اسلام آباد(آن لائن ، صباح نیوز)امیر جماعت اسلامی مولانا سراج الحق نے شریف خاندان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں مرغی اتنے انڈے نہیں دیتی جتنے شاہی خاندان نے کارخانے بنائے ،پہلے دو اورپھر ایک دم ان گنت ہو گئے ،سپریم کورٹ نے شریف خاندان کو صفائی کا بار بار موقع دیا مگر (ن)لیگ کی جانب سے منی ٹریل جمع نہیں کرائی گئی۔تفصیلات کے مطابق پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ سیاست اور تجارت ایک ساتھ نہیں ہونی چاہیے ، ہماری ریاست اتنی غریب نہیں کہ صدر اور دیگر حکمرانوں کو تنخواہیں نہ دے سکے۔ہمارے ملک میں ایک مرغی بھی انتے انڈے نہیں دیتی جتنے شاہی خاندان کے کارخانے ایک سے دو اور پھر ان گنت ہوتے گئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں احتساب ہو کیونکہ حقیقی جمہوریت کیلئے حقیقی احتساب ضروری ہے۔چاہتے ہیں پاناما کیس کا فیصلہ قوم کے حق میں ہو اور سپریم کورٹ سے کرپشن کا جنازہ نکلے۔مولانا سراج الحق نے مزید کہا کہ حکومت اپنے دلائل سے عدالت کو مطمئن نہیں کر پائی ، عدالت نے جے آئی ٹی بنائی اور اب حکمرانوں کو مزید وقت دینا چاہتی ہے تاکہ سرکاری وکلاکے دل میں جو بھی ہے باہر آجائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے انہیں عدالت سے مزید وقت ملے ۔سچی بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی کی ساری رپورٹ کرپشن کی ایک نئی داستان ہے ۔۔چاہتے ہیں عوام کر کرپشن فری پاکستان ملے ۔سراج الحق نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شریف خاندان کو صفائی کا بار بار موقع دیا مگر اس کی جانب سے آج تک عدالت میں منی ٹریل جمع نہیں کرائی گئی۔جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں صحیح طرح احتساب ہو جائے تو لوگوں کو گلی محلوں اور چوکوں میں بندوق بردار چوکیدار کی ضرورت نہیں ہوگی ،کرپشن موجودہ حکومت ، پیپلز پارٹی یا مشرف کی حکومت نے کی ہو ان کا بھی احتساب ہولیڈروں کے جیب کی تلاشی لینا عوام کا حق ہے ،نواز شریف اپنے بچوں کو قربان نہ کریں اور نہ ہی والد کو کیس میں گھسیٹیں،جو ممالک پہلے نواز شریف کو بچانے آ جاتے تھے وہ بھی ان کے کاروبار سے لا علمی کا اظہار کررہے ہیں،حکمرانوں کے رنگ زرد ہونا فطری بات ہے ،شور شرابہ اور گالم گلوچ سے مسئلہ حل نہیں ہوگاوزیراعظم غلطیوں کا اعتراف کریں اور معافی مانگیں۔ان خیالات کا اظہارامیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کے موقع ہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سپریم کورٹ میں آج پھر سرکاری وکلاءصحیح دستاویزات اور ثبوت دینے میں ناکام ہو گئے ہیں ججوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے بچوں نے ثبوت نہیں دیئے تو سارا ملبہ وزیراعظم پر پڑے گا کیونکہ وہ بچوں کے ذمہ دار ہیں ۔سرکاری وکیل وزیراعظم اور ان کے خاندان کو بچانے کی بہت کوشش کر رہے ہیں مگر وہ کمزور وکٹ پر کھیل رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وکلاءکے الفاظ اور کاغذات ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں باہر کی قوتیں جو پہلے نواز شریف کو بچانے آ جاتی تھیں وہ قوتیں بھی اس بار ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ہمارے ملکوں میں جو ان کا کاروبار ہے اس طرح نہیں جس طرح یہ پیش کررہے ہیں آج عدالت میں کہا گیا کہ اگر کاغذات جھوٹے ثابت ہوئے تو اس کا پیش کرنے والا ذمہ دار ہوگا اور اس کی سزا سات سال قید ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے حکمرانوں کے رنگ زرد ہو رہے ہیں جو فطری چیز ہے انہوں نے کہا کہ شور شرابہ اور گالی گلوچ اس مسئلہ کا حل نہیں ہے اس کا حل یہ ہے کہ وزیراعظم غلطیوں کا اعتراف کر لیں اور قوم سے سچ بولیں۔وزیراعظم ذمہ داری قبول کریں اور بچوں کوقربان نہ کریں اور نہ ہی اپنے مرحوم والد کو کیس میں گھسیٹیں۔ اگر وزیراعظم استعفیٰ دیتے ہیں تو ان کی عزت بچ جائے گی اگر تحقیقات میں وہ صاف ثابت ہوئے ہیں تو ان کی اسمبلی میں اکثریت ہے وہ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے۔
مرغی کے انڈے کم شاہی خاندان کے کارخانے زیادہ

