All posts by Daily Khabrain

سچ تو یہ ہے

مریم ارشد
ممتاز سکالر ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی ”سچ تو یہ ہے“ میرے پاس بہت عرصہ پہلے آئی تھی۔ چونکہ میں خوفناک کرونا کا شکار ہو گئی تھی اور پھر بعد ازاں پوسٹ کووڈ پیچیدگیوں نے اس قدر الجھائے رکھا کہ سُدھ بُدھ بھی جاتی رہی اور جان کے لالے پڑے رہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی کتاب پڑھنے میں دیر سے دیر ہی ہوتی گئی۔اب پڑھنا شروع کیا تو پتہ چلا کہ یہ کتاب پاکستان کی تاریخ کو مسخ کرنے کی سازشوں اور قائدِ اعظمؒ سے بدظن کرنے کے من گھڑت الزامات اور نشرو اشاعت کو تاریخ کے مستند شواہد سے سچ کی سنہری کرنوں کو سامنے لانے کے مترادف ہے۔
محترم ڈاکٹر صفدر محمود کی یہ کتاب 40مضامین پر مشتمل ہے۔ یہ کالم چھپنا تو پہلے چاہیے تھا لیکن دیر ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب ملکِ عدم کو روانہ ہو چکے ہیں۔ وہ انتہائی دیانت دار سول سروس کے آفیسر تھے۔ نظریہ پاکستان کے محافظ اور روحانی فرزند تھے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو فکری انتشار سے بچانا اُن کا اولین مقصد تھا۔کتاب ”سچ تو یہ ہے“اب تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ وہ اسلامی نظریہ کے داعی تھے۔ اللہ ان سے مہربانی کا سلوک کرے آمین! پوری کتاب کو کسی ایک کالم میں سمونا خاصا مشکل کام ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اور قائدِ اعظم سے محبت ہی ڈاکٹر صاحب کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ قائدِ اعظم مشکلات اور خطرات کے سامنے ہار ماننے والے شخص نہ تھے۔ وہ ممتاز ترین رہنما تنِ تنہا تمام مسئلوں کو سُلجھاتے رہے۔ جب وہ عوام کے درمیان ہوتے تو ان کے دل کی دھڑکن عوام کی دھڑکن بن جاتی۔خرابی صحت کے باوجود قائدِ اعظم مسلسل کئی سالوں تک صرف کام ہی کرتے رہے۔ ”سچ تو یہ ہے“ پڑھنے کے بعد دل میں ارمان پیدا ہوتا ہے کہ اس کتاب کے ہر مضمون پر کچھ نہ کچھ لکھا جائے لیکن آج میں بات کروں گی قائدِ اعظم کے یومِ وفات 11ستمبر کے حوالے سے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ دنیا میں سینکڑوں لیڈران کا انتقال ہوا ہے لیکن کسی میں بھی آپ کو وہ حُسنِ اتفاق نہیں ملے گا جو قائدِ اعظم کے حوالے سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ قدرت کے فیصلوں میں بعض اوقات ایسے راز ہوتے ہیں جن کا مقصد واضح پیغام دینا ہوتا ہے۔ جو لوگ حد درجہ تشکیک اور مادیت کے زیر اثر پائے جاتے ہیں وہ ایسے رازوں کو نہیں سمجھتے۔ ڈاکٹر صاحب اسی کالم میں لکھتے ہیں میرے ایک محترم دوست ریاضی کے استاد ہیں اور علم الاعداد میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے فزکس کے ساتھ کائنات اور روحانیت کا مطالعہ بھی کر رکھا ہے۔ قصہ آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ قائدِ اعظم کے یومِ وفات سے کچھ دن پہلے میرے موبائل اور وہی میسج پروفیسر صاحب کے موبائل پہ بھی موصول ہوا تھا۔ میں نے موبائل کے فضول پیغاموں کی طرح اسے پڑھنے کی بھی زحمت نہ کی۔ لیکن پروفیسر صاحب علم الاعداد کی روشنی میں اس میسج پہ غور کرتے رہے اور پھر اعلان کیا کہ قدرت نے پاکستان اور قائدِ اعظم کو لازم و ملزوم قراردے دیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ پروفیسر صاحب نے کہا! ڈاکٹر صاحب میں نے علم الاعداد کی روشنی میں امریکہ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کا مطالعہ کیا ہے۔ حیرت ہے کہ مجھے وہ مماثلت یا قدرت کا راز کہیں نظر نہیں آیا جو قائدِ اعظم کی شخصیت میں ہے۔ ڈاکٹر صاحب آپ نے کئی برس پہلے ایک کالم میں لکھا تھا کہ قائدِ اعظم کا یومِ پیدائش، یومِ وفات، اور قیامِ پاکستان کا دن ایک ہی ہوتا ہے۔ مثلاً 2016میں 14اگست11ستمبر اور 25دسمبر کا دن اتوار ہی ہے۔ زندگی و موت پر اختیار صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان ان میں بے بس ہے۔ اس لیے اگر ان فیصلوں میں کوئی پوشیدہ حقیقت یا راز نظر آئے تو اسے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ پروفیسر صاحب نے اپنے مشاہدے، ادراک اور احساس کے حوالے سے پاکستان کے کئی مرحوم لیڈروں کا ذکر کیا اور کہا کہ اُن کہ ایامِ پیدائش و وفات کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہوا جوقدرت نے قائدِ اعظم کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔ مجھے ان میں وہ مماثلتیں نظر نہیں آئیں جس میں شہادت کے حوالے سے لیاقت علی خان بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اُٹھتے اُٹھتے پروفیسر صاحب نے علم الاعداد پر دسترس کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا: ڈاکٹر صاحب قائدِ اعظم کے حوالے سے یہ تین ایام اہم اور بنیادی حیثیت کے حامل ہیں۔ (1) پیدائش 25 دسمبر (2) وفات 11 ستمبر (3) یومِ پاکستان 14اگست۔ اگر ریاضی کے حوالے سے دیکھیں تو 25 سے 11منفی کریں تو 14 بچتا ہے جو ہمارا یومِ آزادی ہے۔اگر 25سے 14منفی کریں تو 11(قائدِ اعظم کا یومِ وفات)جمع کریں تو 25کا ہندسہ حاصل ہوتا ہے جو قائدِ اعظم کا یومِ پیدائش ہے۔ اگر قدرت نے ان ہندسوں میں سے کسی ایک کو بھی تبدیل کر دیا ہوتا تو صورتِ حال مختلف ہوتی۔ با ت ختم کرتے ہوئے پروفیسر صاحب نے اپنے علمی انداز میں کہا ”ہے ناں حیرت انگیز، منفرد اور فکر انگیز حقیقت؟ اسی لیے میں اسے قدرت کا وہ راز کہتا ہوں جسے عیاں کرنا مقصود تھا۔ یہ سب پڑھ کر میں تو خود حیرت کے سمندر میں ڈوب گئی۔ جھٹ میں نے اپنے موبائل میں اس سال کا کیلنڈر کھول کر دیکھا تو 14اگست، 11ستمبر،25دسمبر سب کا دن ہفتہ ہے۔ حتیٰ کے پروفیسر صاحب کے مطابق 16اکتوبر جو لیاقت علی خان کی شہادت کا دن ہے وہ بھی ہفتہ ہی ہے۔ یہ واقعی ایک حیرت انگیز حقیقت ہے۔ ستمبر کے اوائل ہی سے قائدِ اعظم کے ڈاکٹروں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اب ان کی صحت ٹھیک نہیں ہو گی۔
علالت کے باوجود اکثر عالم خواب میں ان کی زبان سے کشمیر، مہاجرین، آئین اور پاکستان کے الفاظ سنائی دیتے۔ قائدِ اعظم کہا کرتے تھے ”قوم نے جو کام میرے سپرد کیا ہے اور قدرت نے جس کے لیے مجھے مقرر کیا وہ کام پورا ہو گیا۔ پاکستان بن گیا ہے۔ اب یہ قوم کا کام ہے کہ وہ اسے ناقابلِ تسخیر اور ترقی یافتہ ملک بنائے۔ حکومت کا نظم و نسق دیانت داری اور محنت سے چلائے۔ میں تھک گیا ہوں۔ اب مجھے زندگی سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔“ 11ستمبر کو عزم و استقلال، فہم و فراست،بصیرت اور وفا کا لاثانی لیڈر اپنی قوم سے جدا ہو گیا۔ آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے: آمین!
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭……٭……٭

