سعودی خام تیل کو برآمدی ٹرمینلز تک پہنچانا ہے۔ پائپ لائن کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 70 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد سعودی وزارتِ توانائی نے پائپ لائن کی سرگرمیاں احتیاطی طور پر معطل کردی تھیں۔ سعودی حکام نے ڈرون حملے کا سراغ عراق کے صوبے میسان تک پہنچنے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں ایران نواز مسلح گروہوں کی موجودگی بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر کے اہم جزیروں پر قبضہ کرکے اہم سمندری راستوں کے قریب اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے۔ اس پیش رفت سے سعودی تیل کی برآمدات کے لیے زمینی اور سمندری دونوں متبادل راستوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق پائپ لائن کی طویل بندش عالمی تیل سپلائی کو مزید محدود کرسکتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت پہلے ہی 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے، جس سے ایندھن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

