Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • اسلام آباد میں ڈیموں اور ندی نالوں میں تیراکی پر 2 ماہ کی پابندی
    • ٹرافی تنازع پر بھارتی کوچ کی وضاحت، فیصلہ بی سی سی آئی کا تھا
    • الیگزینڈر زوریف نے یو ایس اوپن جیت لیا سال کا دوسرا گرینڈ سلیم اپنے نام کرلیا
    • بیوروکریسی کی ملی بھگت نان کسٹم پیڈ سمگل شدہ گاڑیوں کی بھر مار مافیا کروڑوں کھیلنے لگا
    • لاہور میں کہیں ہلکی کہیں زیادہ بارش اگلے3 دن مزید بارش
    • ایل ڈی اےافسران کی سر پرستی علی ٹائون شان بھٹی روڈ پر غیر قانونی تعمیرات جاری
    • سید یوسف رضا گیلانی کی پارلیمانی سفارت کاری کے عالمی سطع پر پاکستان کی موئثرآواز بن گئی
    • سرکاری ہسپتالوں کی پارکنگز میں مالی بے ضابطگیاں ٹھیکیدار وصولی جیبوں میں ڈالنے لگے
    • سندھ میں ریبیز کا ایک اور کیس تعداد 23 ہوگئی
    • ملک کے مخصوص اضلاع میں انسداد پولیو مہم 21ستمبر سے شروع ہوگی
    • چوری ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
    • سہیل آفریدی ‘ علی امین میں اختلافات’ ڈی آئی خان کے فنڈز روک دئیے گئے
    • ایران،ترکیہ،عراقی وزرائے خارجہ کا ٹیلی فونک رابطہ،تنازعات کے پھیلائو کو روکنے کیلئے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال
    • PTI کامارچ نہیں ہو گا’یہ مارچ کرتے نظرنہیں آرہے:شیرافضل مروت
    • لاہور میں دو افراد کی لاشیں برآمد ، مردہ خانے منتقل کر دیا گیا
    • طاقتور اور میسکولر خواتین کے معیار کی بنیاد میں نے رکھی بپا شاہ باسو
    • سپارکو کے زیر اہتمام ورلڈ سپیس ویک 2026 ،4 سے 10 اکتوبر تک منایا جائیگا
    • سرکاری محکموں میں مبینہ کرپشن ‘ افسران ‘ اہلکاروں کیخلاف مہم جاری
    • غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے 2 فلسطینی شہید
    • حنا جاوید قتل کیس’ مقتولہ کے بھائی کا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کیلئے دوسرا خط
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    جناب وزیر اعظم دھند میں بڑھتی ہوئی اموات کا نوٹس لیں

