All posts by Daily Khabrain

انسانوں کو وقت سے پہلے قبروں میں اتارنے والا نظام

جاوید ملک
WHO کی 2019ء کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں خودکشی سے مرنے والوں کی تعداد ملیریا، ایڈز، چھاتی کے کینسر یا جنگ وغیرہ سے ہونے والی اموات سے زیادہ ہے۔ WHO کی رپورٹ کے مطابق ہی سال 2019ء میں سات لاکھ سے زائد لوگوں نے خودکشی کی۔ یعنی ہر 100 میں سے 1 موت کی وجہ خودکشی تھی!
ممتاز تجزیہ نگار اسد رائے کی ایک ریسرچ کے مطابق خودکشیوں کے حوالے سے سرِ فہرست ممالک میں جنوبی کوریا پانچویں نمبر پر ہے۔ جنوبی کوریا میں خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تعداد بوڑھے افراد کی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ بڑھاپے میں کسی سہارے کی عدم موجودگی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا میں طالب علموں میں بھی خودکشی کی شرح اوسط سے زیادہ ہے۔ چین میں اموات کی پانچویں بڑی وجہ خودکشی ہے۔ دنیا کے برعکس چین میں خودکشی کرنے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہے۔ امریکہ میں خودکشیوں کی شرح 16.1 فیصد ہے۔ پچھلے دو سالوں میں خودکشیوں کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ امریکہ میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پوری دنیا میں خودکشیوں کی شرح 9.49 فیصد ہے۔ یعنی ایک لاکھ اموات میں 9.49 کی وجہ خودکشی ہوتی ہے۔
یہ اعداد و شمار بھی دراصل نا کافی ہیں۔ پوری دنیا میں رپورٹ ہونے والی خودکشیوں کی تعداد حقیقی تعداد سے بہت کم ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں ذہنی امراض اور خودکشیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک تو سرمایہ داری تاریخ کے بدترین بحران سے گزر رہی ہے۔ ہر طرف بے روزگاری کی لہر نظر آتی ہے۔ صرف امریکہ میں وبا کے دوران 4 کروڑ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ پچھلے عرصے میں تعلیم اور علاج جیسی سہولیات لوگوں کی پہنچ سے دور ہوئی ہیں۔حالیہ وباء میں ہونے والی اموات بھی کسی صدمے سے کم نہیں تھیں۔ لاک ڈاؤن کا عرصہ بھی عوام کی اکثریت کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھا۔ معاشی بد حالی اور اس پر سماجی دوری سے ذہنی دباؤ بڑھا ہے۔ اس عرصے میں گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مٹھی بھر زر والوں کو چھوڑ کر باقی عوام مختلف قسم کی پریشانیوں میں گھرے ہیں۔ کئی ممالک ایسے ہیں جہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں ہے۔ جہاں بچوں کی اکثریت غذائی قلت کا شکار ہے۔ دنیا میں انسانوں کی اکثریت کو جسم و ذہن تھکا دینے والی محنت کے بدلے میں بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتیں۔ لوگ اپنی زندگی بھر کی محنت کو اپنی آنکھوں کے سامنے رائیگاں جاتے دیکھتے ہیں۔ ایک نسل اگلی نسل کے لیے ورثے میں پریشانیاں اور تکلیفیں چھوڑ کر جاتی ہے۔ ایسی دنیا جس میں انسان چاند پہ قدم رکھ چکا ہے، اس میں لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر میں جاتے ہوئے پہلے پیسوں کا سوچتے ہیں۔ وہ دنیا جس میں ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی تکنیک ایجاد ہو چکی ہے، اس میں لوگ چھوٹی موٹی بیماریوں سے دم توڑ جاتے ہیں۔ اس جدید دنیا میں ایک وائرس کتنے لوگوں کی جانیں نگل گیا۔ ہزاروں ٹن گندم ہر سال دریاؤں میں بہا دی جاتی ہے۔ بڑے بڑے ریستورانوں میں روز اتنا کھانا ضائع کیا جاتا ہے جس سے نہ جانے کتنے بھوکوں کا پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ لاکھوں بے گھر لوگ کھلے آسمان کے نیچے سوتے ہیں اور آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتوں کو تکتے رہتے ہیں۔ اس دنیا میں لوگوں کا پریشان ہونا، ذہنی دباؤ کا شکار ہونا یا اپنی زندگی سے تنگ آ جانا کوئی حیران کن بات نہیں ہے۔