گینگسٹر

علی سخن ور
شکر کی بات یہ کہ ’وکاس دوبے‘نام کے بھارتی گینگسٹر کو بھارتی میڈیا نے وقاص کہہ کر مسلمان قرار نہیں دے دیا اور اس کی ڈوریاں پاکستان سے ملانے کی کوشش بھی نہیں کی۔پھر یہ بھی ہوا کہ وکاس کی چتا جلانے کے تصاویر بھی منظر عام پر آگئیں جن سے لوگوں کو پختہ یقین ہوگیا کہ مذکورہ مجرم مسلمان نہیں تھا۔Vikas Dubayایک عرصے تک سارے بھارت میں خوف کے استعارے کے طور پر موضوع گفتگو رہا، پھر یہ ہوا کہ پچھلے برس 3جولائی کو ایک پولیس پارٹی اس کی تلاش میں اس کے گاؤں بکرو کی طرف روانہ ہوئی۔ یہ گاؤں اتر پردیش کے علاقے میں ہے۔ وکاس پولیس کو ایک قتل کے جرم میں مطلوب تھا۔اس گینگسٹر کو پولیس پارٹی کی آمد کی پیشگی اطلاع بھی مقامی پولیس سٹیشن میں تعینات اس کے نمک خواروں نے دے دی۔ وکاس اور اس کے ساتھیوں نے مکانوں کی چھتوں سے ایسی اندھا دھند فائرنگ کی کہ پولیس پارٹی کے 8افراد پل بھر میں ڈھیر ہوگئے۔ اس قتل و غارت کے نتیجے میں وکاس دوبے اور بھی شیر ہوگیا، اس نے اعلانیہ سارے کے سارے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ اسی سال 10جولائی کو اس گینگسٹر کو پولیس مقابلے میں پار کردیا گیا۔ وکاس کے ہاتھوں مارے جانے والے آٹھ پولیس ملازمین کے قتل کے ساتھ ساتھ خود وکاس کے پولیس مقابلے میں مارے جانے کی عدالتی تحقیقات شروع ہوئیں تو ایسے ایسے راز سامنے آئے کہ لوگ حیران رہ گئے۔
عدالتی کمیشن نے ٹھوس شواہد کے ساتھ رپورٹ میں بتایا کہ مقامی انتظامیہ سے لے کر بہت اوپر تک 26سے زائد افسر ایسے تھے جو اس گینگسٹر کے لیے مسلسل ڈھال تھے۔ اسے اسلحہ لائیسنسوں کے اجراء سے لے کر مختلف فرضی کاروبار ی اجازت ناموں تک سرکاری اہلکاروں کی مکمل سرپرستی حاصل تھی۔سرکاری اہلکاروں کی مجرموں کی سہولت کاری کوئی بالکل نئی بات نہیں لیکن اس کیس میں یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ وکاس دوبے کو بی جے پی کے مختلف انتہا پسند گروہوں کی آشیر باد بھی حاصل تھی۔ اس آشیر باد کے عوض ’وکاس دوبے‘ مسلمانوں کو خصوصی طور پر اپنی لوٹ مار کا نشانہ بناتا تھا۔یہ بات بھی سننے میں آرہی ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد بی جے پی اسی طرح کے بہت سے پیشہ ور مجرمان کو مختلف بھیس بدل کر افغانستان بھیجنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ ان پیشہ ور مجرموں کو ایک ہی ٹارگٹ دیا جائے گا کہ کسی طرح افغان عوام کو پاکستان کے خلاف اکسا کر سرحد کے دونوں اطراف حالات کو خراب کریں۔ اگرچہ گذشتہ ہفتے ہمارے آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے دورہ افغانستان اور دو تین روز پہلے پاکستان میں ہونے والے خطے کے آٹھ ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد بھارت کے لیے بظاہر ایسی کوئی شرارت ممکن تو نہیں دکھائی دیتی لیکن چھوٹے موٹے بچگانہ واقعات کے امکان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔واضح رہے کہ بھارت کو اس اہم اجلاس میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی۔
افغانستان کی تعمیر و ترقی میں پاکستان کے ہر قسم کے کردار کو ختم کرنے کے خواہشمند ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں، آئی ایس آئی چیف کے دورہ افغانستان پر جو صف ماتم بچھی اس کی شدت کو بیان کرنا کوئی آسان کام نہیں۔بھارت کا شاید ہی کوئی نیوز چینل یا اخبار ہو جس میں آئی ایس آئی چیف کے دورہ افغانستان پر آہ و بکا سننے میں نہ آئی ہو۔رہی سہی کثر پاکستان میں ہونے والے کثیر القومی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اجلاس نے پوری کردی۔ اس اجلاس میں روس، چین، ایران، تاجکستان،قازقستان،ترکمانستان اور ازبکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد افغانستان میں فروغ امن کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کو مستقبل قریب میں درپیش ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے حکمت عملی کا تعین کرنا بھی تھا۔ماہرین اس اجلاس کو اس لیے بھی بہت اہمیت دے رہے ہیں کہ اس اجلاس کے پاکستان میں انعقاد نے دنیا کو یہ حقیقت تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان سے بڑھ کر کوئی اور ملک مخلص نہیں ہوسکتا۔یہاں اس سچائی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد دنیا کا سیاسی منظر نامہ نہایت تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔
روس، چین، ایران، تاجکستان، قازقستان، ترکمانستان، افغانستان اور ازبکستان جیسے ممالک پاکستان کے ساتھ مل کر ایک ایسا بلاک تشکیل دے رہے ہیں جو خطے میں امریکی مفادات کو بری طرح زک پہنچا سکتا ہے۔صرف امریکا ہی نہیں بلکہ اس کے حواری ملکوں کے لیے بھی اس خطے میں شاید آئیندہ کئی دہائیوں تک کوئی جگہ ہی نہیں رہے گی۔ ایسے میں بھارت کے پاس جلنے کڑھنے کے سوا اور کوئی بھی راستہ باقی نہیں رہے گا۔ سنگلاخ پہاڑوں میں بسنے والے افغان بھائیوں کو آج تک نہ کوئی فوج شکست دے سکی ہے نہ ہی کوئی ہتھیار۔افغان اپنی دوستی اور دشمنی دونوں  معاملات میں ہمیشہ سے ایک بے لچک رویے کے حامل رہے ہیں۔گیارہ ستمبر کو ایک طرح سے افغانستان کے قومی دن کی حیثیت دینے والے افغانوں کے بارے میں اگر یہ تاثر ہے کہ ان پر زور زبردستی ان کے ارادوں کو متزلزل کرسکتی ہے تو یقین مانیں کہ یہ اس صدی کی سب سے احمقانہ بات ہوگی۔افغان قوم بھارتی گینگسٹر وکاس دوبے کی طرح نہیں کہ جسے بی جے پی حکومت کرائے کے ٹٹو کے طور پر استعمال کرتی رہی اور جب اس کی ضرورت نہیں رہی تو اسے گولیوں سے بھون دیا گیا۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

چین نے تھوریئم ایندھن والا، دنیا کا پہلا تجارتی ایٹمی بجلی گھر بنا لیا

بیجنگ: چین نے دنیا کا پہلا ایسا تجارتی ایٹمی بجلی گھر تیار کرلیا ہے جس میں نیوکلیائی ایندھن کے طور پر یورینیم یا پلوٹونیم کی جگہ تھوریئم استعمال کی جاتی ہے۔

یہ ایٹمی بجلی گھر اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کیونکہ اسے ٹھنڈا رکھنے کےلیے روایتی ایٹمی بجلی گھروں کے برعکس، پگھلا ہوا نمک استعمال ہوتا ہے۔

’’مولٹن سالٹ ری ایکٹر‘‘ کہلانے والی یہ ٹیکنالوجی آج سے تقریباً 60 سال پہلے امریکا میں ایجاد کی گئی تھی لیکن 1969 میں اس پر کام ترک کردیا گیا تھا۔

Advertisement

اس ٹیکنالوجی میں عام نمک کو بجلی گھر کے مرکزی حصے (core) کے اندر، مائع حالت میں، نیوکلیائی ایندھن کے ساتھ حل کیا جاتا ہے جو نہ صرف ری ایکٹر کا درجہ حرارت قابو میں رکھتا ہے بلکہ بجلی بنانے میں نیوکلیائی ایندھن کی مدد بھی کرتا ہے۔

چین نے اسی ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دیتے ہوئے ایک ایسا تجارتی ایٹمی بجلی گھر تیار کرلیا ہے جس کا ایندھن ’’تھوریئم‘‘ دھات ہے۔

حفاظتی نقطہ نگاہ سے یہ بجلی گھر شمالی چین میں صحرائے گوبی کے ایک ایسے ویران علاقے میں بنایا گیا ہے جو انسانی آبادی سے بہت دور ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیم اور پلوٹونیم ایندھن والے ایٹمی بجلی گھروں کے مقابلے میں تھوریئم ایندھن والے ایٹمی بجلی گھر زیادہ بہتر ثابت ہوسکتے ہیں جبکہ ’’مولٹن سالٹ‘‘ ٹیکنالوجی سے انہیں اور بھی زیادہ محفوظ اور ماحول دوست بنایا جاسکتا ہے۔

اگرچہ تھوریئم ایندھن والے ایٹمی بجلی گھروں (تھوریئم نیوکلیئر ری ایکٹرز) کے معاملے میں بھی خطرات و خدشات موجود ہیں لیکن وہ روایتی (یورینیم/ پلوٹونیم ایندھن والے) ایٹمی بجلی گھروں کے مقابلے میں خاصے کم ہیں۔

دنیا کے اس پہلے تھوریئم نیوکلیئر ری ایکٹر سے نہ صرف چین بلکہ عالمی ماہرین کو بھی بہت امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ اگر یہ ری ایکٹر کامیاب رہا تو ایٹمی طاقت کے پرامن اور ماحول دوست استعمال کا ایک نیا راستہ ہمارے سامنے ہوگا۔

چینی ذرائع کے مطابق، صحرائے گوبی میں بنایا گیا پہلا تھوریئم نیوکلیئر ری ایکٹر اسی مہینے میں کام شروع کر دے گا۔ البتہ اس حوالے سے کسی خاص دن اور تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان کے دورہ بنگلادیش کے شیڈول کا اعلان ‏

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ قومی کرکٹ ٹیم پانچ سال بعد بنگلا دیش کا دورہ کرے گی جہاں تین ٹی ‏ٹونٹی انٹرنیشنل میچز اور دو ٹیسٹ میچ کھیلے جائیں گے۔

یہ دونوں میچز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہوں گے۔

دورے میں شامل تمام ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز شیر بنگلا اسٹیڈیم ڈھاکا میں کھیل جائیں گے. یہ میچز 19، 20 ‏اور 21 نومبر کو کھیلے جائیں گے. ‏

دونوں ٹیموں کے مابین ٹیسٹ سیریز کا پہلا میچ ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم چٹاگانگ میں کھیلے جائیں گے. ‏یہ میچ 26 سے 30 نومبر تک جاری رہے گا. سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ چار سے آٹھ دسمبر تک ڈھاکہ میں کھیلا ‏جائے گا.‏

آئی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پاکستان کی ٹیم ایک جیت کے ساتھ فی الحال دوسرے نمبر پر موجود ہے ‏جبکہ بنگلہ دیش نے چیمپئن شپ میں اپنے سفر کا آغاز ابھی نہیں کیا ہے.‏

ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے 16 ستمبر سے کھولنے کا اعلان

ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے 16 ستمبر سے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا کہ مجھے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی ہے کہ تمام تعلیمی ادارے 16 ستمبر سے  کھول دیے جائیں گے۔

امریکا کا پاکستان کیلئے فائزر ویکسین کی 3 لاکھ سے زائد خوراکوں کا عطیہ

مریکا نے پاکستان کو فائزر ویکسین کی مزید 3لاکھ سے زائد خوراکیں عطیہ کی ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق لاہور ایکسپو سینٹر میں فائزر ویکسین کی خوراکیں محکمہ صحت کے حوالے کرنے کی تقریب سے وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے خطاب کر تے ہوئے کہاکہ  15 سال سے 18سال تک کے افراد کو فائزر ویکسین لگ رہی ہے۔

اس مو قع پر انہوں نے بتایاکہ لاہور میں فائزر کی 3لاکھ 20ہزار580خوراکیں وصول کی جارہی ہیں، امریکا کی جانب سے ملتان، فیصل آباد کےبعد لاہورکوویکسین عطیہ کی گئی ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کورونا ویکسین مہم میں سپلائی کا مسلسل ہونا بہت ضروری ہے ، اب تک 3 کروڑ ویکسین لگ چکی ہے، 15 سال سے 18سال تک کے افرادکو فائزر ویکسین لگ رہی ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے مزید کہا کہ اسپتالوں میں 87 فیصد کیس ویکسین نہ لگنے کی وجہ سے آئے، آئی سی یو میں بھی وہ ہی لوگ ہیں جنہیں ویکسین نہیں لگی۔

واضح رہےکہ گذشتہ روز امریکا نے سندھ کے لیے بھی  فائزر ویکسین کی مزید 3لاکھ20ہزار سے زائد خوراکوں کا عطیہ دیا تھا ، امریکی قونصل جنرل مارک آسٹرو نے ویکسین وزیرصحت سندھ کے حوالے کیں۔

خوراکیں امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے 66 لاکھ فائزر ویکسین کا حصہ ہیں ، کوویڈ ویکسین کی چوتھی قسط سے پاکستان کو ملی ویکسین کی تعداد ایک کروڑ 6 لاکھ ہوچکی ہے۔

اس موقع پر امریکی قونصل جنرل مارک آسٹرو کا کہنا تھا کہ کوویڈ کےخلاف پاکستانی عوام کےساتھ مل کرکام کرنے پر فخر ہے، عطیہ پاکستانی عوام کی زندگیاں بچانے اور وبا کے خاتمے کے لیے ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہاکہ ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں کے لیے آہستہ آہستہ پابندیاں بڑھاتے چلے جائیں گے، ایسے کام جس سے وہ دوسروں کےلیے خطرہ بن سکتے ہیں ان سے روکنا شروع کردیں گے، 30 ستمبر تک دونوں ڈوز نہ لگوانے والوں پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔

انہوں نے ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں پر پابندیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا تدریسی اور غیر تدریسی تمام عملہ 30 ستمبر کے بعد اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

 اسد عمر نے مزید کہا کہ 20 لاکھ کی آبادی والے شہر اسلام آباد میں 52 فیصد آبادی کی مکمل ویکسی نیشن ہوچکی ہے۔

چین کا طالبان حکومت کیلیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر امداد کا اعلان

