اکرام سہگل
چھ ستمبر کو برطانوی سکیورٹی تھنک ٹینک رائل یونائیٹڈ سکیورٹی انسٹیٹیوٹ (RUSI) میں سابق برطانوی سربراہ، ٹونی بلیئر نے جوگفتگو کی، اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ (1) انہوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ (2) ثابت شدہ حقائق سے انکار کی اپنی پرانی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے انھیں مسلسل اس چیز سے بدلتے رہے، جس کے لیے وہ پوری دنیا میں مشہور یا بدنام ہیں، یعنی مکمل جھوٹ کے ساتھ آدھی سچائیوں کو آمیز کرنا۔ ذراان جھوٹے دعووں کو یاد کریں، جن کے ذریعے انہوں نے برطانیہ کو عراق جنگ کے لیے للچایاتھا۔
برطانیہ کے جنگ عظیم دوم کے بعد کے کردار کو ‘واشنگٹن کے وفادارکتے’ کے طور پر ذہن میں رکھیں۔ خود بلیئر کو بھی برطانیہ میں کھل کر ‘بش کا کتا’ کہا گیا۔ بلیئر نے بش انتظامیہ کی پالیسی کی بالکل غلامانہ طور سے حمایت کی، برطانوی مسلح افواج کی افغان جنگ میں شمولیت کو یقینی بنایا اور اس سے بھی زیادہ متنازعہ 2003 میں عراق پر حملے میں شمولیت کو۔ غیر مبہم انٹیلی جینس رپورٹس پر مبنی واضح معلومات کے باوجود بلیئر نے بے ایمانی سے دلیل دی کہ صدام حسین حکومت کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تھے، اور اس بات کو عراق جنگ میں شامل ہونے کے بہانے کے طور پر استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے وہ برطانوی عوام میں بہت زیادہ غیر مقبول ہو گئے۔ اگرچہ کسی بھی ملک کے چیف ایگزیکٹو کو بعض اوقات قومی مفادات کی وجہ سے جھوٹ یا غلط معلومات میں بھی ملوث ہونا پڑتا ہے، تاہم فوجیوں کو کسی کی ذاتی ترغیب اور لالچ کی وجہ سے جنگ میں مرنے کے لیے بھیجنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ دونوں جنگوں سے ہونے والا جانی نقصان بہت بڑھ گیا ہے، کیوں کہ بلیئر نے برطانوی عوام سے صریح جھوٹ بولا تھا، اور یہ جھوٹ عراق جنگ میں برطانیہ کی شمولیت پر منتج ہونے والے ان حالات کی جامع انکوائری (2009-2016) میں کسی شک سے بالاتر ہو کر ثابت ہو گیا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ انٹیلی جنس سروس نے اطلاع دی کہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کوئی ذخیرہ نہیں ملا، انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ اور عوام کو اس کے برعکس بتایا۔ پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے کے الزام میں آخر کار بلیئر کو 2007 میں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔
بلیئر نے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور اپنی مرضی سے جھوٹ بولنے کی اپنی معروف پالیسی پر عمل جاری رکھا ہے۔ انہوں نے طالبان تحریک کو بنیاد پرست اسلام کی عالمی تحریک کا حصہ قرار دیا، کہ اگرچہ یہ بہت سے مختلف گروہوں پر مشتمل ہے، لیکن ان کا بنیادی نظریہ ایک ہی ہے۔ لیکن طالبان اور دیگر اسلامی تحریکوں میں بنیادی فرق ہے۔ افغان طالبان ایک سخت گیر قومی نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ وہ صرف اس لیے لڑ رہے تھے کہ اپنے جنگ زدہ ملک کو غیر ملکی فوجیوں سے چھٹکارا دلا کر امن قائم کریں۔ حتیٰ کہ اپنے پہلے دور اقتدار کے دوران بھی انہوں نے کوئی ایسا ارادہ نہیں کیا کہ وہ افغانستان سے باہر کے علاقوں کو اپنے ملک میں شامل کر لیں۔ اگرچہ ڈیورنڈ لائن کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ برطانوی نوآبادیاتی پالیسی سے پیدا ہونے والا یہ سرحدی تنازع پڑوسیوں کے درمیان حل ہو سکتا ہے۔ امریکا کے ساتھ ایک ایسے امن معاہدے پر بات چیت کے لیے راضی ہونا جو امریکیوں کو افغانستان سے ‘باوقار’ پسپائی کو ممکن بناتا، دراصل طالبان کی مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے اور اس پر کھڑے ہونے کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے فوجیوں کا کابل کے دروازوں پر رکنا ان کے نظم و ضبط، اپنے فیلڈ کمانڈرز پر کمانڈ اینڈ کنٹرول کی کافی گواہی فراہم کرتا ہے، اور اسی کے ذریعے وہ بغیر خون خرابے اور شہر کو تباہ کیے پُر امن طور پر اندر داخل ہوئے۔
پنجشیر میں بھی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن مذاکرات کی ناکامی پر طالبان نے سرعت اور مضبوطی سے قدم اٹھاتے ہوئے معاملات کو خراب ہونے سے بچایا۔ ولی مسعود آخر کار کچھ افہام و تفہیم پر آ سکتا ہے، تاہم امراللہ صالح کو بھارت کی طرف سے بھڑکایا جانا متوقع ہے۔ یہ دو دہائیوں پہلے بھی ہوا تاکہ کشیدگی کو ہوا دی جائے، ایسے افراد پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
بلیئر نے مزید کہا کہ نظریے اور تشدد دونوں ہی طور سے اسلامیت سیکیورٹی کے لیے فوری خطرہ ہے، اور اگر روک تھام نہ کی گئی تو یہ خطرہ ہم تک پہنچ جائے گا، چاہے اس کا مرکز ہم سے دور ہی کیوں نہ ہو، جیسا کہ نائن الیون نے ظاہر کیا۔
اس موقف کو دوسری اسلامی تحریکوں پر لاگو کیا جا سکتا ہے،لیکن طالبان پر نہیں۔ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے عدم استحکام کی وجہ اسلام پسندی کو قرار دے کر ٹونی بلیئر آسانی سے یہ بھلا دیتے ہیں کہ القاعدہ اور دیگر پُرتشدد اسلام پسند تحریکیں، بشمول خود اسامہ بن لادن، ابتدائی طور پر مغربی خفیہ ایجنسیوں ہی کی تخلیق تھے اور ہیں۔ بلیئر نے کہا کہ ”افغانستان کے زوال کے بعد خاص طور سے اہم طاقتوں کو متفقہ حکمت عملی تیار کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر زیر بحث مغربی ممالک ہیں، تاہم چین اور روس بھی اس نظریے کو روکنے میں دل چسپی رکھتے ہیں، اور مشرق وسطیٰ سمیت بہت سے مسلم ممالک میں ہمیں بہترین اتحادی مل سکتے ہیں، جو اپنے مذہب کو انتہا پسندی سے نکالنے کے لیے بے چین ہیں۔
روس اور چین کو اپنے منظرنامے میں شامل کرکے بلیئر نے اپنے ملک کی روس اور چین مخالف پالیسی اور ہائبرڈ جنگ کو معتدل کرنے کی کوشش کی، اور ایک بار پھر یوریشیائی حقیقت کی موجودگی کا انکار کیا۔ اگرچہ یہ احمقانہ ہے اور جو بھی اسے دیکھنا چاہتا ہے،دیکھ سکتا ہے، تاہم بلیئر کے بیان کا دوسرا حصہ زیادہ خطرناک ہے۔ سابق برطانوی سربراہ مسلم ممالک کو ملوث کرکے، بالخصوص یو اے ای، سعودی عرب اور قطر کی بادشاہتوں کو (یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ سلطنتیں انہیں بطور ‘کنسلٹنٹ’ ادائیگی کرتی ہیں)، وہ مسلمانوں کے درمیان ممکنہ تقسیم کو بڑھانے کے لیے ایک اور پنڈورا باکس کھول رہا ہے، اور مغربی مفادات کے آگے مزید مسلم جانیں قربان کرنا چاہتا ہے۔ بلیئر نے کہا ‘ہمیں میدان میں سپاہیوں کی ضرورت ہے، اور فطری طور پر ہماری ترجیح یہ ہوگی کہ یہ سپاہی مقامی ہوں۔’ اگر اسے صریح احمقانہ نہ سمجھا جائے تو آنجہانی امریکی جنرل پیٹن کا یہ قول یاد کیا جا سکتا ہے، جب اس نے کہا تھا کہ ‘کسی نے اپنے ملک کے لیے مر کر کبھی کوئی جنگ نہیں جیتی، بلکہ وہ دوسرے کو (چاہے وہ کوئی بھی ہو) اپنے ملک کے لیے مرنے کے لیے تیار کرکے جنگ جیتتا ہے۔’ یہ مسلم دنیا کے لیے بہت اہم ہے کہ اس خطرے کو سمجھیں جس کی طرف بلیئر کا سیاسی منصوبہ اشارہ کررہا ہے۔