    By Daily Khabrainنومبر 15, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    محترم! شدید دھند کے باعث لاہور ملتان روڈ پر ٹریفک حادثے، اموات اور زخمی ہونے والے شہری آپ سے انصاف کے طالب ہیں۔نیشنل ہائی وے پر جگہ جگہ ٹول ٹیکس کے ذریعے لوٹ مار کے باوجود سڑک پر ٹریفک کا کوئی نشان ہے نہ دیگر انتظامات، سڑک کے کنارے یعنی شولڈر کٹے پھٹے اور ٹوٹے پھوٹے۔ کسی یو ٹرن پر نہ کوئی سائن بورڈ اور نہ ریفلکٹر، ساہیوال سے لاہور شدید دھند میں دو گھنٹے کا سفر 7 گھنٹے میں مکمل ہوا۔ این ایچ اے نے سڑک کنارے ڈیوائیڈر پر ایک جگہ بھی ییلو اور بلیک نشان نہیں لگائے گئے۔ سائنیج غائب، ایرو کے نشانات مفقود، ڈیوائیڈر تباہ حال، گاڑیاں فٹ پاتھ پر چڑھ جاتی ہیں۔ پوری سڑک پر کیٹ آئیز موجود نہیں۔این ایچ اے کی لوٹ مار اور رشوت خوری ختم کروائیں، وزیرمواصلات مولوی عبدالکریم کو ہدایت کریں کہ وہ مساجد کے لئے سعودی عرب سے چندہ مانگنے کے بجائے اپنی وزارت پر توجہ دیں۔ کیا نیشنل ہائی وے اتھارٹی این ایچ کے سربراہ اشرف تارڑ پر مرنے والوں کے لواحقین کی طرف سے قتل کا مقدمہ درج کروانا چاہئے؟ لاہور سے فیصل آباد پانچ ٹول پلازے، یہ لوٹ مار کیوں؟ کروڑوں اربوں کی رقم سڑکوں پر خرچ کیوں نہیں کی جاتی؟ بڑے ٹرالرز پر کنٹینرز کے اطراف میں بتیوں کا کوئی نظام نہیں جن سے کراس کرنے والی کاریں ٹکرا رہی ہیں ییلوسٹیکرز جن پر روشنی منعکس ہو سکے غائب، ٹول پلازہ پر رقم بٹورنے والے موجود مگر گاڑیوں، ڈرائیوروں کو ہدایات یا مشورے دینے والے غائب، کسی شہر سے نیشنل ہائی وے کے شروع میں توکاریں یا دوسری سواری کی لائٹ چیک کرنے کا بندوبست اور نہ کوئی انسپکشن۔ دنیا بھر میں دھند پڑتی ہے چوبیس چوبیس گھنٹے بارشیں ہوتی ہیں مگر اتنی اموات نہیں ہوتیں، موٹر وے کی حالت قدرے بہتر ہے مگر نیشنل ہائی ویز پر موت کا راج ہے۔ ٹھیکوں میں لوٹ مار، این ایچ اے سونے کی کان جس میں سیاسی بنیاد پر تقرریاں ہوتی ہیں یا بھاری رشوت دینے پر۔ کیا پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ہونے کی وجہ سے آپ پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ دھند کے دنوں میں کچھ کریں، کیا بے گناہ شہری ان سڑکوں پر کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے رہیں اور کچلے جاتے رہیں؟ مال بردار گاڑیوں کی کوئی انسپکشن نہیں کتنا وزن اٹھا سکتی ہیں اور کتنا لے جایا جاتا ہے؟ ان سے کوئی پوچھنے والا ہے کیا۔ ہرٹول پلازہ پر پیسے بٹورنے کے ساتھ ساتھ انسپکشن کا عملہ کیوں موجود نہیں۔ ہرشہرکے آغاز سے اختتام تک موٹر وے کی طرح سڑک پر لائٹیں کیوں نہیںہوتیں؟ کسی نیشنل ہائی وے پر موٹروے کی طرح انسپکشن کی نہ گاڑیاں ہیں نہ کوئی عملہ۔ برسوں سے سڑک کے شولڈرز یعنی کنارے پرمٹی ڈالنے والا عملہ مفقود ہے۔ جو گاڑی شولڈر سے ذرہ نیچے کچی مٹی پر اُترے تو دوبارہ پختہ سڑک پر آتے وقت اس کا ٹائر پھٹ جاتا ہے۔ نیشنل ہائی وے پر تھوڑے تھوڑے فاصلے کے بعد ہسپتال اگر فوری ممکن نہ ہوں توڈسپینسریز ضرور ہونی چاہئیں تا کہ خدانخواستہ حادثے کی شکل میں ابتدائی طبی امداد تو مل سکے، کیا پاکستان میں واقعی سڑکیں قتل گاہیں نہیں بن گئیں اوردھند بلکہ سموگ کے اس دور میں گھر سے چلتے وقت واقعی لوگوںسے گلے مل کر اور معافی مانگ کر جانا پڑتا ہے کہ اللہ جانے خیر خیریت سے پہنچیں گے بھی کہ نہیں۔ کرپشن میں لتھڑے ہوئے این ایچ اے کو کون لگام ڈالے گا جس نے ٹول پلازوں کی بھرمار کررکھی ہے۔ اور ہر تیس چالیس کلو میٹر کے بعد لوگوں کی جیب سے زبردستی پیسہ نکالنا کس قانون کے تحت جائز ہے؟ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ ٹول پلازے بھی رشوت یا سفارش کے ذریعے الاٹ ہوتے ہیں۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لئے موٹر وے پر لاہور سے اسلام آباد جانے کے لئے 7 سو روپے کا کوئی جواز موجود ہے کہ بہت اخراجات کے بعد سڑک بنی ہے اور اس کی مینٹی ننس اور حفاظتی اقدامات اور موونگ ورکشاپ بھی ہیں اور موونگ ڈسپنسریاں بھی مگر نیشنل ہائی وے پر کوئی سہولت نہ ہونے کے باوجود اس لوٹ مار کا کیا جواب ہے؟ یہ پیسہ کس سے لیا جاتا ہے؟ کہاں خرچ ہوتا ہے کیونکہ سڑکوں کی حالت انتہائی خطرناک ہو چکی ہے اور سہولیات بالکل صفر ہیں۔ کیا شہریوں کے جان و مال کا تحفظ آپ کی حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ کیا این ایچ اے جوکرپشن کا سب سے بڑا ادارہ ہے اس کو لگام دینے کی ضرورت نہیں؟ کیا مواصلات جیسے ٹیکنیکل شعبے کی وزارت کسی مولوی صاحب کو دینا انصاف پسندی ہے؟ جس کی قائم کردہ یونیورسٹی کے بچے روتے پھرتے ہیں کہ ان کی ڈگری کو جعلی سمجھا جاتا ہے کیا آپ کی حکومت اور پارٹی نے طے کر رکھا ہے کہ ہر تقرری یا تعیناتی سفارش کی بنیاد پر ہو گی؟ آج کے سائنٹیفک دور میں مسجد کے مولوی صاحب مواصلات کے نظام کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں؟ دنیا میں دھند ہو یا دوسری قدرتی آفات اس کے مقابلے کے لئے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں اس سے یہ حضرت صاحب واقف ہو سکتے ہیں؟ آپ خود اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں آپ نے دنیا دیکھی ہے خود آپ کی ذاتی ایئرلائن ہے کیا اس طرح کی لوٹ مار کی اجازت آپ اپنی کمپنی میں دیں گے؟ کیا سفارش اور سیاسی تعلق کی بنا پر پائیلٹ اور دوسرا عملہ رکھیں گے؟ ریلوے تو تباہ ہو چکی تھی اور سابق وزیر ریلوے اور ہمارے دوست غلام احمد بلور کا ایک ہی کام رہ گیا تھا کہ ہفتے میں دو مرتبہ وہ اعلان کیا کرتے تھے کہ چار ٹرینیں تو بند ہو چکی ہیں اور پانچ اگلے ہفتے بند ہو جائیں گی۔
    عزیزم سعد رفیق نے محنت کی اور کچھ بہتری ہوئی مگر چند روز پہلے میں اپنے آبائی شہر بہاول نگر گیا تو یہ خوشخبری ملی کہ بہاول نگر سے فورٹ عباس لائن بند ہوچکی، فورٹ عباس سے امروکہ کی ٹرین بھی بند ہے اور سمہ سٹہ سے بہاول نگر جانے والی ٹرین بھی بند ہو چکی ہے اور اب یہ شہر صرف سڑکوں کے ذریعے باقی ملک سے ملا ہوا ہے۔ جناب سڑکوں پر رش بڑھ گیا ہے کیونکہ اندرون ملک پروازیں بند ہیں کیونکہ پی آئی اے تباہ ہو چکی ہے آج لاہور سے بہاول پور پروازبند ہے۔ ڈیرہ غازی خان بند ہے ملتان کے لئے کسی وقت دن میں دو پروازیں ہوتی تھیں جو ایک تک محدود ہے اور سڑکوں پر موت کا رقص ہے۔کیا ہماری حکومتیں شہر کو شہر سے اور صوبے کو صوبے سے کاٹنا چاہتی ہیں؟