اسی طرح کی ایک رپورٹ کے مطابق 15 سے 29 سال کے افراد میں اموات کی دوسری بڑی وجہ خودکشی ہے۔ اس پہ بات کرنے سے پہلے ہم ذہنی امراض کے حوالے سے بات کر لیتے ہیں جو زیادہ تر خودکشی کی وجہ بنتی ہیں۔ دنیا میں بسنے والے لوگوں کی بہت بڑی تعداد کم و بیش کسی ذہنی مرض میں مبتلا ہیں۔ ان میں سب سے عام ڈپریشن ہے۔ دنیا میں لگ بھگ 26 کروڑ 40 لاکھ لوگ ڈپریشن کا شکار ہیں۔ ڈپریشن کے شکار افراد میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ ہمارے پاس تازہ ترین اعدادو شمار نہیں ہیں
درحقیقت یہ اعداد و شمار بھی حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتے، حقیقت اس سے بھی کئی درجے زیادہ خوفناک ہے۔ ڈپریشن اپنی انتہا پہ جا کے خودکشی کے خیالات کو جنم دیتا ہے۔ ذہنی امراض کی ایک اور بڑی قسم ’بائی پولر ڈس آرڈر‘ ہے۔ دنیا میں 4 کروڑ 50 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ ایک اور قسم Schizophrenia (شقاق دماغی) ہے۔ یہ ایک شدید ذہنی مرض ہے اور دنیا میں دو کروڑ افراد اس مرض میں مبتلا ہیں۔ ذہنی امراض کی ایک اور قسم Dementia ہے اور دنیا میں لگ بھگ 5 کروڑ لوگوں کو یہ مرض لاحق ہے۔ Anxienty Disorder کے شکار افراد کی تعداد 28 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ 7 کروڑ سے زائد لوگ منشیات (شراب کے علاوہ کیونکہ بہت سارے ممالک میں شراب کا شمار منشیات میں نہیں ہوتا) کے عادی ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک میں 76 فیصد سے 85 فیصد لوگوں کو ذہنی امراض کا علاج میسر نہیں ہے جبکہ”ترقی یافتہ“ ممالک میں یہ شرح 35 فیصد سے 50 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار بھی حقیقت کا درست اظہار نہیں کرتے کیونکہ بہت سے ممالک میں ذہنی مرض میں مبتلا شخص خاندان کے لیے شرمندگی کا باعث سمجھا جاتا ہے اور بہت سارے لوگ اس بیماری کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو صحت کے شعبے کا ناکارہ پن ہے۔ صرف پاکستان کی بات کریں تو یہاں صحت کا شعبہ مجموعی طور پہ ناقص ہے۔ پاکستان میں ہر 1000 میں سے 66 بچے ایک سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے وفات پا جاتے ہیں۔ ہر 1 لاکھ میں سے 170 عورتیں بچے کی پیدائش کے دوران مر جاتی ہیں۔ پاکستان میں جی ڈی پی کا کم ترین حصہ صحت کے شعبے کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں 1200 مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر موجود ہے۔ دوسری طرف بے شمار لوگ میڈیکل کی ڈگریاں لیے گھوم رہے ہیں۔ میڈیکل کے طلبہ میں خودکشیوں کا رجحان بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی ہر ماہ جائیں اور بچوں کو بھی لے جائیں۔ خاکسار نے سوال پوچھ لیا کہ ایک بڑی تعداد مشکل سے اتنا کماتی ہے کہ دو وقت کی روٹی پوری ہو سکے، ایسے میں گھر کے سب افراد تو دور ایک بھی فرد ماہرینِ نفسیات کی فیس برداشت نہیں کر سکتا۔ کیا ان کے ڈپریشن کا علاج ان کی بنیادی ضروریات پوری کر کے نہیں کیا جا سکتا؟ اس کے بعد پتہ نہیں کیوں وہ لوگ کچھ دیر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ انقلاب نہیں آ سکتا۔ ہم بالکل یہ نہیں کہتے کہ امیر لوگ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے یا خودکشی نہیں کرتے۔ بہت سے ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ بہت سے مشہور فنکاروں نے خودکشی کی ہے۔ لیکن اس کی بنیادیں بھی مجموعی طور پر سماج میں پیوست ہیں۔ خوشی ایک اجتماعی جذبہ ہے۔ یعنی باقی انسانوں کو نکال لیا جائے تو ایک انسان کی خوشی کیا ہے؟ ایک ایسی دنیا جس میں انسانوں کی اکثریت دکھ، تکلیف اور اذیت میں مبتلا ہے، اس میں کوئی بھی دردِ دل رکھنے والا انسان کیسے خوش رہ سکتا ہے؟
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭

امریکہ کی ترجیحات

سجادوریا
