کراچی (کامرس رپورٹر)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ملک بھر کے ٹرانسپورٹ شعبے کو شدید بحران سے دوچار کردیا، تقریباً 70 فیصدn ٹرانسپورٹ کھڑی ہوگئی جبکہ آئندہ 15 روز میں مزید 25 سے 30 فیصد گاڑیوں کے بند ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا پہیہ مزید سست پڑنے کی صورت میں مارکیٹوں میں اشیائے ضروریہ اور صنعتی سامان کی ترسیل متاثر ہونے، قلت پیدا ہونے اور مہنگائی میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔چیف ایگزیکٹو شاہین گروپ آف کمپنیز، وائس چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور سدھریال گروپ کے سربراہ ملک شیر خان نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے ٹرانسپورٹرز کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ ایک ٹرانسپورٹ گاڑی سے براہ راست اور بالواسطہ تقریبا 9 افراد کا روزگار وابستہ ہے، اس لیے ٹرانسپورٹ کا بحران ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرسکتا ہے۔شاہین گروپ آف کمپنیز کی جانب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ملازمین اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے زائرین کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک شیر خان نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، حکومت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر فیصلے کرنے کے بجائے قابلِ عمل اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ رکنے سے اشیائے ضروریہ کی سپلائی متاثر ہوئی تو اس کے سنگین اثرات عوام اور معیشت پر پڑیں گے۔تقریب میں پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش، وائس چیئرمین طارق حسن، سندھ ریونیو بورڈ کے سینئر ممبر عبدالحمید میمن، ایس آر بی کے کمشنرز عامر علی اور محمد اقبال لاکھو، شاہین فریٹ سروسز کے مینجنگ ڈائریکٹر میجر (ر) ملک جہان خان اور دیگر شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سات ملازمین کو گاڑیاں بطور انعام بھی دی گئیں۔ملک شیر خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم قیمتوں میں فوری ریلیف دے اور ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے مستقل حل کے لیے جامع پالیسی تشکیل دے، بصورت دیگر ٹرانسپورٹ کا بحران ملکی معیشت اور عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