تیسری دنیا کے جنگجوؤں کو استعمال کرکے پراکسی جنگیں لڑنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا، صدر بائیڈن کا حالیہ اعلان بھی مدنظر رہے، کہ امریکا اب مستقبل میں اپنی افواج کو جنگوں میں مصروف رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، انہوں اس بات پر اختتام کیا کہ اب یہاں سے آگے یورپ اور ناٹو کو سنبھالنا چاہیے۔ انھوں نے تجویز دی کہ لبرل جمہوریت اور آزادی کے مغربی تصورات کو برآمد کیا جا سکتا ہے، یا یہ کبھی مغربی معاشرے کے تہذیبی طور پر قدرے پستی کی طرف مائل علاقے کے علاوہ بھی کہیں جڑ پکڑیں گے۔ اپنی اقدار پر اعتماد کی بحالی اور ان کا آفاقی اطلاق اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اشد ضروری ہے کہ ہم ان پر مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔’
اس بات سے بالکل قطع نظر کہ ناٹو اور یورپی یونین بحالی اور منظم ہونے کی پھر کوشش کررہے ہیں، وہ جو تاریخی پیش رفت تھی، ان سے بہت دور جا چکی، اور وہ آج یوریشیا میں مقیم ہو چکی ہے، جس کی باگیں چین، روس اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ارکان کے ہاتھوں میں ہیں۔ دنیا کو اس تبدیلی کو سمجھنا ہوگا، اور زمینی حقائق کے ساتھ مطابقت پیدا کرنی ہوگی۔ پرانے وقتوں میں سر باسل زہاروف ‘طے کردہ’ جنگوں کے بارے میں کہا کرتے تھے،جو ہتھیاروں کے مینوفیکچررز (جیسا کہ Kruup) کے فائدے کے لیے لڑی جاتی تھیں۔
ذاتی طور پر یہ کہوں گا کہ جب ہم (بطور پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی) جی فورز کے ساتھ حصہ دار کمپنی میں ایک ادارے کے طور پر شامل تھے، وہ بلیئر کے کنسلٹنگ ادارے کے ساتھ کام کے حوالے سے جھجکتے تھے اور کام کے لیے انہیں بالواسطہ اشارہ کیا گیا تھا (16 اپریل 2011 کی ای میل)۔ یہ ایک ڈھکی چھپی دھمکی تھی کہ ‘راستے پر آؤ ورنہ۔۔۔!’ پاکستان میں ملنے والے بھرپور تعاون کے لیے شکریہ، ہم نے دوستانہ طور پر کمپنی کو مکمل طور پر سو فی صد خرید لیا، اور G4S سے پاکستان کو نجات دلائی۔ بلیئر ‘دی کنسلٹنٹ’ ذاتی مفاد رکھنے والے ممالک کے لیے جنگیں ‘تخلیق’ کرکے پیسہ کماتا ہے۔ یہ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ برطانوی عوام ایک دن بلیئر کے جنگ بھڑکا کر اپنے لیے پیسہ کمانے کی افلاس زدہ اور خطرناک کوشش کو یک سر مسترد کر دیں گے۔
(فاضل کالم نگار سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭……٭……٭
All posts by Daily Khabrain
بلاول بھٹو اور یوسف رضا گیلانی سے ملاقات
نعیم ثاقب
بروز منگل سہ پہر ساڑھے تین بجے کال آئی لالہ!تیار رہیں ملتان جانا ہے۔ بلاول بھٹو سے ملاقات ہے۔ایک رات ٹھہریں گے شاید بہاولپور کا بھی پروگرام بن جائے کل واپس آجائیں گے۔ انہوں نے ہمیشہ کی طرح بغیر کچھ سنے سارا پروگرام بتا دیا۔کیونکہ برادرعزیز ہمدم دیرینہ، رفیق قدیم امتنان شاہد کو معلوم تھا کہ میں کہیں جانے اور سفر کرنے کے معاملے میں انتہائی سست ہوں۔میری کوشش ہوتی ہے کہ کہیں جانا جھوٹ ہی ہو جائے۔ اس لیے مجھے بولنے کا موقع دیے اور کوئی عذر سنے بغیر شیڈول سے آگاہ کر دیا۔ خیر اس مرتبہ کوئی ترکیب کام نہ آئی اور ملتان جانا ہی پڑا۔
دو بجے بلاول بھٹو سے ملاقات طے تھی۔سجاد بخاری کے ہمراہ بلاول ہاؤس پہنچے۔ جہاں یوسف رضا گیلانی خاندان کا امتنان شاہد سے قریبی تعلق دیکھنے میں آیا۔بلاول بھٹو پریس کانفرنس کی وجہ سے تھوڑالیٹ ہو گئے تو یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی اور علی قاسم گیلانی بار بار پوچھنے آتے رہے۔پھر تھوڑی دیر بعد مخدوم یوسف رضا گیلانی پریس کانفرنس چھوڑ کر ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئے اور ثابت کیا کہ وہ مہمان نواز اور وضع دار انسان ہیں۔ذاتی اور سیاسی دونوں تعلق نبھانا جانتے ہیں۔ مخدوم یوسف رضا گیلانی پاکستانی سیاست کی جیتی جاگتی تاریخ ہیں۔ ان کے والد مخدوم سید علمدار گیلانی قومی و صوبائی اسمبلی کے وزیر رہے اور دادا سید غلام مصطفے شاہ چئیرمین ملتان میونسپل کارپوریشن رہنے کے بعد۔ کے جنرل الیکشن میں قانون ساز اسمبلی کے ممبر بنے۔ خود یوسف رضا گیلانی پنجاب یونیورسٹی سے 1976 میں ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد 1978 میں سیاست کا آغاز کرتے ہوئے،مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے رکن بنے۔ اس کے بعد 1982 میں وہ وفاقی کونسل کے رکن بن گئے۔ 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید فخر امام کو شکست دے کر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوگئے۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں 1985میں ہونیوالے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لینے کے بعد وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے منتخب ہوئے۔1988 میں مسلم لیگ سے علیحدہ ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے چونتیس سالہ مخدوم یوسف رضا گیلانی نے تقریباً اپنی ہم عمر قائد محترمہ بینظیر بھٹو سے وفاداری اور اکھٹے لمبی سیاسی اننگز کھیلنے کا عہد کیا۔ محترمہ کی زندگی نے تو وفا نہ کی مگر یوسف رضا گیلانی دوسری نسل تک وفا نبھا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی ان کی خدمات کو ہمیشہ سراہا ہے۔انہوں نے پارٹی کے لیے خدمات سر انجام دیں تو پارٹی نے انہیں اسپیکر قومی اسمبلی بنایا۔ یوسف رضا گیلانی نے ساڑھے پانچ سال جیل کاٹی تو پارٹی نے وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیا۔ وفاداری نبھاتے ہوئے سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں نااہل ہوئے تو پارٹی نے پھر قربانی کا اعتراف کرتے ہوئے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا وائس چئیرمین بنا دیا۔ اب جب گیلانی صاحب کو سینٹ کاالیکشن لڑنے کا کہا گیا تو انہوں نے ہچکچاہٹ کامظاہرہ کیا جس پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا گیلانی صاحب آپ ہمارے امیدوار ہی نہیں امید بھی ہیں اور پھر اس بار بھی گیلانی صاحب اپنے چیئرمین کی امیدوں پر پورا اترے اور حکومتی حمایت یافتہ امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دی۔ یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کی دوسری نسل سے وفاداری نبھا کر اس تاثر کو بھی غلط ثابت کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے زیادہ تر سیاستدان مستقل بنیادوں پر اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔سادات گھرانے سے نسبت کی بنا پر وہ یقینا اس حدیث پر عمل کررہے ہونگے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا: ایک تو وہ شخص جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو دینے سے انکار کر دے، دوسرا وہ شخص جو اپنا سامان بیچنے کے لیے عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائے، تیسرا وہ شخص جو کسی امام و سربراہ سے وفاداری کی بیعت کرے پھر اگر امام ا سے دنیاوی مال و جاہ سے نوازے تو اس کا وفادار رہے، اور اگر اسے کچھ نہ دے تو وہ بھی عہد کی پاسداری نہ کرے۔
سنن ابوداؤد(3474)
اس لحاظ سے پیپلز پارٹی اور گیلانی صاحب دونوں ہی خوش قسمت ہیں کہ اگر ایک نے وفا کی ہے تو دوسرے نے اس کا عملی اعتراف کیا ورنہ بقول شاعر
اب کہاں دوست ملیں ساتھ نبھانے والے
سب نے سیکھے ہیں اب آداب زمانے والے
اور ویسے بھی احسان اور وفا کی قدر نسلی اور اعلیٰ ظرف لوگ ہی کرتے ہیں چھوٹے اور کم ظرف لوگوں سے توقع رکھنا نادانی اور بے وقوفی ہوتی ہے بقول صوفی شاعر میاں محمد بخش۔
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے نہ پایا
کِکر تے انگور چڑھایا، ہر گچھا زخمایا
خیر بات چلی تھی بلاول بھٹو زرداری سے امتنان شاہد کے ہمراہ ملاقات کی۔ گیلانی صاحب کے بعد بلاول بھٹو سے ملاقات کرنے ان کی رہائش گاہ پہنچے تو بلاول بھٹو نے بڑے تپاک سے استقبال کیا اور امتنان صاحب کو بتایا کہ مجھے یاد ہے آپ نے ہمارے دوبئی والے گھر میں بی بی شہید کا آخری انٹرویو کیا تھا۔ ملاقات میں پی ڈی ایم سے اختلافات،اس کے مستقبل اور دیگر سیاسی موضوعات پر لمبی گفتگو ہوئی جس کی تفصیل روز نامہ ”خبریں“کے ستمبر 2007ء کے شمارے میں پڑھی جا سکتی ہے۔ بلاول بھٹو بڑے اعتماد سے دعوی کررہے تھے کہ اگلی حکومت وہ بنائیں گے۔ مگر زمینی حقائق اور کنٹونمنٹ الیکشن کے نتائج سے یہ چیز واضح ہے کہ اب کسی پارٹی کا مانگے تانگے سے کام نہیں چلے گا۔ گیلانی صاحب کی طرح کے وفادار کارکن رکھنے والی اور ان کی قربانیوں کا اعتراف کرنیوالی پارٹیاں ہی آئندہ حکومت بنا پائیں گی۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭
پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ
خیر محمد بدھ
قیام پاکستان کے وقت قائداعظم محمد علی جناحؒ نے خارجہ پالیسی کے خدوخال بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان کی سب ممالک سے دوستی ہوگی اور کسی سے دشمنی نہیں ہوگی Friendship with all and enmity with none تمام ہمسایہ ممالک اور اسلامی ممالک سے بہترین تعلقات قائم ہوں گے۔ جب پاکستان نے اقوام متحدہ کی ممبر شپ کے لیے درخواست دی تو اس وقت برادر اسلامی ملک افغانستان نے پاکستان کی ممبر شپ کی مخالفت کی۔ پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایوں افغانستان، ایران کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لیاقت علی خان کے زمانے میں روس اور امریکہ کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کو دورے کی دعوت موصول ہوئی۔ انہوں نے روس کے بجائے امریکہ کا دورہ کیا جس سے روس ناراض بھی ہوا اور دنیا نے یہ جان لیا کہ پاکستان اپنے سفارتی اور خارجی تعلقات میں امریکہ کا حلیف ہے۔
1950 ء میں پاکستان سیٹو اور سینٹو CENTO کی ممبرشپ اختیار کر کے امریکہ کا مکمل اتحادی بن گیا اور اسے امریکہ نواز ملک کہا گیا۔ 1980ء کی دہائی میں جب روس نے افغانستان پر یلغار کی تو پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیتے ہوئے روس کی مخالفت کی اور 2001ء میں جب امریکہ نے افغانستان میں مداخلت کی تو صدر پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دیا جس کی قیمت ہمیں ادا کرنی پڑی۔ خودکش حملوں نے ہمارے ملک کو لہولہان کردیا۔ ہماری فوج نے جوانمردی کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ اس جنگ میں 86 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، چالیس ہزار مربع کلومیٹر بارودی سرنگیں صاف کی گئیں،القاعدہ کے 1100 دہشت گرد ہلاک ہوئے، ہمارے معصوم بچے بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے اور APS سانحہ آج بھی ہمیں یاد ہے۔ 2001ء سے 2021ء تک ہمارے ملک میں امریکہ کی حمایت کی وجہ سے دہشت گردی رہی۔ اس دور میں سندھو دیش اور گریٹر بلوچستان کے لوگ کابل کے مہمان رہے وہاں پر ٹریننگ کیمپ بن گئے۔ ہماری بہادر فوج نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی پر کنٹرول کیا۔ پاکستان کی ان تمام قربانیوں اور حمایت کے باوجود امریکہ ہمیں ڈومور Do More کہتا رہا۔ غلط فہمی کا شکار رہا۔ اس 20 سالہ جنگ میں امریکہ کے چار حکمران اقتدار میں آئے ان میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں شامل ہیں۔ جارج بش، بارک اوباما، ٹرمپ اور جوبائیڈن ان سب کے ساتھ پاکستان نے اپنے تعلقات دوستانہ بنانے کی کوشش کی۔ بش کے زمانے میں افغانستان پر حملہ ہوا۔ اوباما کے زمانے میں اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی ہوئی۔ ٹرمپ کے زمانے میں پاکستان نے طالبان کو مذاکرات پر راضی کیا اور معاہدے کے لیے فریقین کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں دوحا میں مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا بالآخر صدر ٹرمپ نے اپنی فوج کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل دیا۔
پاکستان کے تمام حکمران خواہ وہ زرداری ہو یا اس کے بعد کی حکومت سبھی نے امریکہ سے دوستی قائم رکھی۔ پاکستان نے دو دفعہ روس کو ناراض کیا۔ دوسروں کی لڑائی میں امریکہ کی خاطر حصہ لیا لیکن امریکہ پھر بھی ناراض ہوا اور روس کا جھکاؤ بھارت کی طرف زیادہ رہا۔ ہماری تمام تر قربانیوں، وضاحتوں اور کوششوں کے باوجود امریکہ شاکی رہا۔ بقول پروین شاکر کے
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اورلاجواب کر دے گا