افغانستان سے امریکہ کے اچانک انخلاء نے افغان حکومت سمیت دیگر طاقتوں کو بھی حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔بھارت خاص طور پر پریشان دکھائی دیا۔بھارتی میڈیا کی تو گویا دُم پر پاوٗں آگیا۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولتے کئی بھارتی تجزیہ کار، میڈیا کی سکرینوں پر جلوہ گر ہوئے۔کئی امریکہ کو طعنے دیتے رہے اور کوستے رہے کہ بُزدل ہو،بھاگ گئے ہو۔ بھارت کی پریشانیاں اور بدحواسیاں سمجھ میں آتی ہیں کہ انہوں نے اربوں ڈالرز خرچ کر کے اشرف غنی حکومت کو اپنے قابو میں کیا تھا،پاکستان کے پڑوس میں کئی قونصل خانے کھول رکھے تھے،جن کے ذریعے پاکستان کے اندرونی حالات خراب کیے جا رہے تھے۔اشرف غنی کی حکومت کے پاکستان مخالف بیانات دراصل بھارتی جذبات کی تسکین کا سبب بنتے تھے۔امریکہ نے بھی کوشش کی کہ بھارت کو خطے کا تھانیدار بنایا جائے،پاکستان کو گھیرا جائے،لیکن صد شُکر کہ پاکستان کے ریاستی اداروں نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور دُشمنوں کی چالوں کو ناکام بنا کے رکھ دیا اور اپنے وطن کو محفوظ بنا لیا۔
۲۰ سال قبل امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا تو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ امریکہ افغانستان کے پہاڑوں سے ٹکرا کے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس وقت دُور اندیش اور صاحب بصیرت سیاسی،علاقائی اور عالمی اُمورکے ماہرین ”کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ“کے مصداق اس خدشے کا اظہار کرتے تھے کہ امریکہ دراصل افغانستان میں بیٹھ کر چین اور پاکستان کے حالات خراب کرنا چاہتا ہے۔امریکہ نے بھارت کی مدد سے ایسا کیا بھی،پاکستان پر ڈرون حملے کئے گئے،ٹی ٹی پی کو فنڈنگ کی گئی،افغانستان سے دہشت گردی کو پاکستان میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی لیکن شاباش ہے پاک فوج کے لئے کہ انہوں نے کمال منصوبہ بندی سے دشمنوں کو بے بس کردیا۔تمام حالات و واقعات کا تجزیہ کیا جائے تو میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ پاکستان نے بہت عمدہ کھیلا،پاکستانی میڈیا،سیاسی قیادت اور سِول و عسکری اداروں نے اپنے محدود وسائل اور عالمی مجبوریوں کے باوجود ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔امریکہ اب افغانستان طالبان کے حوالے کر کے نکل چکا ہے۔اب اس پر ایک حد تک اطمینان کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ شمال،مغربی بارڈر افغانستان کی طرف سے محفوظ ہو گیا ہے،بھارت بھی نکل چکا ہے اور اشرف غنی نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہو ئے ”بھاگ غنی بھاگ“ کا نعرہ لگانے میں ہی عا فیت سمجھی۔
سقوطِ کابل نے ایک طرف عالمی سطح پر طاقتوں کے توازن کے بدلنے کا اشارہ دے دیا ہے،امریکہ محسوس کر رہا ہے کہ دنیا میں اس کا وہ دبدبہ قائم نہیں رہا۔جس بدمعاشی اور دھونس سے اس نے عراق،شام،لیبیا اور افغانستان پر حملے کیے،اب ایسا نہیں چلے گا۔امریکہ کو یقین ہو چلا ہے کہ اس کی فوجی بدمعاشی نے اس کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ان تمام احساسات اور معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے اپنی ترجیحات کو نئی سمت دی ہے۔اپنی نئی ترجیحات کے مطابق خود کو جنگ سے دور کرنا ہو گا۔امریکہ سمجھتا ہے کہ اس کا اصل حریف چین ہے،جو خاموشی سے اپنی معاشی اور فوجی طاقت بڑھا رہا ہے،دنیا میں معاشی تعلقات کے ذریعے خود کو مضبوط بنا رہا ہے،چین نے خود کو جنگوں سے دور رکھا ہے،معیشت و کاروبار کے ذریعے خود کو مضبوط کیا ہے۔چین کے توسیع پسندانہ عزائم نہیں ہیں،خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کر چکا ہے،پڑوسیوں سے دوستانہ اور شراکت داری کی بنیاد پر تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔یعنی کہ عالمی سطح پر مثبت اور صلح جُو ہو نے کا تاثر دیا ہے۔اس طرح اپنی دھاک بٹھانے میں کامیا ب ہو چکا ہے۔چین نے اب طالبان کی طرف بھی ہاتھ بڑھا دیا ہے۔طالبان کا وفد بیجنگ کا دورہ کر چکا ہے۔میرا ”گمان“ ہے اب چین کھیلے گا اور دنیا دیکھے گی۔