کابل: طالبان حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے چین کے ایلچی وانگ یو نے ملاقات کی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ 

امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر اللہ متقی سے افغانستان کے لیے چین کے خصوصی ایلچی وانگ یو نے اہم ملاقات کی۔

اس موقع پر چین کے ایلچی نے کورونا ویکسین کی 30 لاکھ خوراکیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی مالی امداد کی فراہمی سے آگاہ کیا۔

ترجمان طالبان کے مطابق ملاقات کے دوران چین کے خصوصی ایلچی نے افغانستان کے ساتھ انسانی، معاشی، سیاسی تعاون اور تعلقات قائم رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

 

امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے چین کی مالی امداد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین اور افغانستان ہمسائیہ ممالک ہیں اور دوطرفہ تعلقات کی ترقی دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے۔

واضح رہے کہ 8 ستمبر کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان، ایران اور تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے ہم منصبوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران افغان شہریوں کے لیے 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی مالی امداد کی پیشکش کی تھی جو غذائی قلت اور کورونا وبا پر خرچ کی جائے گی۔

پی ڈی ایم کابیانیہ اور ملک گیر تحریک

محمدنعیم قریشی
اس میں اب کوئی شک باقی نہیں رہاہے کہ مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے معاملہ اس وقت ووٹ کو عزت وو سے نکل کر کام کو عزت دوتک جاپہنچا ہے۔ شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ وہ خلائی مخلوق سے ٹکر اکر کچھ حاصل نہ کرسکیں گے بڑے بھائی کے عبرت ناک انجام سے باخبر چھوٹا بھائی اب پنجاب کے عوام کو اپنے دور کے ترقیاتی منصوبوں کی افادیت سمجھانے کی کوششوں میں مصروف ہے، ان کے ساتھ پنجاب میں خواجہ سعد رفیق سمیت بہت سے اہم رہنما بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ وہ اب زیادہ دیر تک اداروں کی ہرزہ سرائی نہیں کرسکتے جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ اب زیادہ دیر اقتدار کے بغیر رہتے ہوئے اکتا گئے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ شریف خاندان میں اب بیانیے کے ساتھ وراثت کی جنگ کا کھلم کھلا آغاز ہوچکاہے۔مریم اورنگزیب جو اپنی ہر تقریر میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگواکر اپنی آواز لندن تک پہچانے کی کوشش کیا کرتی تھی اور یہ حکم مریم نواز کا بھی تھا کہ والد محترم میاں نوازشریف کی جارحانہ انداز سیاست کا دامن کسی بھی حال میں نہیں چھوڑنا یہ ہی وجہ ہے کہ مریم اورنگزیب کی تھکا دینے والی اور خلائی مخلوق کو ناراض کرنے والی تقریروں سے تنگ آکر شہباز شریف نے اپنا ترجمان پنجاب کے اہم لیگی رہنما ملک احمد خان کو مقرر کردیاہے جو کہ مریم نواز کے برعکس نپے تلے الفاظ میں سوچ سوچ کر بولنے والے آدمی ہیں، اور اس کے ساتھ ہی شہباز کی پرواز کوطول دینے کے لیے خواجہ سعد رفیق نے کنٹومنٹ بورڈ کے انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ہٹواکر کام کو عزت دو کا نعرہ درج کروادیاہے گو کہ میاں نوازشریف کی بے جان تصویر تو نعرے کے پاس لگی ہوئی ہے مگر ان کا بیانیہ ختم کردیا گیا۔
اسی طرح آئے روز ہم خواجہ آصف، شاہدخاقان عباسی اور احسن اقبال اور چودھری نثار جیسے اہم لیگی رہنماؤں کی گفتگو نیوز چینلوں میں دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں جو فی الحال آپس میں ہی ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہباز شریف کا رویہ ہی نہیں بدلہ بلکہ ان کی ٹیم بھی بدل چکی ہے اور ویسے دیکھا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ نواز کی نسبت شہباز کے لیے زیادہ نرم گوشہ رکھتی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ شہباز شریف آج کل اپنے مفاہمتی بیانیے کی بدولت اسٹیبلشمنٹ میں اپنی پارٹی اور آنے والے انتخابی منظر نامے میں بطور وزیراعظم اپنی قبولیت کے راستے تلاش کرتے پھررہے ہیں۔اس موقع پر شہباز شریف کی مفاہمت اور قومی حکومت کے بیانیے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ انہیں آئندہ کا سیاسی نقشہ کچھ ایسے نظر آرہا ہے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے نقشے قدم پر چلنے کی بجائے اپناکام بنتا‘ بھاڑ میں جائے جنتا کے فارمولے کو اپنائے ہوئے ہیں۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کی یہ طرز سیاست رہی ہے کہ حالات جتنے بھی برے ہوں وہ پارلیمانی سیاست سے دستبرداری کرنے سے دور رہتی ہے اور گزشتہ سالوں سے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مفاہمت کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان سمیت مریم نواز کا رویہ سب کے سامنے ہے مریم اپنے والد کا انداز سیاست اپنا کر خالی ہاتھ آج کل الگ تھلگ ہیں۔
بلاول اور مریم کے بیانات سے دونوں جماعتوں کے اختلاف بڑھے تو ہیں مگر شہباز شریف بلاول کو ساتھ لے کر چلنے کے خواہشمند ہیں۔اگرہم اپوزیشن کے اتحاد کی بات کریں توسندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے پی ڈی ایم سے علیحدہ ہوجانے کے باوجود جمیعت علماء اسلام(ف) کراچی شہر میں پی ڈ ی ایم کا ایک متاثر کن جلسہ منعقد کرانے میں کامیاب تو ہو گئی ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اب اسلام آباد میں بھی عوام کا لاؤ لشکرلے کر پہنچ جائیں گے۔
پی ڈی ایم کے اس گٹھ جوڑ نے اتحاد کے قیام سے لیکر اب تک پاکستان کے مختلف شہروں میں لگ بھگ سترہ جلسے کیے جبکہ اتوار کو کراچی میں ہونے والا جلسہ اتحاد اکا اٹھارواں جلسہ تھا۔کراچی میں پی ڈی ایم کی جانب سے اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ حکومت کے لیئے کوئی خطرہ نہیں بنے گا کیونکہ جہاں ن لیگ قیادت کے جھگڑوں میں گھری ہوئی ہے وہاں پیپلزپارٹی کے بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں کیونکہ نہ تو حالات اس کے لیئے سازگار ہیں اور نہ ہی پی ڈی ایم اس کے لیئے سنجیدہ ہے، یہ اعلان محض سیاسی شعبدہ بازی ہے اس سے حکومت کے لیئے کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ پی ڈی ایم کی قیادت اندرون خانہ کسی نہ کسی لحاظ سے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں ہے اور وہ اپنے معمولی ذاتی مفادات کسی اہم قومی مقصد کے لیئے قربان کرنے پر آمادہ نہیں، ایسے میں کوئی اسلام آباد مارچ کیسے نتیجہ خیز ہو سکتا ہے؟ اس طرح پی ڈی ایم میں موجود سیاسی جماعتوں کے آپس میں سیاسی اختلافات بھی ہیں پیپلز پارٹی سندھ کا اقتدار چھوڑنے پر تیار نہیں اور وہ اسی لیئے پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کر چکی ہے جبکہ دیگر جماعتوں کے قائدین میں بھی اتحاد اور اتفاق کا شدید فقدان ہے۔
اِدھر چھوٹے بھائی کی نافرمانیوں سے بے خبر بڑے بھائی میاں نواز شریف لندن سے بیٹھ کر کبھی کبھار من پسند مقامی قائدین سے بات کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیاسی مشاورت کر لی ہے جبکہ مسلسل ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے ان کے ووٹر بھی اب ان سے اکتا گئے ہیں۔دوسری جانب ن لیگ اور پی پی میں الزام تراشی کی بوچھاڑ نے ایسا رخ اختیار کیا ہے کہ عمران خان کو سیلیکٹڈ کہنے والے ایک دوسرے کو ہی سیلیکٹڈ کے طعنے دینے لگے ہیں، اسمبلیوں سے استعفے دینے کی بات کی تو پیپلز پارٹی کو اپنی سندھ میں حکومت نظر آنے لگی جس سے اس نے اپنی راہیں جد ا کر لیں یہ سوچتے ہوئے کہ کہیں انہیں ایک صوبے کی حکومت سے بھی نہ ہاتھ دھونے پڑ جائیں کیونکہ پیپلز پارٹی کے پاس کھونے کے لیئے صوبہ سندھ ہے جبکہ ن لیگ کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔
(کالم نگار مختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

