ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گا۔
نیویارک میں خطاب کرتے ہوئے پزشکیان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھنا چاہیے کہ پابندیوں، بڑھتے ہوئے دباؤ اور دھمکیوں کے مقابلے میں ایرانی عوام کی مزاحمت مزید بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نہ تو دباؤ کے سامنے جھکے گا اور نہ ہی ’’گھٹنے ٹیکے گا‘‘۔
ایرانی صدر نے تاہم مذاکرات اور سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران بات چیت اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن طاقت اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔
پزشکیان نے اپنے خطاب میں امریکا پر ایران کے خلاف کارروائیوں کے الزامات عائد کیے اور کہا کہ تہران نے جنگ شروع نہیں کی بلکہ اپنے دفاع کے لیے کارروائی کی۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم پرامن جوہری پروگرام کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس آبی گزرگاہ کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور سفارتی کشیدگی جاری ہے۔ نیویارک میں دونوں جانب سے بالواسطہ رابطے بھی ہوئے ہیں، تاہم عوامی طور پر دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں اختلاف برقرار ہے۔