21ویں صدی تبدیلی کی صدی ہے۔ آج وہ افغانستان جو بدامنی اور دہشت گردی کا مرکز تھا، بیرونی مداخلت کی آماجگاہ تھا، آج وہ آزاد ہے۔ طالبان نے پرامن طریقے سے کابل پر قبضہ کیا ہے اور اپنی حکمت عملی تدبر اور فراست کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ پہلی دفعہ کابل سے اچھی خبریں آرہی ہیں اور طالبان نے برملا کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے وہ سپر پاور جس کی خوشنودی کے لئے ہم نے معصوم بن کر سب کچھ کیا ہے۔ اس نے ہم پر الزام لگا کر ہمیں ملزم بنادیا جبکہ طالبان نے پاکستان کے بارے میں اچھی رائے کا اظہار کیا ہے جو خوش آئند ہیں۔ خارجی تعلقات ہمیشہ تبدیلی کا شکار رہتے ہیں اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی میں زبردست موڑ آیا ہے۔
ماضی کی حکومت دفاعی پوزیشن میں رہ کر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتی تھی جبکہ عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے جارحانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ پہلی دفعہ بڑی بلند اور واضح آواز میں امریکہ کو بتایا کہ پاکستان اپنی سالمیت اور اقتدار اعلیٰ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اس کے بعد ہماری خارجہ پالیسی ایک آزاد اور خود مختار ملک کی پالیسی بن چکی ہے۔ عمران خان نے کشمیر، افغانستان، فلسطین پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ سپر پاورز کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کے بجائے اپنی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ خارجہ پالیسی بنائی ہے۔یہی وجہ ہے ملک میں پہلی دفعہ سول ملٹری تعلقات مثالی ہیں۔ امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کے علاوہ چین اور روس کے ساتھ بھی بہترین تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔ سی پیک کے بارے میں پاکستان کی پالیسی سے خطے میں نہ صرف معاشی ترقی ممکن بن چکی ہے بلکہ طاقت کا توازن بھی پیدا ہوا ہے اور خطے میں پاکستان کی پوزیشن جغرافیائی اور سیاسی حوالے سے بہت اہم بن چکی ہے۔ طالبان کا معاملہ ہو یا کشمیر و فلسطین، سی پیک ہو یا پاک امریکہ تعلقات حکومت نے اپنی واضح اور مکمل پالیسی دی ہے۔ پاکستان کا نقطہ نظر ہر جگہ اور ہر فورم پر وضاحت سے پیش کیا گیا ہے اور اب پاکستان صرف امریکن بلاک کا حصہ نہیں ہے بلکہ عالمی برادری میں سفارتی سطح پر ایک آزادانہ غیر جانبدارانہ پالیسی پر گامزن ہے جس کا محور قائداعظمؒ کا فرمان ہے کہ سب سے برابری کی سطح پر تعلقات قائم ہوں گے، کسی کی ڈکٹیشن Dictation نہیں لی جائے گی۔
(کالم نگار سیاسی وسماجی موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭
مجلس ترقی اردو ادب اور منصور آفاق کے عزائم
سلمیٰ اعوان
شہر کی مرکزی شاہراہ پربلندوبالا درختوں سے گھری بوسیدگی کی طرف تیزی سے سفر کرتی کلاسیکل طرز کی عمارتوں کا چھوٹا سا جھنڈ آج بھی اسی انداز میں کھڑا تھاجیسا ہم اِسے اسّی نوّے کی دہائی میں دیکھتے آئے تھے۔ اک ذرا رکی تھی کہ اس ابرآلود سہ پہر نے بہت کچھ یاد دلایا تھا۔سامنے برآمدے سے آگے کمرے میں قاضی جاوید بیٹھتے تھے۔رُخ بدل کر تھوڑا آگے جانے پراحمد ندیم قاسمی کے کمرے تھے۔پشت کی سیڑھیاں چڑھ کر ڈاکٹر یونس جاوید سے ملاقات ہوتی تھی۔ ڈاکٹر تحسین فراقی کی خدمات کا بھی ادارہ احسان مند ہے۔ ہریالیوں سے بھرے بھرے قطعوں سے آگے کچی مٹی کے کمپاؤنڈ سے گزرتے ہوئے علم و ادب کی معتبرترین شخصیتوں کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے رسیا اور نوآموز لکھاریوں کا بھی ایک تانتا بندھا رہتا تھا۔صبح سے شام تک علم کی خیرات بٹتی۔قہقے اُبلتے۔کھانے اور چائے کے دور چلتے۔
آنکھوں میں نمی اُتر آئی ہے۔وہ سب مشاہیر، علم و ادب کی روشن قندیلیں جن میں بہت ساری گُل ہوگئی ہیں۔بہت سی ابھی جگمگا رہی ہیں۔سلامت رہیں وہ اور جگمگاتی رہیں۔ایک قطار تھی جو خیالوں میں چلی آرہی تھی۔
ثمینہ سیّد اور نوشین نقوی برآمدے کی سیڑھیاں اُتر کر گلے ملی ہیں اور بتاتی ہیں کہ قرآن خوانی ہوگئی ہے۔تاسف ہوا۔تاخیر کی وجہ بارش تھی جو ہماری طرف دھواں دھار صورت میں برس رہی تھی اور یہاں ایک چھینٹا تک نہیں پڑا تھا۔
گزشتہ ہفتے ارشاد احمد عارف کے سالے سالی یاسر شمعون اور صوفیہ بیدار کے بہن بھائی کااوپر تلے انتقال ہوگیا تھا۔عمریں تو کچھ زیادہ نہ تھیں۔ مگر موت کب یہ سب دیکھتی ہے۔صوفیہ بیدار آج کل یہیں کام کررہی ہے تو قرآن خوانی کا اہتمام بھی یہیں کرلیا کہ مرکزی جگہ کی وجہ سے لوگوں کا آنا آسان تھا۔
اب جب آئی تو پرانی یادوں کے زخم کھل گئے تھے۔اندر گئی۔تعزیت کی۔یہ قاضی جاوید کا کمرہ تھا۔ان کی کرسی پر کوئی اور صاحب بیٹھے تھے۔بس یہی دنیا ہے۔معلوم ہوا تھا کہ حکومتی ایوانوں اور ادب کی دنیا کی بے حد فعال اور معتبر شخصیت شعیب بن عزیز تھوڑی سی دیر کے لیے آئے تھے۔ زیادہ رکے نہیں۔اپنے چھوٹے بھائی نعمان کی اچانک موت کا گہرا غم کھایا ہے انہوں نے۔منصور آفاق آگئے تھے۔مجلس ترقی اردو ادب کا محکمہ آج کل منصور آفاق کی زیر نگرانی ہے۔منصور صاحب علم شخصیت ہیں۔ اُن کی بے پناہ علمی اور فکری وسعت کا اظہاران کے دیوان میں بہت واضح انداز میں سامنے آیا ہے۔
چند دن پہلے کہیں ماضی میں اسی ادارے کی چھپی ہوئی ایک کتاب”حیات مجدد“ نظر سے گزری تھی۔مطالعے سے یہ افسوسناک بات سامنے آئی کہ یہ کتاب کِسی بھی معیار اور انداز سے ایک باقاعدہ تصنیف کہلانے کی ہر گز مستحق نہیں۔مختلف تاریخی کتب کے طویل منتخب شدہ اقتباسات کے حصوں کو دو دو چار چار جملوں سے جوڑ کر دو سو بائیس صفحات کی کتاب بنا دی گئی تھی۔کچھ دکھ اور افسوس اِس بات کا بھی تھاکہ ادارے نے کتب کے انتخاب کے لیے باقاعدہ اچھے اہل قلم کی خدمات حاصل کررکھی تھیں۔ اور ظاہر ہے معاوضے بھی اچھے دئیے گئے ہوں گے۔تو پھر کیا بات تھی کہ اس ادارے نے اِس کتاب اور یقینا اسی نوع کی کچھ اور کتابیں بھی اپنی مطبوعات میں شامل کیں۔ اپنے اس دُکھ کا اظہار منصور سے کرنے پر انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کے علم میں آچکی ہے اور وہ اِ س ضمن میں ماہرین کی رائے سے کوئی لائحہ عمل ترتیب دینے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
ان کے پیش نظر یہ بات بھی ہے کہ ایسے تمام لوگ جو اس طرح کی کتابوں کے انتخاب اور اشاعت میں ماضی میں شامل رہے تھے اور ابھی بھی ادارے سے وابستہ ہیں انہیں احساس دلایا جائے کہ وہ آئندہ ایسی کوتاہی نہ کریں اور اپنے فرض کو احساس ذمہ داری سے نبھائیں۔
منصور روشن دل و دماغ کا انسان اپنے منصوبوں اور مقاصد بارے بہت واضح ہے۔دو باتیں ان کے پیش نظر ہیں۔ایک شاندار قسم کا میوزیم جس میں دنیا سے چلے جانے والے ادیبوں کی کوئی نہ کوئی چیز رکھی جائے گی۔ذاتی استعمال سے لے کر تخلیقات تک۔