    جناب! ہمارے ہاں بدنظمی انتشار اور سرکاری محکموں کی دن بدن خراب حالت اور سہولتوں کی کمی کا یہ عالم ہے کہ یہ جو ہر سال بیرون ممالک پاکستان زرمبادلہ بھیجتے ہیں کیا آپ نے یا دوسرے پالیسی سازوں نے سوچا کہ جب بیرون ممالک پاکستانیوں کے ماں باپ بھی سے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے جو دنیا میں ہیں ہم نے بھی اللہ کے حضور جانا ہے ان پاکستانیوں کی نئی نسل جو ان ہو گئی تو ان کی طرف سے پاکستان بھیجنے والی رقوم تیسرا حصہ نہیں تو آدھی ضرور ہو جائے گی کیونکہ آپ خود بھی تحقیق کر چکے کہ بیرون ممالک پاکستانیوں کے بچے اب واپس نہیں آنا چاہتے، تعلیم صحت سفری سہولتیں، انرجی کی کمی اور سسٹم کی ٹوٹ پھوٹ سے وہ چھٹیوں پر بھی اپنے وطن آتے ہیں تو کم از کم نئی نسل کانوں کو ہاتھ لگا کر واپس جاتی ہے۔
    جناب محترم! کیا میں امید کروں کہ خاقان عباسی کے بیٹے جو ایک روشن خیال اور انتہائی شائستہ مزاج انسان ہیں کچھ عام آدمی کی مشکلات پر بھی توجہ دیں گے؟ اور بطور وزیراعظم اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں گے؟ کیا میں امید رکھوںکہ آپ دھند کے موسم میں کم از کم سڑکوں پر بڑھتے ہوئے حادثات کا نوٹس لیں گے اپنے متعلقہ وزیر سے این ایچ اے تک اور صوبوں کے انتظامات میں پولیس کے اہلکاروں کے ذمہ داران کا خصوصی اجلاس میں بلائیں گے؟ موسم کے ماہرین کے ساتھ ساتھ سانٹیفک انداز میں خراب موسم میں سڑکوں پر شرح اموات کو روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے؟
    محترم شاہد خاقان صاحب جو ذمہ داری آپ کو ”عارضی“ طور پرہی سہی ملی ہے اس پر آپ کو اپنے ضمیر کو بھی جواب دینا ہے۔ آپ نے عوام کو بھی اور سب سے بڑھ کر خدا کو بھی اللہ تعالیٰ آپ کو صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی توفیق عطاءفرمائے کیونکہ ہوائی اور ریل گاڑی کا سفر تو باوجوہ محدود ہو گیا اب سارا پریشر سڑکوں پر آنے کے بعد ان کی مرمت، دیکھ بھال، ٹریفک کے انتظامات، حادثات کی شکل میں جا بجا ڈسپنسریوں کے علاوہ برے موسم میں حادثات سے بچنے کے لئے دنیا بھر میں جو انتظامات کئے گئے ہیں ان کی رشنی میں یہاں بھی کام کروانے کی ابتدا کریں۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں اور فوراً اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کا اجلاس بلائیں اور سڑکوں پر موت بانٹتی ہوئی دھند کے پیش نظر ضروری انتظامات کریں۔
    ضیا شاہد چیف ایڈیٹر خبریں

     

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      اسلام آباد میں ڈیموں اور ندی نالوں میں تیراکی پر 2 ماہ کی پابندی

      لاہور میں کہیں ہلکی، کہیں زیادہ بارش اگلے 3 دن مزید بارش

      پیٹرول مہنگا ہونے کی وجہ صرف عالمی حالات نہیں حکومتی نااہلی بھی ہے: شاہد آفریدی

      تازہ ترین

      لاہور میں کہیں ہلکی، کہیں زیادہ بارش اگلے 3 دن مزید بارش

      سابق پاکستانی ہاکی کپتان خالد محمود 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.