میں نے ذکر کیا ہے کہ امریکہ نے ترجیحات بدل لی ہیں،پہلی ترجیح تو جنگ بندی ہے اور دوسری ترجیح معیشت پر توجہ ہو گی۔میں سمجھتا ہوں امریکہ نے سوچ سمجھ کر جنگوں سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے،انہوں نے عزت کو داوٗ پر لگا دیا ہے لیکن اپنی بقا اور معیشت کو محفوظ کر لیا ہے۔امریکہ کو اس لحاظ سے دانشمند کہہ سکتے ہیں کہ سوویت یونین کی طرح ٹوٹنے کا انتظار کرنے سے پہلے ہی نکل جاتا ہے۔ویت نام میں بھی ایسا ہی کیا اور اب افغانستان سے بھی بھاگ کھڑا ہوا۔مجھے ایسا لگا کہ امریکا نے بہتر فیصلہ کیا،امریکہ اب سانس لے گا،سستائے گا اور دنیا کے ساتھ بہتر سفارتکاری کے ذریعے اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔اقوام ِ متحدہ،فیٹف اور آئی ایم ایف جیسے ہتھیار استعمال کرے گا۔ان کا اثر”کھسیانی بلی کھمبا نوچے“جیسا ہی ہو گا۔کیونکہ دنیا نے امریکہ کی اخلاقی اقدار،دوستی اور طوطا چشمی کو دیکھ لیا ہے،صرف مفادات کا تعلق،کوئی اخلاقیات نہیں،کوئی دوستی نہیں۔اپنے مفادات کو یقینی بنانا ہے چاہے اقوامِ متحدہ کی چھتری کا سہارا لینا پڑے،کسی کا بازو مروڑنا پڑے یا عراق میں کیمیائی ہتھیاروں جیسا جھوٹ بولنا پڑے۔امریکا سے آنے والی خبروں سے تو ایسا لگتا ہے امریکہ بہت محتاط ہو گابلکہ چین کی ترقی اور طاقت سے خوف زدہ نظر آتا ہے۔اسی خوف نے امریکہ کو اپنی ترجیحات بدلنے پر مجبور کردیا ہے۔امریکہ اور یورپ کے تھنک ٹینکس جان گئے ہیں کہ دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے،اس کا مرکز چین اور روس ہونگے۔
طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی معتبر خبریں نہیں آ رہیں،لیکن میرا”گمان“ ہے امریکہ و یورپ کئی شرائط اور پابندیوں اور مطالبات کے ساتھ کچھ دیر کے بعد بالآخر تسلیم کرنے پر تیار ہو جائیں گے،کیونکہ وہ خود کو ان مسائل سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ایسی شرارتیں،الجھنیں اور سازشیں ہی ان کی امیدوں کو پورا کر سکتی ہیں جن کے ذریعے چین،طالبان اور بھارت کے ساتھ جنگ میں اُلجھ جائے۔امریکہ نے بھارت پر بھروسہ کیا تھا کہ چین کے خلاف کھڑا ہو گا لیکن چین نے لداخ میں بھارتی علاقے پر قبضہ کرلیا اور بھارت تلملاتا رہ گیا۔بھارتی فوج بے بس اور شکست خوردہ نظر آئی۔بھارت کے ایکسپوز ہو جانے کے بعد امریکہ کی امیدیں مزید دم توڑ گئیں۔
امریکی تھنک ٹینکس اور حکومت،بھارت کی فضائی طاقت،عسکری طاقت سے اس وقت انتہائی حد تک مایوس ہو گئے جب پاکستان نے ان کے جھوٹے ائیر اسٹرائیکس کے جواب میں دن کی روشنی میں گھُس کر مارا،ان کے جہاز گرائے اور ابھی نندن کو چائے بھی پلائی۔امریکہ کو پتہ چلا کہ ”جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے“۔
امریکہ میں یہ احسا س شدت اختیار کرتا گیا کہ چین اور پاکستان کی فوجی طاقت مضبوط ترین ہو چکی ہے ان کے اتحاد اور شراکت داری نے خطے میں ان کی دھاک بٹھا چکی ہے۔امریکہ بیس سال اگر مزید بیٹھا رہے توبھی کچھ نہیں کر پائے گا۔اس لئے امریکہ نے مناسب فیصلہ کیا ہے،بھارت جانے اسکی سیاست جانے،بھارت کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔اس سے امریکہ کو سروکار نہیں۔امریکہ اپنے مفادات اور ترجیحات کو یقینی بنائے گا۔اسلامی دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوستانہ بنانے کی کوشش کرے گا۔امریکہ عالمی سُپر پاور ہونے کا تاثر اور بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرے گا۔لیکن اس میں بہت دیر ہو چکی ہے،امریکہ پر کوئی اعتماد نہیں کرتا۔جوبائیڈن نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ سرد مہری اختیار کر کے امریکہ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔اسلامی دنیا کے دونوں اہم ممالک اس وقت امریکہ کے دوستوں میں شامل نہیں ہیں۔امریکہ کو اپنی نئی ترجیحات میں اس محرک پر بھی سوچنا ہو گا۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے

عثمان احمد کسانہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔74 سالوں میں ان گنت کشمیریوں کا خون بہایا جا چکا، کشمیریوں کی آزادی کی خواہش اور جدو جہد انکا جرم بن گئی، اقوام متحدہ سے لیکر مقامی سطح کی این جی اوز تک ہر کوئی بھارت کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے،بہت کچھ ہوا، کشمیریوں نے بہت کچھ سہالیکن بعض اوقات اس قدر نیچی حرکات اور اوچھے ہتھکنڈے دیکھنے کو ملتے ہیں کہ حیرانی کیساتھ پریشانی بھی لاحق ہوتی ہے کہ خدا کسی کو اتنا گرا ہوا دشمن بھی نہ دے۔