لاہور (خبر نگار) وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت محکمہ آبپاشی لاہور ڈویژن CBDC نے نہری پانی چوری کرنے والوں کے خلاف شکنجہ سخت کرتے ہوئے بڑا کریک ڈائون شروع کر دیا، مختلف علاقوں میں پانی چوری کے الزام میں35 مقدمات درج کروا دیئے گئے جبکہ عادی پانی چوروں کے خلاف تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت کارروائی کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو سفارشات بھی ارسال کر دی گئیں۔ نہری پانی پر ناجائز قبضہ کرکے ٹیل کے کاشتکاروں کو ان کے قانونی حق سے محروم کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گندم کی کاشت کے اہم سیزن میں نہری پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کے لیے محکمہ آبپاشی لاہور ڈویژن CBDC حرکت میں آ گیا۔ ایگزیکٹو انجینئر کی زیرنگرانی تھانہ باٹا پور، برکی اور ہڈیارہ کی حدود میں پانی چوری کے خلاف کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر35 ایف آئی آرز درج کروائی گئیں۔ محکمہ آبپاشی نے واضح کیا ہے کہ نہری پانی کی چوری کے ذریعے دوسرے کاشتکاروں کے حصے پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق نہری نظام میں غیرقانونی مداخلت، پانی کے ناجائز حصول اور عادی خلاف ورزی کرنے والوں کی روک تھام کے لیے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز، پولیس اور محکمہ آبپاشی کے عملے پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔ حساس نہری مقامات پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے جبکہ رات کے اوقات میں گشت بھی بڑھایا جارہا ہے۔ خلاف ورزیوں پر پنجاب اریگیشن، ڈرینیج اینڈ ریورز ایکٹ (PIDRA) کے تحت قانونی کارروائیوں کو موثر بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔ محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا بنیادی مقصد بااثر یا عادی خلاف ورزی کرنے والوں سمیت ہر اس شخص کو قانون کے دائرے میں لانا ہے جو نہری پانی کی غیرقانونی تقسیم یا چوری میں ملوث پایا جائے۔ بالخصوص ٹیل پر واقع زمینوں کے کاشتکار اکثر پانی کی قلت سے متاثر ہوتے ہیں، اس لیے پانی کی منصفانہ تقسیم اور ہر حقدار تک اس کے مقررہ حصے کی فراہمی کو ترجیح دی جارہی ہے۔ محکمہ آبپاشی نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ نہری پانی کی چوری کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 35 مقدمات کے اندراج اور عادی پانی چوروں کے خلاف مزید کارروائی کی سفارشات کے بعد نہری پانی کی غیرقانونی تقسیم پر کس حد تک قابو پایا جاتا ہے اور ٹیل کے کسانوں کو ان کا جائز حق مستقل بنیادوں پر مل پاتا ہے یا نہیں۔