دوسرے ادیبوں کے لیے ایک بہترین ٹی ہاؤس کی تعمیر ہے۔انہیں دکھ تھا کہ ادیبوں کے تو بیٹھنے کے لیے کوئی موزوں جگہ نہیں۔پاک ٹی ہاؤس تو کاروباری مرکز بنا ہوا ہے۔یہاں سستی کتابوں کے ساتھ سوونئیرز بھی دستیاب ہوں گے۔بہترین کھانے پینے کی چیزیں اور ادیبوں کی تقریبات اور اُن کے بیٹھنے کے لیے بہترین سہولتیں میسر ہوں گی۔
باتیں کرتے ہوئے وہ بہت پر عزم تھے۔اٹھتے ہوئے سیما اور میں نے انہیں دعا دی کہ خدا انہیں ان کے مقاصد میں کامیاب کرے۔(آمین)
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭……٭……٭
وزیر افضل بھی چل بسے
افضل عاجز
والدین پٹیالہ سے ہجرت کر کے لاہور نکلے تو ہجرت کے اس سفرنے ان کے اندر ایک اداسی بھر دی جو راگ دیس کی شکل میں ان کے ساتھ ساتھ رہی پٹیالہ میں استاد امانت علی خان اور فتح علی خان پٹیالہ والے ان کے کلاس فیلو تھے موسیقار وزیر افضل بتایا کرتے تھے دونوں بھائیوں سے دوستی کی وجہ سے میں نے انہیں ریاضت کے طویل عرصے تک سنا ایسا بھی ہوتا تھا کہ دونوں بھائی گھنٹوں ریاض کر رہے ہیں اور میں اکیلاسامنے بیٹھا سن رہا ہوں۔ وزیر افضل موسیقی کے ربابی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ربابی گھرانے کے ایک بزرگ بھائی مردانہ سکھوں کے بانی گرو کے بھائی دوست اور ہمراز تھے اور ان کے اشلوک پڑھا کرتے تھے بتایا جاتا ہے گرو کے کیلئے انہوں نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا کہ جس کی وجہ سے پوری سکھ قوم ربابی گھرانے کا بہت احترام کرتی ہے اور انہیں بہت اونچا مقام دیتے تھے پاکستانی فلم انڈسٹری میں ربابی گھرانے کے موسقاروں نے بہت اعلی کام کیا اور فلم موسیقی پر چھاپے رہے ماسٹر غلام حیدر سے لیکر رشیدعطرے وزیر افضل تک لاجواب کام کیا موسیقی سے وابستہ جن بڑی شخصیات کے ساتھ مجھے کام کرنے کا موقعہ ملا ان میں وزیر افضل بھی شامل تھے پاکستان ٹیلی ویژن کے لئے میرے گیتوں کو سنگیت سے بھی نوازا۔ وزیر افضل صاحب اپنے انداز کے مختلف موسیقار تھے موسیقی کی دنیا میں انہوں نے ایک میوزیش کے طور پر قدم رکھا بہت اعلیٰ درجے کا میڈولین بجاتے تھے موسیقار ان کیلئے بہت سوچ سمجھ کر اعلیٰ قسم کا موسیقی کا ٹکڑا ترتیب دیتے جسے وہ ایسا بجاتے کہ پورے گانے میں نمایاں نظر آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے میڈولین بجائی پھر کسی نے کم ہی بجائی۔ وزیر صاحب بتاتے تھے خواجہ خورشید انور نے ایک گیت کیلئے میڈولین کا ایسا پیس بنایا کہ میرے جسم میں لوں کنڈے کھڑے ہو گئے اور میں حیران رہ گیا کہ خواجہ صاحب نے یہ کیا عجوبہ ترتیب دیا ہے خواجہ صاحب کا یہ پیس میرے اندر سما گیا کئی دنوں تک میری انگلیاں اس پیس کے ساتھ کھیلتی رہیں اور پھر دل نے کہااستاد ہو تو خواجہ خورشید انور جیسا۔ میں نے جب ان سے شاگرد بنانے کی درخواست کی تو انہوں مسکراتے ہوئے ٹال دیا مگر میں بھی مجنون کی طرح ان کے پیچھے پیچھے پھرنے لگا جب بھی موقع ملتا ان کے ساتھ رہتا ان کی گفتگو موسیقی کے رازو رموز راگوں کی بندش موسیقی کی مختلف اقسام پر ان کو کام کرتے دیکھتا میری لگن اور خدمت کو دیکھ کر انہوں نے بالآخر مجھے اپنا شاگرد بنا لیا۔
وزیر افضل صاحب نے جب بطور موسیقار فلمی دنیا میں قدم رکھا تو اس وقت پنجابی فلموں کی موسیقی پر بابا جی اے چشتی چھاپے ہوے تھے ہر طرف ان کا کام اور نام بج رہا تھا ایسے وقت میں جداگانہ موسیقی کے ساتھ اپنا نام اور کام بنانا مشکل تھا مگر ”دل دا جانی“ کیلئے بنائے میرے گیتوں نے مجھے بہت طاقت دی۔سیوں نی میرے دل دا جانی کی مقبولیت نے میرے راستے کھول دئیے اور پھر چل سو چل۔وزیر افضل صاحب کا میں ایک استاد کے طور احترام کرتا تھامگر وہ میرے ساتھ بہت بے تکلفی برتا کرتے موسیقی کے علاوہ فلم انڈسٹری کے بہت سے واقعات بھی سناتے جو ایک امانت کے طور پر میرے حافظے میں موجود ہیں پاکستان ٹیلی ویژن نے جب سرائیکی میوزک کا آغاز کیا تو پھر مجھے گیت لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی موسیقی کا بھی موقع دیا اتفاق کی بات ہے ان دنوں وزیر افضل صاحب اور میں ایک ہی کمرے میں اپنا اپنا کام کرتے تھے پہلے دن وزیر صاحب کے سامنے گیت کی دھن بناتے ہوئے مجھے بہت پریشانی ہوئی۔ انہوں نے جب محسوس کیا کہ میں ان کے سامنے تھوڑا نروس ہوجاتا ہوں تو دوسرے دن وہ مجھ سے بھی پہلے آگئے سلام دعا کے بعد کہنے لگے افضل صاحب آپ نے کل بہت بہت اچھے گیت بنائے مگر ایک گیت تو مجھے بہت پسند آیا وہ ذرا سناؤ تو مجھے بہت خوشی ہوئی اور پھر میں نے سنایا تو انہوں نے کہا آپ کو چائے پلانا بنتا ہے اور پھر چائے کا آڈر دے دیا وزیر صاحب نے یہ سب کچھ دراصل اپنی شخصیت کا مجھ پر طاری خوف ختم کرنے کیلئے تھا اور واقعی مجھے بہت حوصلہ ملا۔
سال مجھے یاد نہیں مگر اس سال شدید گرمی پڑی اور ملک میں بارشوں کیلئے دعائیں مانگنا کا سلسلہ شروع ہوا تو پاکستان ٹیلی ویژن نے بارش کیلئے ایک دعائیہ گیت ریکارڈ کرنے کا اہتمام کیا جس کی موسیقی وزیر افضل صاحب جبکہ لکھنے کی ذمہ داری مجھے دی گئی افضل صاحب نے میرے سامنے دھن بنائی اور مجھے گنگنانے کا حکم دیا میں کافی دیر گاتا رہا اور طے ہوا کہ کل ریکارڈنگ کریں گے مگر یہ نہیں بتایا کس نے گانا ہے دوسرے دن میں آیا تو کہا ذرا اس گیت کو گنگنائیں میں نے حکم کی تعمیل کی تو پروڈیوسراسلم خاور سیال سے کہا۔خاور صاحب شام کو ریکارڈنگ شیڈول کریں اور پھر حکم دیا یہ گیت آپ کی آواز میں ریکارڈ ہوگا میں نے کہا وزیر صاحب یہ آپ کیا کر رہے ہیں کہنے لگے کیا میں غلط کر رہا ہوں میں ہنس پڑا تو انہوں نے باقاعدہ ریہرسل شروع کروائی گیت کی دھن تو مجھے پہلے ہی یاد تھی شام کواس کی آڈیو ریکارڈنگ شروع کی تو پھر رات کے دوبجے جب ختم کر کے سٹوڈیو سے باہر نکلے تو طوفانی بارش ہو رہی تھی اور معلوم ہوا کہ چار پانچ بجے سے شروع ہوئی ہے ہمیں بہت خوشی ہوئی دوسرے دن ویڈیو شوٹ تھا مگر بارش کی وجہ سے نہ ہوسکا اور بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی لاہور شہر میں سیلاب کی کیفیت بن گئی اور بارش کے رکنے کی دعائیں مانگنے لگے اس ماحول میں ظاہر ہے بارش کیلئے دعائیہ گیت کی ضرورت ختم ہوگئی جس پر وزیر افضل صاحب مسکراتے ہوئے کہتے کیوں افضل صاحب میرا فیصلہ غلط تھا یا ٹھیک……وزیر افضل صاحب فلم کے ساتھ ساتھ ٹی وی ریڈیو کے ساتھ بھی وابستہ تھے اور ادھر بھی انہوں نے سپر ہٹ کام کیا۔ناہید اختر کی آواز میں
یہ رنگینیئ اللہ اللہ نوبہار اللہ اللہ
اور پرویز مہدی کی آواز میں
سات سروں کا بہتا دریاتیرے نام
بھی خوب بنایا……