چند دن قبل جموں کشمیر کے بزرگ اور معمر ترین سیاسی و ملی رہنما، حریت کا نشان، عاشق پاکستان سید علی گیلانی دار فانی سے کوچ کر گئے انکی عمر تقریباً92 برس تھی۔ انکی وفات کے بعد غم و اندوہ کے مارے انکے اہل خانہ تجہیز و تکفین کی بابت سوچ ہی رہے تھے کہ بھارت جوبزعم خود اپنے آپ کو دنیا کابہت بڑاسیکولر سمجھتا ہے اور ایڑیاں اٹھا اٹھا کے اپنے قد کی پستی چھپانے کی ناکام کوششیں کرتا رہتا ہے۔ ہم نے دیکھ لیا وہ کشمیری نوجوانوں کے جواں جذبوں سے کتنا خائف اور سہما ہوا ہو گا جو ایک بوڑھے بزرگ کی میت سے بھی ڈررہا تھا۔ اپنے سورماؤں کے ذریعے نہتے کشمیریوں پر غاصبانہ زورآزمائی کر کے اپنی جھوٹی انا کی تسکین کا بھونڈا سامان کرنے کا کوئی موقع نہ گنوانے والی نام نہادبڑی جمہوریت کے بزدل حکمران اس 92 سالہ بوڑھے کی میت سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ رات کے اندھیرے میں میت چھین کر زبردستی اپنی زیر نگرانی فوری تدفین کروا دی۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ پوری مقبوضہ وادی میں کرفیولگا کر لوگوں کو گھروں میں قید کر دیا گیا۔اور پھر اس سے ایک قدم اور آگے انتہائی سفاکیت پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی کے ورثا پر ناجائز مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ بھارت اور اس کے کم ظرف نیتا اپنے تئیں تسلی اور اطمینان محسوس کر رہے ہونگے کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور آزادی کیلئے بلند ہونے والی سب سے توانا آواز انہوں نے منوں مٹی تلے دبا دی۔ ان کا یہ خیالِ باطل اسی وقت خاک میں مل گیا جب دنیا کے ہر کونے سے اس قبیح حرکت کی مذمت سامنے آنے لگی۔پاکستان نے سفارتی سطح پر باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروانے کیلئے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر لیا۔عالمی میڈیا میں بھارت کی اس بزدلانہ کارروائی کو شرمناک قرار دیا جانے لگا۔ یہ تو بیرونی عوامل ہیں مقبوضہ وادی کے اندر کی صورتحال یہ ہے کہ کشمیر کا ہر بچہ، بوڑھا اور جوان سید علی گیلانی کے چلے جانے کے غم کو اپنی طاقت بنا کر پہلے سے زیادہ پُرجوش نظر آنے لگا۔ اور یہ رد عمل غیرمتوقع نہیں بلکہ بالکل فطری اور لازمی تھا کیونکہ سید علی گیلانی نے پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ تک مسلسل اپنی قوم کی ترجمانی کی اور اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے اپنے فولادی عزم اور غیر متزلزل ولولے کی حدت سے کشمیری نوجوانوں کا لہو گرماتے رہے۔ سید علی گیلانی ایک مدبر رہنما کے طور پر تقریباً پچاس سال تک بھارت کے ناجائز تسلط کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑے رہے۔
آپ نے مقبوضہ کشمیر کی تمام قیادت کو آل پارٹیزحریت کانفرنس کے پلیٹ فارم پر جمع کیا اور طویل عرصہ تک اس مشترکہ محاذ کی قیادت کا فریضہ بھی ادا کیا۔ کتنے ہی ایسے مواقع آئے جب بھارت نے آپ کے جسمانی ضعف کے مغالطے کا شکار ہو کر کبھی پابند سلاسل کیا تو کبھی جسمانی تشدد کے ذریعے آپ کی آواز دبانے کی کوشش کی لیکن دنیا نے کئی بار یہ منظر دیکھا کہ علی گیلانی عزم و ہمت کے پہاڑ کی مانندسر اٹھا کے جئے اور انکی کی ایک کال پر پورا کشمیر لبیک کہتے ہوئے سر بکف ہو جاتا۔ جمعہ کے اجتماعات ہوتے یا ویسے احتجاجی جلے و جلوس سید علی گیلانی کا ہاتھ گویا اہل کشمیر کی نبض پر ہوتا۔ آپ کو قبول عام کا درجہ حاصل تھا تمام جماعتیں اور گروہ آپ کو اپنا بزرگ اور رہنما قرار دے کر آپ کے موقف کو مزید مضبوط کرنے میں فخر محسوس کرتے۔ سید علی گیلانی کی کرشماتی شخصیت کا ایک خوبصورت اور شفاف پہلو یہ تھا کہ آپ سرزمین ِپاکستان سے وارفتگی کی حد تک عشق کرتے تھے۔ پاکستان کو اپنی امیدوں اور اپنی جدوجہد آزادی کی منزل قرار دیتے۔ اکثر کہتے ہم پاکستان ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔گزشتہ ڈیڑھ سال سے بستر علالت پر ہونے کے باعث سید علی گیلانی کا جسم تو کمزور ہو گیا لیکن ان کا موقف اسی طرح جاندار رہا۔ آزادی کی تڑپ اسی طرح تندرست و توانا رہی۔ آخری سانس تک جب کبھی ان کو موقع ملتا وہ کشمیری نوجوانوں سے اسی طرح مخاطب ہوتے جیسے وہ جوانی میں ہوا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر حوصلے، امید اور لگن کے باوجود یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ سید علی گیلانی کی وفات سے کشمیر اور کشمیری عوام بے آسرا ہو گئے۔اللہ تعالیٰ انکے درجات بلند فرمائے اور اہل کشمیر کو علی گیلانی جیسا بااثر جرات مند اور مخلص رہنما نصیب ہو۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

