امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار ایران جنگ کے بجائے یوکرین کے روسی آئل ریفائنریز پر حملوں اور ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام ریاستوں میں ریفائنریوں کی بندش کو قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کہا کہ آبنائے ہرمز اب پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ نہیں، کیونکہ ان کے بقول بڑی تعداد میں تیل کی کھیپیں روزانہ عالمی مارکیٹ میں پہنچ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ریفائنریز ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق روس کی ریفائنریز کو یوکرینی حملوں سے نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ امریکا میں کیلیفورنیا جیسی ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام ریاستوں میں ریفائنریاں بند کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے سے متعلق رپورٹس کے مطابق ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں نے عالمی توانائی مارکیٹ پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ آبنائے ہرمز معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل ترسیل کا راستہ ہے۔
یوکرین کے روسی توانائی تنصیبات پر حملوں نے بھی بالخصوص ڈیزل کی عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھایا ہے، جس سے امریکا سمیت مختلف ممالک میں ایندھن کی قیمتیں متاثر ہوئی ہیں۔