آڈیو کے حوالے سے بھی مسرت نذیر سے
پچھے پچھے آندآ میری چال ویدھاں آئیں‘چیرے والیا ویکھ دا آئیں وے میرا لونگ گواچابھی ان کا شاہکار تھا۔
ریڈیو کیلئے ’رکھ ڈولدے تے اکھ نیں لگدی‘تمی تمی وا وگ دی جیسا سپرہٹ گیت بھی بنایا۔
وزیر صاحب کے گیتوں کو انڈیا میں بھی کاپی کیا گیا پاکستانی گلوکارہ حدیقہ کیانی نے بھی اس گیت کو مختلف بولوں کے ساتھ ری مکس کیا۔بوہے باریاں تے نالے کندھاں ٹپ کے‘میں آواں گی ہوا بن کے۔
وزیر افضل صاحب کے بارے میں جتنا لکھا جائے کم ہے اور حقیقت ہے ان کی موت سے سُچی اورسریلی موسیقی کا ایک خوب صورت باب ختم ہو گیا ہے اللہ ان کے درجات بلند فرمائے آمین اس وقت جب میں یہ لکھ رہا ہوں تو ایک خوبصورت لوک شاعر اختر حسین اختر کے گزر جانے کی اطلاع ملی ہے اختر صاحب نے بھی بہت اعلیٰ گیت لکھے بہت سے گلوکاروں نے ان کے گیت گا کے نام اور مقام بنایا مگر اختر صاحب چند سالوں سے اہل بیت کی شان لکھ رہے تھے ان کے لکھے نوحے قصیدے منقبت سلام دنیا بھر میں مومنین کے دلوں کو سکون دیتے تھے وہ بھی چل بسے ہیں۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔
اب ایسے لوگ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے پروردگار صدقے محمدؐ و آل محمدؐ کے دونوں مرحومین کوجنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین۔
(کالم نگارمعروف شاعر اورادیب ہیں)
٭……٭……٭
افغانستان میں مغرب کی مخالفت اور منافقت
سردارآصف احمدعلی
افغانستان میں طالبان کی حکومت اب بن چکی ہے اور یہ حکومت کا ہونا ناگزیر اور لازمی تھا کیونکہ ایک آئینی اور قانونی خلا موجود تھا اس لئے طالبان نے ایک عبوری حکومت بنائی ہے جس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ ایک قانونی خلا ختم ہو اور حکومت کے معاملات کو چلایا جا سکے۔ اب جو حکومت بنی ہے اس میں طالبان نے اپنے اندرونی معاملات طے کر لئے ہیں۔ نظریہ آ رہا ہے کہ اصل اقتدار ان قائدین کے ہاتھ میں رہے گا جو کہ تحریک طالبان کے بانیوں میں سے تھے اور جنہوں نے پچھلے 20سال تک امریکہ کی جارحیت کا مقابلہ کیا۔ اس حکومت کے ایک راہبر مقرر کئے گئے جو کہ ہیبت اللہ اخوندزادہ صاحب ہیں۔ یہ اس وقت تحریک طالبان کے سینئر موسٹ قائد ہیں اور انہی کی مرضی کے مطابق حکومت چلائی جائے گی اور قندھار میں اس کا ہیڈ کوارٹر ہوگا۔ اس طرح جو عبوری وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں جناب محمد حسن اخوند، یہ وزیراعظم ہوں گے اور ان کی وابستگی بھی قندھار سے ہے، اسی طرح ایک اور سینئر تحریک طالبان کے قائد جناب ملا عبدالغنی برادر ہیں، یہ وزیراعظم کی کونسل کے ممبر ہوں گے۔ ایک اور ایسی تعیناتی ہے جو قابل ذکر ہے کہ مرحوم ملا عمر کے صاحبزادے یعقوب عمر وزیر دفاع ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان نے اپنے اندر ایک توازن بھی پیدا کیا ہے جس میں حقانی نیٹ ورک کے قائد سراج دین حقانی کو وزیر داخلہ بنایا ہے لہٰذا اس طرح حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ کے قائدین نے آپس میں ایک توازن پیدا کر لیا ہے۔ اب رہا معاملہ دوسرے گروپوں کو اقتدار میں شامل کرنے کا۔ میرا اندازہ ہے کہ آج تک مذاکرات نامکمل رہے اور ناکام رہے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ سابقہ نائب صدر صالح وہ ہیں جنہوں نے پنجشیر وادی میں جنگ شروع کروا دی اور یہ جنگ انہوں نے بڑے غلط اندازوں پر شروع کروائی کہ انہیں وہاں کوئی فتح نہیں کر سکتا اور انہوں نے نوجوان احمد مسعود جو کہ مرحوم احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں ان کی ناتجربہ کاری کو استعمال کرتے ہوئے یہ جنگ چھیڑ دی۔ اب ان کو شکست کا سامنا ہے لہٰذا وہ کس منہ سے آئندہ حکومت میں شرکت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سبوتاژ کیا گیا ہے اور یہ بھی ایک بین الاقوامی سطح پر کروایا گیا ہے اور اس میں یقینا بہت سی بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ضرور ہوگا اور انہیں یقین دلایا گیا کہ بین الاقوامی امداد انہیں ضرور ملے گی تاکہ وہ طالبان کے خلاف محاذ آرائی جاری رکھیں۔ یہ ان سے ایک بہت بڑی حماقت ہوئی ہے۔ اب اگلا معاملہ بین الاقوامی ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ جس طرح یہ طاقتیں افغانستان سے بدلہ لینا چاہتی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ وسیع البنیاد حکومت بنائیں پھر ہم افغانستان کی حکومت کو تسلیم کریں گے اور جو پیسے ہم نے آپ کے دبائے ہوئے ہیں وقتاً فوقتاً فیصلہ کریں گے کہ وہ کس قدر دینے ہیں اور کن شرائط پر دینے ہیں۔
شرائط سخت ہوتی جا رہی ہیں اور اس میں اور بھی بہت سی چیزیں شامل کر دی گئی ہیں۔ جیسا کہ انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، بیرونی اور کچھ افغانیوں کا انخلا بھی اس میں شامل کر دیا گیا اور آج اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی شرائط عائد کر دی ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے بڑا تعجب ہوتا ہے کہ امریکن 20 سال تک یہاں رہے ہیں تو کیا انہوں نے کوئی وسیع النبیادحکومت یہاں پر بنائی تھی۔ بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں کہ یونائیٹڈ نیشنز کا یہ کون سا چارٹر ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہے۔ ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جب مصر کے ایک منتخب صدر محمد مرسی کو نکالا گیا تھا تو اس وقت آپ نے مصر پر کون سی شرطیں لگائی تھیں۔ ان سے یہ بھی پوچھا جائے کہ جب آپ نے دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کو شکست دی تو کیا اس کی پارٹی کو اقتدار میں آنے دیا یا مسولینی کی پارٹی جنگ ہار گئی تو اس کی پارٹی کو اٹلی میں رکھا گیا اور اب ہندوستان جو کچھ کر رہا ہے کہ وہاں 22 کروڑ مسلمانوں کے شہری حقوق ایک نئے قانون کے تحت چھین لیے تو یونائیٹڈ نیشنز یا امریکہ نے کتنے احتجاج کئے اور اب کشمیر میں ساڑھے سات لاکھ فوج گزشتہ تین سال سے کرفیو لگا کر اور لاک ڈاؤن کرکے بیٹھی ہوئی ہے کیا کسی نے اس کی مذمت کی۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ مغربی ممالک صرف اپنے ہی مفادات کے حوالے سے بات کرتے ہیں اور ان کی منافقت بڑی واضح ہو چکی ہے۔ اب یہ سب کچھ اس لئے کر رہے ہیں کہ افغانستان میں قحط پڑے اور دوسرے انسانی مسائل بڑھ جائیں تاکہ طالبان کی حکومت ناکام ہو جائے اور پھر دوبارہ وہاں خانہ جنگی شروع ہو جائے لہٰذا یہ تو چاہتے ہی ہیں کہ مستقل خانہ جنگی برقرار رہے مگرایسا نہیں ہوگا کیونکہ خطے میں اور ایشیا میں ایک نئی صورتحال جنم لے چکی ہے۔