2022ء بلدیاتی انتخابات کا سال

کنور محمد دلشاد
وزیرِ اعظم 2023ء کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کروانے کے لیے پُرعزم ہیں اور قانون سازی کے لیے اسی سال پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا پڑا تو وہ قانونی اور آئینی حق کو بروائے کار لائیں گے اورقانون سازی کا عمل اسی سال مکمل کیا جائے گا۔الیکشن ایکٹ 2017کی دفعہ 103کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں،پارلیمنٹ ایکٹ کے ذریعے اس ابہام کو دور کیا جاسکتا ہے،ممکن ہے کہ حکومت بیک ڈور پالیسی کے تحت پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان سینٹ سے استفادہ کرتے ہوئے سینیٹ سے ہی الیکشن ایکٹ 2017میں بعض اہم انتخابی اصلاحات کا بل منظور کرانے میں کامیاب ہوجائے۔اسی طرح شہباز شریف جو مفاہمت کی پالیسی کا باربار ذکر کررہے ہیں،اس کی آڑ میں سینیٹ کے انتخابی اصلاحات بل کی منظوری میں ان کی نیم رضامندی سے حکومت آسانی سے قانون سازی کراکے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے اجرا کے لیے الیکشن کمیشن کو قانونی دائرہ کاار تک محدود کردے۔ لیکن زمینی حقائق کے مطابق پارلیمنٹ ایکٹ منظور ہوجائے گا۔ اسی پر عمل درآمد کرانا الیکشن کمین کی قانونی اور آئینی مجبوری ہو گا۔پارلیمنٹ کی کسی سیاسی جماعت کی جانب سے،سپریم کورٹ میں پارلیمنٹ ایکٹ کو چیلنج کر دیا جائے۔میرا تجربہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ بھی پارلیمنٹ ایکٹ کی منظوری کے بعد کسی قسم کی آئینی پٹیشن کوشاید قبول نہ کرے اور پارلیمنٹ مجموعی طور پر بالادستی کا دعویٰ کرتی ہے۔ لہٰذا حکومت 2023کے انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہی انتخابات کا انعقاد کردے گی،جبکہ اس سسٹم میں نقائص پر پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں چھ ماہ سے بحث چل رہی ہے اور صدرِمملکت بھی اسی بارے میں حکومت پاکستان کے ہم نوا ہیں اور کئی اجلاس کی صدارت بھی کرچکے ہیں۔
حکومت شہباز شریف کے کراچی کے دورہ کے دوران ان کی پریس کانفرنس سے مطمئن ہے۔دراصل شہبازشریف کے دورہ کراچی کے دوران بزنس کمیونٹی نے بھی باورکرایا ہے کہ حکومت مضبوط معاشی پالیسی کی شاہراہ پر کھڑی ہے اور پاکستان کے تمام صنعت کار،سرمایہ کار،سٹاک ایکسچینج،اتھارٹی کے اہم صنعت کار حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،لہٰذا مفاہمت کی پالیسی اپنا کر آئندہ انتخابات کی تیاری کریں۔ہماری اطلاع کے مطابق شہباز شریف کراچی کے بااثر بزنس گھرانوں کے دباؤ میں آچکے ہیں اور انھوں نے کراچی میں جو پریس کانفرنس کی ہے اس کے بعد نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ ن میں حیثیت مغل دربار میں بہادر شاہ ظفر کے جیسے رہ جاتی ہے کہ جن کی حکومت محض دربار تک ہی محدود تھی۔وجہ یہ ہے کہ نواز شریف سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار پاچکے ہیں،وہ الیکشن نہیں لڑسکتے،اب جب معاملات کو شہباز شریف مکمل کنٹرول کرلیں تو نوازشریف کے پاس فیصلہ سازی بھی نہیں رہے گی۔زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کی سیاست میں تلاطم فی الحال نہیں ہے اور نوازشریف لندن کے رہائشی علاقے تک مقید ہو کر رہ گئے ہیں،ان کے صاحبزادگان،بین الاقوامی طورپر رئیل اسٹیٹ کا بزنس کررہے ہیں اور اسحاق ڈار کی سینٹ کی نشست صدارتی آرڈی نینس کی نذرہوجائے گی،شہباز شریف کے اردگرد کاروباری مفاد پرست گروہ کا حصار ہے اور حکومت مخالف کس قسم کی تحریک کا جواز نہیں بنتا۔
