عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جمعرات کو کم ہوگئیں، جس کی ایک بڑی وجہ ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ کھلا رکھنے کا عندیہ ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے طریقہ کار اور شرائط پر اب بھی اختلاف برقرار ہے۔
رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدے کی قیمت 94 سینٹ یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 102.13 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 59 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے بعد 91.56 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
اس سے ایک روز قبل تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ مارکیٹ میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کی امید کے باعث جغرافیائی کشیدگی سے جڑا اضافی خطرہ کچھ کم ہوا، جس سے تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔
ایک ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران امریکی امن تجاویز پر واشنگٹن کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان تجاویز میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملات شامل ہیں۔
دوسری جانب ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران کی شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے طویل مذاکرات درکار ہوں گے۔
امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے (EIA) کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا کے خام تیل کے ذخائر میں 30 لاکھ بیرل اضافہ ہوا اور یہ 426.4 ملین بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ تجزیہ کاروں نے کمی کی توقع کی تھی۔
یوں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ پر سفارتی کوششوں، مشرق وسطیٰ میں جنگ سے متعلق خطرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی سپلائی کے خدشات اثرانداز ہو رہے ہیں۔