اب امریکہ کی فوجیں کسی دوسرے ملک پر چڑھائی کرنے سے تو رہیں اور نہ ہی اب اس کی ڈکٹیشن یہاں چل سکتی ہے اور اب دنیا بھی ہل گئی ہے کہ امریکہ کسی کا ساتھی نہیں ہے بلکہ بھارت یہ کہہ رہا ہے کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ بلنکن دلی میں پندرہ اگست سے دس دن پہلے وہاں گیا اور بھارت کو یقین دلایا کہ فی الحال ہم افغانستان سے نہیں نکل رہے اور اس بل بوتے پر بھارت میں وہ دو بہت بڑے ہوائی جہاز اسلحہ سے بھر کر افغانستان فوج کو بھیج دیئے اور دس دن بعد امریکن وہاں سے نکلنے شروع ہو گئے اور بھارت کو بتایا تک نہیں۔ اب اس قسم کی چہ میگوئیاں پوری دنیا میں ہونا شروع ہو گئی ہیں، امریکہ کسی کا ساتھ دے سکتا ہے یا نہیں یا پھر بھاگ جائے گا۔ اس سے امریکہ کی ساکھ کو بے پناہ دھچکا لگا ہے اور اس خطے میں بھارت کو بھی بہت بڑا شاک لگا ہے۔
اب رہا معاملہ افغانستان کا۔ میں پہلے بھی انہی کالموں میں یہ کہہ چکا ہوں کہ افغانستان کے لئے ایک وسیع کانفرنس کا ہمارے ہاں اسلام آباد میں بلائی جائے جس میں افغانستان کی تعمیر نو اور اس کی ترقی کے لئے اور جو انسانی مسائل کھڑے ہو رہے ہیں ان کے حل کے لئے سوچ بچار کی جائے اور فنڈز کا انتظام کیا جائے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ چین کو دعوت دینی چاہئے۔ روس، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، قطر، ایران اور ترکی کے علاوہ او آئی سی کی صدارت سعودی عرب کے پاس ہے لہٰذا سعودی عرب کے بادشاہ اور ولی عہد کو بھی دعوت دینی چاہئے۔ اس کانفرنس سے پہلے ہی پاکستان کو افغانستان کی کچھ امداد پہلے ہی کر دینی چاہئے۔ اس میں، میں سمجھتا ہوں کہ ادویات اور خوراک کی امداد فوری دینی چاہئے، دوسری ضروریات کانفرنس کے بعد پوری کی جا سکتی ہیں۔
(کالم نگار سابق وزیرخارجہ اورممتاز ماہرمعیشت ہیں)
٭……٭……٭
بلاول کا دورہئ جنوبی پنجاب ناکام رہا؟
سید سجاد حسین بخاری
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جنوبی پنجاب کا 2ہفتے کا دورہ مکمل کرکے واپس چلے گئے ہیں مگر اس وقت پورے جنوبی پنجاب کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مقامی قیادت سے یہ سوال کررہی ہیں کہ بلاول بھٹو کا دورہئ جنوبی پنجاب کیسا رہا اور ہماری جماعت سے کون اور کتنے لوگ گئے اور ان سب کا سیاسی قدکاٹھ کیا تھا؟ یہی سوال پاکستان مسلم لیگ اور تحریک انصاف کی مرکزی قیادت جنوبی پنجاب کی مقامی قیادت سے کررہی ہے۔ 2دن قبل پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ایک پرانے رفیق اور میلسی کے بااثر خاندان کے فرد نور خان بھابھہ کو جنوبی پنجاب کی پارٹی صدارت سے اس لئے فارغ کیا تھاکہ ان کے داماد اور بھتیجے عمران ممتاز بھابھہ نے پاکستان پیپلزپارٹی جوائن کی تھی‘ یہ ایک بڑی نہیں تو اچھی وکٹ ضرور ہے کیونکہ ان کے والد ممتاز بھابھہ ایک مرتبہ ایم این اے رہ چکے ہیں۔ نور خان بھابھہ کو جماعت سے ان کے داماد کی پی پی میں شمولیت کے ساتھ ہی فارغ کرکے سینیٹر عون عباس بپی کو جنوبی پنجاب کا صدر بنایا گیا اور انہوں نے آتے ہی اخبار نویسوں سے پوچھنا شروع کردیا کہ جنوبی پنجاب سے کون کون لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ کر پی پی میں شامل ہوئے ہیں۔
اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی جنوبی پنجاب کی مقامی قیادت نے ایک رپورٹ تیار کرنی شروع کردی ہے کہ (ن) سے پی پی پی میں کون کون شامل ہوا ہے۔ شامل ہونے والوں کی فہرست اخبارات میں چھپ چکی ہے اور میں بھی دوبارہ دُہرا دیتا ہوں مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ دونوں جماعتیں کیوں پریشان ہورہی ہیں؟ مسلم لیگ (ن) چونکہ اقتدار میں نہیں لہٰذا جماعت کے ممبران کو بچانا ان کیلئے ضروری ہے مگر تحریک انصاف تو حکمران جماعت ہے‘ وہ کیوں پریشان ہے جبکہ ممبران اسمبلی بھی دونوں جماعتوں کے فی الحال ڈٹے ہوئے ہیں اور کچھ ناراضگیوں کے باوجود اپنی اپنی جماعتوں میں موجود ہیں کیونکہ (ن) لیگ کے ارکان اسمبلی اگلی باری کا انتظار کررہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی اقتدار کے مزے آخری دم تک لینے کے حق میں ہیں‘ اس لئے فی الحال دونوں جماعتوں کے ممبران اسمبلی آئندہ الیکشن کی صف بندی تک قائم ہیں۔ ہاں البتہ مسلم لیگ (ن) کے ممبران قومی وصوبائی اسمبلی نے بلاول بھٹو کے دورہئ جنوبی پنجاب پر بڑی گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور خصوصاً وہ ممبران جن کا بیک گراؤنڈ دیہاتی ہے جہاں پر دھڑے بندی اور گروہی سیاست ہوتی ہے اور کچھ میرے جاننے والوں نے یہ سوال کیا ہے کہ مقتدر قوتیں کیا آئندہ بلاول بھٹو کو لارہی ہیں؟ بقول ان کے بلاول بھٹو کسی کے کہنے پر دورہئ جنوبی پنجاب کررہے ہیں اور شدید گرمی اور حبس میں ضرور کہیں سے بلاول بھٹو کو گرین سگنل ملا ہے۔
زمینی حقائق کو نہیں بھولنا چاہیے اور جنوبی پنجاب کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے وڈیرے اقتدار سے باہر ہیں اور پی ٹی آئی کے لوگوں کی دال نہیں گل رہی اور جنوبی پنجاب کے 95فیصد سیاستدان ہر آنے والے الیکشن میں چونکہ سیاسی جماعتیں بدلتے ہیں اور انہیں اقتدار میں آنے والی جماعت کا علم ہوجاتا ہے لہٰذا وہ اسی جماعت میں چلے جاتے ہیں کیونکہ ان کا متاع حیات اقتدار ہے۔ اُصول‘ نظریات‘ سچائی سب گئے بھاڑ میں‘ صرف اور صرف اقتدار چاہیے اور یہ بات طے ہے کہ ہوسِ اقتدار جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں میں بدرجہ اتم موجود ہے‘ اسی لئے تینوں سیاسی جماعتوں کی مرکزی لیڈرشپ کی نظر میں جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں کی قدرومنزلت وہ نہیں جو وسطی یا شمالی پنجاب کے سیاستدانوں کی ہے‘ بات دوسری طرف چلی گئی۔