الیکٹرانک ووٹنگ شفاف انتخابات میں کلیدی کردار اداکرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اورلیکشن کمیشن کی مجاز اتھارٹی اس اہم ٹاسک پر کام کررہی ہے اور الیکشن کمیشن اپنی تجاویز حکومت کو پیش کریگاکیونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تعداد کا بھی تعین کرنا ہے،الیکشن کمیشن کو جو بریفنگ دی گئی تھی،اس کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے علیحدہ علیحدہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہونا ہے اور ایک لاکھ پولنگ سٹیشنوں پر چار لاکھ پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے،جس کے مطابق آٹھ لاکھ کے لگ بھگ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی خریداری ہونی ہے،جس کا تخمینہ ایک اندازے کے مطابق 50ارب روپے کے اخراجات اٹھانے پڑیں گے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سائنس و ٹیکنالوجی کے بعض ارکان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک نے اسے مسترد کردیا ہے۔جن لوگوں کو اپنا نام لکھنا نہیں آتا وہ مشین کیسے استعمال کریں گے اور الیکٹرانک وٹنگ مشین کو اپنے خصوصی پروگرام سے رزلٹ تبدیل نہ ہونے کی گارنٹی نادرا اور سائنس و ٹیکنالوجی منسٹری سے حاصل کرنا ہوگی۔الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ایک ماہر کی رائے کے مطابق آپریٹنگ سسٹم نہیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کم سے کم چار ماہرین ہر پولنگ اسٹیشن پر موجود ہوں گے، اسی طرح الیکشن عملہ کی تعداد میں چار لاکھ اضافی افراد کا تقرر کرنا ہوگا،اتنی بڑی تعداد کو ٹریننگ دلانا اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو آپریٹ کرانا،الیکشن کمیشن کی استعدادسے بالاتر ہے کیونکہ الیکشن رولز کے مطابق ایک لاکھ پولنگ سٹیشن کا قیام پر تیرہ لاکھ عملہ درکار ہوتا ہے اور الیکٹرانک ماہرین کی تعداد کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد سترہ لاکھ تک پہنچنے کا احتمال ہے لہٰذا سیاسی جماعتوں کو تمام امور پر سیر حاصل مہارت حاصل کرنا ہوگی اور مشینوں کی خریداری کے لیے انٹرنیشنل سٹینڈرڈدیا جائے گا جس کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے اور قومی احتساب بیورو نے بھی پس پردہ اسی انٹرنیشنل سٹینڈر کے معیار پر نظر رکھنا ہوگی۔الیکشن کمیشن ممکن ہے کہ اس آلودگی سے باہر رہے اور حکومت ہی ایسے سودے کرتی رہے جبکہ بھارت میں الیکشن کمیشن کے ماہرین کی موجودگی میں یہ مشین تیار کی جاتی ہے۔ایک اہم و عجیب بات یہ سامنے آتی ہے کہ پچاس ارب روپے سے زائد اخراجات ادا کرکے جو مشین تیار کی جاری ہے کیا وہ ایک الیکشن تک ہی استعمال میں رہے گی یا پھر تین یا چار انتخابات بھی اسی مشینوں سے کروائے جائیں گے۔منسٹری سائنس و ٹیکنالوجی کے ماہرین اس سوال کا جواب تحریری صورت میں الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا چاہیے،چونکہ حکومت اٹھارہ اگست کو برخاست ہو کر نگران سیٹ اپ کے حوالہ کردی جائے گی،کیا نگران حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے شفافیت لانے میں کامیاب ہوجائے گی،لہٰذا موجودہ حکومت کو بھی دیکھناہوگا کہ اگر پارلیمنٹ ایکٹ 2017کے ذریعے الیکٹرانک ووٹنگ مشین زیرِ استعمال لائی جائے گی تو نگران حکومت آرڈی نینس کے ذریعے اس ایکٹ کو موخر یا مسترد بھی کرسکتی ہے،لہٰذا اسی سسٹم کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آئین کے آرٹیکل 226اور 218میں مناسب ترامیم کی جائے تاکہ اسی سسٹم کو آئینی تحفظ حاصل ہوجائے۔
2022اصولی طورپر بلدیاتی انتخابات کا سال ہی قراردیا جائے گا کیونکہ قوی امکان ہے کہ مارچ 2022میں پنجاب کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخوا اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں اور یہ سلسلہ جون 2022تک پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اسی عرصے میں ترقیاتی کام رک جائیں گے اور معاشی طورپر جو حکومت آگے جارہی ہے وہ اس سسٹم کے تحت مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔مئی جون 2022میں بجٹ اجلاس ہونے ہیں اور اگست تک پاکستان میں ترقیاتی کام رک جائیں گے،اسی دوران جبکہ الیکشن کمیشن بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں مصروف ہوگا تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے بارے میں حساس نوعیت کے فیصلے کیسے ممکن ہوں گے؟اور اس طرح حکومت کے پاس جون 2023تک کا وقت رہ جائے گا اور نگران حکومت کے قیام کے لیے سیاسی طورپر جوڑ توڑ شروع ہوجائے گی۔