برادر ملک میں برادرز کی حکومت

ندیم اُپل
معروف ادیب،ڈرامہ نگار اور دانشور اشفاق احمد(مرحوم) نے ایک بار اپنے کسی پروگرام میں کہا تھا کہ جو مولوی پتلون کوٹ پہن کر اور ٹائی لگا کر انگریزی بولے وہ بڑا خطرناک ہوتاہے۔اشفاق احمد نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب ابھی پاکستان اور دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا تصور بھی نہ تھااور اشفاق احمد کی اس بات کو محض مزاح کے طور پر لیا گیا تھا مگر آج جب ہم افغانستان میں 20سال تک جنگ لڑنے اور امریکہ کو شکست دینے والے طالبان کو انکے ترجمان کو بڑے شستہ لب و لہجہ میں فرفر انگریزی بولتا دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے دانشور کوئی بھی بات بے مقصد اور بلاجواز نہیں کرتے بلکہ ان کا اشارہ ماضی،حا ل اور مستقبل سے کسی نہ کسی حوالے سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ طالبان چونکہ انگریزی بولتے ہیں اور بقول اشفاق احمد(مرحوم) اس لیے خطرناک ہیں مگر یہ بات تو تسلیم کرنا پڑے گی کہ انہوں نے امریکہ بہادر کو جس مستقل اور بہادری سے شکست دے کر دنیا میں اپنی بہادری کے جھنڈے گاڑے ہیں اس پر وہ تعریف کے قابل ہیں بلکہ اب تو طالبان کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو بھی آزاد کروائیں گے جس پر بھارتی حکومت کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے اور راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے۔
آج یہ کہا جا رہا ہے کہ طالبان نے امریکہ کو شکست دی مگر اس میں یہ اضافہ کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہ ہوگا کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی شکست دی ہے۔مودی سرکار تو شاید یہ خواب دیکھ رہی تھی کہ امریکہ کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی طرح افغانستان کو بھی اپنی طفیلی ریاست بنا لے گی جس کے لیے اس نے افغانستان میں پہلے ہی اربوں کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے حتی کہ بھارتی صنعت کاروں نے بھی افغانستان کا صنعتی کنڑول اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھامگر اشرف غنی کے ملک سے چلے جانے کے بعد تواس کی لٹیا ہی ڈوب گئی۔اشرف غنی کے آخری دنوں میں بھارت نے کابل سے اپنے لوگوں کو نکالنے کے بہانے جہازوں میں اشرف غنی کو بم اور دوسرا اسلحہ بھی بھجوایا تھا تاکہ طالبان کو شکست دی جا سکے اور کامیابی کی صورت میں وہ خود کابل کا کنٹرول سنبھال سکے مگراشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے اور طالبان کے کابل پر قبضے سے بھارت کے سارے خواب ادھورے رہ گئے افغانستان بھی ہاتھ سے گیا اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی۔
اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو جب سے طالبان نے افغانستان کا نظم و نسق سنبھالا ہے انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایاکہ جس سے ان کی انتہاپسندی کی جھلک نظرآتی ہو بلکہ انہوں نے آتے ہی اپنے تمام مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا اور دنیا کے لیے خیر سگالی کا پیغام بھجوایا جو اس امر کی دلیل ہے کہ طالبان کی سوچ بدل چکی ہے خا ص طور پر اشرف غنی جس طرح سے افغانستان کے حالات خراب کرکے گئے ہیں ایسے میں اگر طالبان دنیا سے کٹ جائیں گے تو ان کو جس معاشی بدحالی کا سامنا ہے کرناپڑسکتا۔اس سے ان کی فتح شکست میں بھی بدل سکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کے تمام ممالک کو محبت کا پیغا م بھجوا رہے ہیں اور ساتھ ہی وہ بیرونی دنیا سے امداد کی اپیلیں بھی کر رہے ہیں۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ ایسے میں پاکستان بھی اپنے برادر اسلامی ملک کے برادران سے دور نہیں رہا اور اس نے دو بار طالبان حکومت کو امدادی سامان کے جہاز بھجوائے ہیں اور پاکستان کی یہ وہ حکمت عملی ہے جس سے طالبان کے دلوں میں اگر کوئی کدورت تھی بھی تو وہ بھی ختم ہو جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکا حالیہ دورہ افغانستان اور وہاں گلبدین سمیت طالبا ن کے سرکردہ لیڈروں کی ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں اس امر کی طرف واضح اشارہ ہیں کہ ان ملاقاتوں کے نتیجہ میں آنیوالے دنوں میں پاکستان اور طالبان حکومت کے تعلقات کا ایک نیا اور خوشگوار دور شروع ہوگا۔ان ملاقاتوں سے بھارت اور اس کا میڈیا جس قدر خوف زدہ ہوا اور بھارتی نیوز چینلزکے اینکرز سے پاکستان کے خلاف جس طرح کا زہر اگلنے لگے اس سے ان کے ذہنی دیوالیہ پن کا اندازہ ہوتا ہے۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ طالبان نائن الیون کے موقع پر ہی حلف برداری کی تقریب رکھیں گے تاکہ امریکہ کو نیچا دکھا سکیں اور دنیا میں اپنی تاریخ سازعسکری کامیابی کا ڈنکا بجا سکیں مگر طالبان قیادت نے ایسا نہ کرکے اپنی سیاسی فہم و فراست کا ثبوت دیا ہے۔لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ طالبان آنیوالے دنوں میں اپنی سیاسی بصیرت سے دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