اصل بات بلاول بھٹو کے دورہئ جنوبی پنجاب کامیاب یا ناکام کی ہورہی تھی۔ اب آیئے ان افراد کی فہرست پر بحث کرتے ہیں جنہوں نے موجودہ دورے کے موقع پر پی پی پی میں شمولیت اختیار کی۔ فہرست پڑھنے سے پہلے ایک بات ذہن نشیں کرلیں کہ پی پی پی قیادت اور کارکنان وپارٹی عہدیداران کے درمیان اس دورے سے قبل ایک بہت بڑا خلا موجود تھا جو اب جاکر ختم ہوا ہے۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ 26سال بعد پہلی مرتبہ ڈیرہ غازیخان جیسے اہم شہر میں پی پی پی قیادت اور بلاول بھٹو گئے ہیں۔ کارکن ہر جماعت کا اثاثہ ہوتا ہے اور جس کارکن کو اپنی مرکزی قیادت 26سال تک تعارف بھی نہ کرائے تو وہ کیسے جماعت میں رہے گا یا اس کیلئے کام کرے گا؟ اسی طرح ضلع لیہ میں بطور وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید 1993ء میں سیہڑ ہاؤس آئی تھیں اور اس کے بعد گزشتہ سال بلاول بھٹو ایک مختصر دورے پر گئے یعنی 27سال بعد پی پی پی کی قیادت ضلع لیہ گئی ہے۔ تحصیل میلسی میں شہید بھٹو کے ساتھی ارشاد خان پٹھان کے بیٹے ٹوچی خان 1996ء میں بینظیر بھٹو شہید کو لائے تھے یہاں پر بھی 25سال بعد بلاول بھٹو گئے ہیں۔ تونسہ میں حضرت خواجہ سلیمان تونسوی کے خاندان میں سے خواجہ کمال دین انور مرحوم پاکستان پیپلزپارٹی میں تھے وہاں پر کبھی بھی شہید بی بی یا بلاول بھٹو نہیں گئے تھے‘ تاہم بی بی شہید ڈی جی خان میں بطور وزیراعظم سیمنٹ فیکٹری کا افتتاح کرنے کیلئے آئی تھیں۔ یعنی جس علاقے میں 25 سے 30سال تک پی پی پی قیادت نے ایک چکر بھی نہ لگایا وہاں پر بلاول کے جانے سے مثبت کے بجائے منفی اثرات کیسے ہوں گے؟ شامل ہونے والوں میں ڈیرہ غازیخان سے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ‘ لیہ سے بہادر خان سیہڑ اور ان کے ساتھ آزاد منتخب ہونے والے ایم پی اے اشفاق اور میلسی سے عمران بھابھہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گھروں میں متعدد مرتبہ قومی اسمبلی کی نشستیں رہی ہیں۔
اسی طرح رحیم یار خان میں 13سیاستدان ایسے ہیں جنہوں نے پی پی پی میں شمولیت کیلئے ہاں کرلی ہے۔ اس پوری کہانی کا اخذ یہ ہے کہ بلاول بھٹو ان علاقوں میں گئے جہاں پر گزشتہ 25سال سے پی پی پی قیادت نہیں گئی تھی۔ نوجوان بلاول بھٹو کو دیکھ کر متاثر بھی ہوئے ہیں اور جو لوگ اس وقت تک شامل ہوئے ہیں وہ یقینا 90فیصد سیٹیں نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں سوائے عمران بھابھہ کے‘ وہاں پر مقابلہ سخت ہوگا۔ بلاول بھٹو کے دورے سے پی پی پی کے سوئے ہوئے کارکن اور مردہ مقامی قیادت میں جان پڑی ہے۔ کارکنان میں اپنائیت کا احساس ہوا ہے۔ نوجوان نسل بلاول سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اور وہ بلاول کی قربت چاہتے ہیں۔ اس وقت جنوبی پنجاب میں بہت بڑا سیاسی خلابھی موجود ہے۔ بلاول بھٹو کے دورے سے اس خلا سے کچھ فائدہ ضرور اُٹھایا گیا ہے لہٰذا یہ کہنا کہ بلاول بھٹو کا دورہ ناکام اور وہ خالی ہاتھ واپس گئے ہیں‘ غلط ہے۔ بلاول بھٹو کو اس دورے سے نقصان کے بجائے سیاسی فائدہ ضرور ہوا ہے۔ ناکام دورے کی باتیں پھر بھی مخالفین کرتے چاہے آدھا جنوبی پنجاب پی پی پی میں کیوں نہ شامل ہوجاتا۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭
جونی لیور کیجانب سے عمر شریف کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار
ممبئی : بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی کامیڈین عمر شریف کی ناسازطبیعت پر بالی وڈ میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ نامور کامیڈین جونی لیور کی جانب سے عمر شریف کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا ۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کے معروف کامیڈین و اداکار جانی لیور جو مزاح میں ثانی نہیں رکھتے ، اوراکثر پاکستانی فنکاروں کے بارے میں اپنے خیالات کااظہار کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں جونی لیور نے ایک ویڈیو پیغام میں کامیڈی کنگ عمر شریف کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی ہے
پی آئی اےکا کابل کیلئے فلائٹ آپریشن شروع کرنے کافیصلہ
قومی ایئر لائن (پی آئی اے) نے کابل کے لیے فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا، آئندہ ہفتے اسلام آباد سے چارٹرڈ فلائٹ کابل روانہ ہوگی۔
ترجمان پی آئی اے عبداللہ کے مطابق پی آئی اے کی پہلی پرواز آئندہ ہفتے کابل روانہ ہوسکتی ہے۔ چارٹرڈ پروازوں کی بحالی کے حوالے سے افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کو لینڈنگ کے لیے اجازت کی درخواست کی ہے۔
پی آئی اے کابل فلائٹ آپریشن کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔
عالمی میڈیا میں پی آئی اے فلائٹ آپریشن سے متعلق من گھڑت خبریں سامنے آنے پر پی آئی اے کی جانب سے وضاحتی بیان بھی سامنے آیا، جس میں ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ پی آئی اے کابل کے لیے پروازیں شروع کرے گا لیکن ابھی کچھ وقت درکار ہے، کابل سے چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے۔
افغان حکام کی جانب سے اجازت نامہ جاری ہوتے ہی پروازوں کی روانگی کا شیڈول جاری کیا جائے گا۔
گزشتہ مہینے پی آئی اے نے افغانستان کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ پی آئی اے واحد کمرشل ایئر لائن تھی جو افغانستان میں پھنسے شہریوں کو پاکستان لا رہی تھی۔
صاف پانی ریفرنس؛ شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کی جائیدادیں قرق کرلی گئیں
لاہور: صاف پانی ریفرنس میں شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کی جائیدادیں قرق کرلی گئیں۔
صاف پانی ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد کی جائیدادیں قرق کرلی گئیں جب کہ اس حوالے سے رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرادی گئی ہے، عدالت نے دیگر شریک ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر دلائل طلب کرنے کے بعد کارروائی 23 ستمبر تک ملتوی کردی۔
نیب تفتیشی ٹیم نے شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف اور بیٹی رابعہ عمران کی جائیداد قرقی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ میسرز فاطیمہ ڈویلپرز میں عمران علی کے 65 لاکھ شئیرز اور رابعہ عمران 35 لاکھ شئیرز کی مالک ہیں، میسرز ایس ایم سی میں عمران علی یوسف کے 60 لاکھ مالیت کے شئیرز ہیں، حدیبیہ انجینئرنگ میں شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران کے 7 ہزار مالیت کے شئیرز شامل ہیں۔
ں کہا گیا ہے کہ شریف پولٹری فارم میں رابعہ عمران کے 1 ہزار مالیت کے شئیرز بھی قرق کیے گیے ہیں، مدینہ فیڈ میں عمران علی کے شئیرز کی مالیت 1 کروڑ 25 لاکھ جبکہ رابعہ عمران 50 لاکھ مالیت کے شئیرز کی مالک ہیں، میسرز پروسیڈ فوڈ میں عمران علی اور رابعہ عمران کے 25 لاکھ مالیت کے شئیرز ہیں، اس کے علاوہ علی ٹریڈ سینٹر اور علی ٹاور میں عمران علی اور رابعہ عمران متعدد دوکانوں کے مالک ہیں۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد کے پیش نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے جائیدادوں کو قرق کرنے کا حکم دیا تھا۔

















