کراچی (بزنس رپورٹر) وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹ میں 9 فیصد حصہ رکھتا ہے جس سے اس صنعتی زون کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پاکستان کے تاجروں اور سرمایہ کاروں میں اتنی اہلیت اور صلاحیت تھی کہ چین نے تجارت پاکستان کی بزنس کمیونٹی سے سیکھی ہے لیکن اب چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گئی اور ہم ابھی تک جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں سے خطاب میں کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، سینئر نائب صدر زاہد حمید، نائب صدر محمد طلحہ علی، یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے چیئرمین خالد تواب ، صدر زبیر طفیل، سابق رکن قومی اسمبلی کنور قطب الدین خان ، بیرسٹر شہزاد حیات خان سمیت دیگر ممبران اور صنعتکارو موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چین آج دنیا کی بڑی معاشی طاقت ، وہاں ہر شہری کاروبار کرکے ترقی کر رہا ہے جبکہ پاکستان میں چند لوگ ہی کامیاب صنعتکار اور تاجر بن سکے، ہم آپس میں اختلافات کی نذر ہوگئے اور کامیاب بزنس مائنڈڈ لوگ پیدا کرنے میں مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیاست دانوں میں بھی اتحاد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت 80 فیصد چھوٹی اور درمیانی صنعت پر منحصر ہے جس پر توجہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ دنیا نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بہترین سفارتکار قرار دیا، جس کا ہمیں فائدہ اٹھا نا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر کبھی کوئی تنخواہ یا سرکار مراعات نہیں لیں جبکہ اپنے کاروبار سے کروڑوں روپے کا ٹیکس ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے مسائل وزیر اعظم تک پہنچانے کیلئے ان سے متعدد بار ملاقات کی درخواست کی لیکن ابھی تک وقت نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات ہوتی تو انڈسٹری اور سرمایہ کاری میں حائل رکاوٹوں سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں لیکن ابھی تک وقت نہیں دیا جارہا۔ قیصر احمد شیخ نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹ کئی سالوں سے 30 ارب ڈالر پر منجمد ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک پاکستان سے کئی گنا زیادہ ایکسپورٹ کر رہے ہیں، اس مسئلہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے اپنے خطاب میں حکومت سے اپیل کی کہ وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کو معاشی امور میں اہم عہدہ دیا جائے کیونکہ وہ خود ایک کامیاب اور 50 سال سے زائد تجربے کے حامل بزنس مین ہیں۔