سیکھنے کی بات

اسرار ایوب
کوئی کتنا ہی بڑاترقی پسند کیوں نہ ہو لیکن جاپانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے کہ ایک وقت وہ تھا جب جاپانی فوج میں نہ صرف خود کش بمباروں کو ریکروٹ کیا جاتا تھا بلکہ ان کے لئے بطورِ خصوصی سازوسامان بھی تیار کیا جاتا تھا۔ مثلاً”اوھکا“(OHKA) جاپان کا تیار کردہ خودکش جہاز تھا جس میں تین راکٹ لگے ہوتے تھے اور جو 2646پاؤنڈ وزنی تیز دھماکہ خیز مواد اپنی ناک میں اٹھا کر اڑ سکتا تھا،اس چھوٹے سے جہاز کو(جس میں بمشکل ایک آدمی بیٹھتا تھا) ایک بڑا بمبار جہاز اٹھا کر ہدف کے قریب لے جاتا اور چھوڑ دیتا،اوھکا 220میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑتا ہوا جب ہدف کے اور بھی قریب پہنچتا تو اس کا پائلٹ اس کی راکٹ موٹرز کو آن کر دیتا جس کے بعد یہ 600میل فی گھنٹہ کی طوفانی رفتار سے(اپنے پائلٹ سمیت) امریکی بحری جہازوں سے ٹکرا کر انہیں پاش پاش کر دیتا۔ دوسرے خودکش جہاز کو ”کیٹن“ (KAITEN) کہتے تھے جس کی لمبائی 48فٹ تھی اور جو 3400پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد اٹھا کر اڑنے کی استطاعت رکھتا تھا،اسے اڑانے والا بھی اس کے ساتھ ہی ”شہید“ ہو جاتا تھا۔یہ تو تھے فضائیہ کے خود کش حملہ آور، اب آیئے نیوی اور آرمی کی طرف، ”شینیو“(SHINYO)اس خود کش موٹر بوٹ کا نام تھا جو اتنی تیزی کے ساتھ اپنے ٹارگٹ کی طرف بڑھتی تھی کہ اسے نشانہ بنانا تقریباً تقریباًناممکن ہوتا تھا،اس پر بھی ایک ہی شخص بیٹھتا تھا جو اسے امریکی بحری جہازوں کے ساتھ ٹکرا کران کے ساتھ خود کو بھی نیست و نابود کر دیتا تھا،”کیریو“(KAIRYU)ایک خودکش آب دوز ہوا کرتی تھی اور اس کا کام بھی اپنے سوار سمیت ہدف سے ٹکرانا تھا،”فکیوریو“ (FUKURYU) اس جاپانی تیراک کو کہا جاتا تھا جو اپنے جسم کے ساتھ بم باندھ کر ٹارگٹ سے ٹکرا جاتا تھا اور”نیکاکو“(NIKAKU)اس خود کش بمبار (سپاہی) کو کہتے تھے جو دھماکہ خیز مواد کے ساتھ رینگتے رینگتے امریکی ٹینکوں یا دوسری فوجی گاڑیوں کے نیچے پھٹتا تھا۔
دوسری جنگِ عظیم میں جاپانیوں نے خود کش حملوں کے لیے کل ملا کر750 اوھکا جہاز،9200 شینیوموٹر بوٹ(جن میں سے 6200نیوی اور3000آرمی کے لیے تھیں)،300کیریو آب دوزیں اور بے شمار’فکیوریو‘اور ’نیکاکو‘ (خود کش بمبار)تیار کیے اور جب انہیں استعمال کرنا شروع کیا تو امریکہ کے اوسان خطا ہوگئے،اسی لیے تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرے اور جاپان کو وہ چوٹ لگی جس کی ٹیس قیامت تک ختم نہیں ہو گی۔یہی وہ مقام تھاجس سے جاپانیوں کی تاریخ کاوہ نیا باب شروع ہوا جس نے جاپان کوسائنسی،معاشی اور معاشرتی تعمیر و ترقی کی اس سطح پر لاکھڑا کیا کہ اس کے پاس اسلحہ بارود ہے نہ خود کش بمبار لیکن کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرتا،جس امریکہ کو سینکڑوں بلکہ ہزاروں خود کش جہازوں،موٹر بوٹوں، آبدوزوں اور حملہ آوروں پر مشتمل ایک بڑی ہی مضبوط اور فعال آرمی بھی حساب کتاب میں نہ لاسکی،وہی امریکہ جی ڈی پی،جی این پی، فی کس آمدن اور انسانی ترقی کے اعدادوشمار سے”ہنڈز اپ“ ہو گیا۔اس سنہرے دورتک پہنچنے کے لیے جاپانیوں نے تین کام کیے،پہلا یہ کہ اپنی شکست تسلیم کی،دوسرا یہ کہ اپنے لیے ایک نئی منزل کا تعین کیا اور تیسرا یہ کہ اپنے ملک میں وہ ثقافتی انقلاب برپا کیا جو نئی منزل تک پہنچنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔
