راولپنڈی (عرفان طاہر چوہان سے) ضلع کونسل راولپنڈی کے کروڑوں روپے مالیت کے ترقیاتی ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ناقص کارکردگی کے سنگین الزامات سامنے آ گئے، نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے نام پر جاری کروڑوں روپے کے منصوبوں کے باوجود حالیہ بارش نے صفائی کے دعوں کی قلعی کھول دی، متعدد نالوں میں پانی کی روانی متاثر ہونے اور اوور فلو کے باعث نشیبی علاقوں کے گھروں میں بارشی پانی داخل ہونے سے شہریوں کو لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق نالہ ڈھوک منشی خان فوجی کالونی تا کار چوک کی صفائی و بہتری کے لیے 13 کروڑ 27 لاکھ 40 ہزار نہیں بلکہ 1 کروڑ 32 لاکھ 74 ہزار روپے کی لاگت سے اسکیم تیار کی گئی، جس کا ٹی ایس نمبر 135/MO(I)/MCR مورخہ 8 اپریل 2026 ہے، اسی طرح نالہ رحمت آباد محلہ نوری تا مین نالہ کے لیے 74 لاکھ 67 ہزار روپے، ٹی ایس نمبر 136، نالہ رحمت آباد رحمت آباد تا عباسی چوک کے لیے 41 لاکھ 90 ہزار روپے، ٹی ایس نمبر 137، جبکہ نالہ چک جلال دین قریشی آباد تا ساڈا گاں کے لیے 1 کروڑ 16 لاکھ 35 ہزار روپے، ٹی ایس نمبر 138 کے تحت منصوبے شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان اسکیموں کی منظوری اور ٹینڈرنگ کے عمل میں پیپرا قوانین اور ای پیڈز کے طریقہ کار پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ مبینہ طور پر من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے اور کاغذی کارروائی کے ذریعے سرکاری فنڈز کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر نالوں کی صفائی پر بھاری رقوم خرچ کی گئی ہیں تو معمولی بارش کے دوران نالوں کا اوور فلو ہونا اور گھروں میں پانی داخل ہونا متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ متاثرین کے مطابق بارشی پانی گھروں میں داخل ہونے سے فرنیچر، الیکٹرانکس اور دیگر گھریلو سامان کو نقصان پہنچا، جبکہ کئی علاقوں میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہری و سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اگر ترقیاتی اسکیموں پر خرچ ہونے والی رقوم کے باوجود زمینی صورتحال بہتر نہیں ہوئی تو اس معاملے کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔ انہوں نے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر، محکمہ اینٹی کرپشن اور متعلقہ اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کونسل کے مذکورہ ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز، ورک آرڈرز، پیمائش، ادائیگیوں اور موقع پر ہونے والے کام کا آزادانہ آڈٹ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار افسران و ٹھیکیداروں کا تعین کیا جائے اور اگر سرکاری خزانے کے استعمال میں بے ضابطگی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