جاپانیوں نے یہ جان لیا کہ جب تک سائنس و ٹیکنالوجی کی راہ نہیں اپنائی جائے گی،تحقیق و تخلیق کا دامن نہیں تھاما جائے گا، اندھی تقلید و بھیڑ چال سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی جائے گی،تب تک ایک خود مختار وباوقارقوم کی شکل میں نہیں ابھرا جا سکتا۔اور یہ مان لیا کہ جس منزل کا خواب وہ دیکھ رہے ہیں وہاں پہنچانے میں کلیدی کردار سائنسدان اور مفکرین ہی ادا کر سکتے ہیں۔چناچہ انہوں نے ان ”اربابِ عقل و فکر“کوکچھ اس طرح اپنا ہیروقرار دے دیا کہ تقاریب میں انہیں مہمانِ خصوصی کے طور پر بلایا جاتا۔
یومِ آزادی پر انہی کے پیغامات نشر کیے جاتے، میڈیا انہی کی خبروں سے بھرا ہوتا،سب سے زیادہ تنخواہیں بھی انہی کو دی جاتیں،ڈراموں اور فلموں میں بھی سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا۔الغرض پورے کاپورا معاشرہ سائنس و ٹیکنالوجی کے گیت گانے لگا۔اس ثقافتی انقلاب سے ہوا یہ کہ جاپانی بچوں میں خودبخود تحقیق و تخلیق کا ایک بڑا ہی زبردست قسم کا رجحان پیدا ہوگیا(اور وہ وقت بھی آیا کہ پرائمری سکولوں کے بچے ڈیجیٹل گھڑیاں بنانے لگے) جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 50سال میں ہی جاپانی دنیا پر چھا گئے اور انہوں نے اپنے خوابوں کاآفتاب اپنے ہاتھوں سے حقیقت کی دنیا میں اچھال دیاجس کی کرنوں سے ان کی تقدیر کے اندھیرے یکدم اجالوں میں تبدیل ہوگئے۔
جاپانیوں کی کہانی اس لئے سنائی کہ ایک زمانے میں جو نفسیات ان کی تھی کم و بیش وہی آج کل ہماری ہے۔کون نہیں جانتا کہ ہمارا ہر راستہ اسلحہ و بارود اور جنگ وجدل کی طرف جاتا ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا رول ماڈل بھی بالعموم ایک جنگجو ہوتاہے۔ کاش ہم جاپانیوں کی تاریخ سے سبق سیکھ سکیں لیکن اس کے لئے ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑے گی جس کی عادت ہمیں ہے ہی نہیں، اس کے بعدتعلیمی اصلاحات کرنی پڑیں گی جیسے جاپان نے کیں جہاں ابتدائی آٹھ سالوں میں صرف اور صرف بچوں کی اخلاقیات پر دھیان دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں اور مفکرین کو رول ماڈل تسلیم کرنا پڑے گا تاکہ ان جیسا بننے کی خواہش خود بخود بچوں میں پیدا ہو سکے۔ جبکہ ہمارے یہاں جو عزت و توقیر سائنس کودی جاتی ہے اس کا اندازہ اسی ایک بات سے بخوبی کیا جا سکتاہے کہ بیالوجی میں پی ایچ ڈی کر کے یونیورسٹی میں پڑھانے والے لوگ بھی کووڈ19کی ویکسین کو یہود و ہنودکی سازش قرار دیتے ہیں اور پیسے دے کر ویکسینیشن کاجعلی سرٹیفکیٹ بنوا لیتے ہیں۔ ایک طرف یہ عالم ہے اور دوسری جانب کئی ایسے لوگ بھی ہمارے یہاں باقاعدہ طور پر”عالم“ تصور کئے جاتے ہیں جو آج کے زمانے میں بھی یہ کہتے ہیں کہ زمین ساکن ہے جبکہ اسے حرکت کرتے ہوئے کوئی بھی موبائل کے ذریعے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے؟کاش ہم ایٹم بم کھائے بغیر ویسے بن سکیں جیسا بننے کے لئے جاپانیوں کو ایٹم بم کھانا پڑا۔
(کالم نگار ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنسلٹنٹ
اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں)
٭……٭……٭