ان معروضی حالات میں الیکشن دوہزار تئیس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے کروانے کا منصوبہ مکمل ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہا۔الیکشن کمیشن نے دسمبر 2022تک حلقہ بندیاں ہی مکمل کرنی ہیں اور مردم شماری بھی اسی دوران ہونے والی ہے،جس پر صوبہ سندھ میں مردم شماری کے خلاف طبل جنگ بج جائے گا لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وزیراعظم عمران خان کو درست حالات سے باخبر رکھیں،وزیرِ اعظم کو الیکشن کے ماہرین کی ٹیم سے مکمل بریفنگ لینی چاہیے اور یہی طریقہ وزیرِ اعظم بھٹو نے اپنا یاتھا،اس کے باوجود وہ شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوگئے اور قوم کو 5جولائی 1977کا سانحہ دیکھنا پڑاتھا۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭……٭……٭

طالبان ہیرے ہیں ان کی قدرکریں

آغا خالد
یہ 2009-10کی بات ہے ملاعبدالغنی برادرکوکراچی سے حیدرآباد سے ملانیوالے موٹروے ایم 9 سے حراست میں لے لیاگیاتھایہ تعین آخرتک نہ ہوسکاکہ حرکت المجاہدیں سے متعلق مدرسہ سے رات کے آخری پہرانہیں لے جانے والی بڑی گاڑیوں میں سوارسادہ لباس میں ملبوس اہلکارکس ادارہ سے تھے تاہم اس سلسلہ میں حراست کی وجوہ کے حوالے سے متعددکہانیاں گشت کرتی رہیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ ملابرادرامریکہ بہادرسے براہ راست رابطوں کے بعدان سے خفیہ مذاکرات کیلئے کراچی پہنچے تھے۔
امریکہ کومطلوب طالبان رہنماؤں کی فہرست میں ان کانام اس وقت سرفہرست تھاجس کی وجہ سے وہ آزادانہ نقل وحرکت نہیں کرپاتے تھے اورخفیہ دورہ کاسراغ لگاکرانہیں حراست میں لیاگیاتھاجبکہ ان کی گرفتاری سے حکومت پاکستان نے لاعلمی ظاہرکی تھی مگراس کے باوجودبعض امریکی اخبارات نے الزام لگایاتھاکہ پاکستان نے طالبان سے براہ راست مذاکرات اوررابطوں کی زنجیرکاٹ کرامریکی کوششوں کوسبوتاژ کیاہے بہرصورت ملابرادر کی گرفتاری کاآپریشن اتنابڑااورڈرادینے والاتھاکہ ان کے میزبان مولاناعبدالحمیدعباسی اورمولاناسعادت اللہ خود بھی خوف زدہ ہوکراپنے ڈرائیورکے ساتھ روپوش ہوگئے تھے بعدمیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق وہ اپنے موبائل بندکرکے سارادن گاڑی میں شہرکی سڑکوں پرگھومتے رہے تھے اورجب تھک جاتے توکسی بھی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرکے سوجاتے۔یوں انہوں نے کئی ماہ کی مفروری گذاری مگراس کے باوجودوہ زندگی کی امان نہ پاسکے اورمفروری ختم کرکے مدرسہ میں واپسی کے کچھ ہی عرصہ بعدمولاناسعادت اللہ کراچی کی سڑکوں پرٹارگٹ کلنگ کانشانہ بن گئے جس کے بعدمولاناعباسی پھرایک بارلمبے عرصہ کیلئے غائب ہوگئے تھے کہاجاتاہے کہ ملابرادرکی گرفتاری کے بعدایک طرف طالبان ان کی جان کے دشمن بن گئے تھے جس کی وجہ شبہ تھاکہ مخبری کرکے ملابردرکوگرفتارکروایاگیاتھاجبکہ دوسری طرف امریکی بھی ناراض تھے اوران کابھی کچھ ایساہی خیال تھاکیونکہ ملابرادرکراچی پہنچنے کے بعد پٹیل پاڑہ کے حافظ صاحب کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے جہاں سے انہیں امریکیوں سے مذاکرات کیلئے مذکورہ مدرسہ لے جایاگیاتھامگراگلے مرحلہ سے قبل ہی وہ دھرلئے گئے یہ بھی کہاجاتاہے کہ ان رابطوں کے سرخیل نورالّدین ترابی تھے جوسابقہ افغان حکومت میں محتسب تھے وہ امریکیوں سے رابطہ میں تھے اوروہی ملابرادر ملاجلیل اورمولوی کلیم کوکراچی لائے تھے مگرپٹیل پاڑہ سے سہراب گوٹھ موٹروے منتقلی کے دوران باقی تینوں مدرسہ کے گیٹ پرکسی اورکام سے اترگئے جبکہ ملابرادرمدرسہ میں چلے گئے اورگرفتارہوگئے۔
پھر 9 سال بعدمنظرعام پرآئے اوراب وہ افغانستان کے حکمراں بننے جارہے ہیں اورشایدیہی وجہ ہے کہ امریکہ جیسی سپرپاورکوشکست دیکراپناملک آزاد کروانے والے ملابرادرکی جوتصویرہمارے آئی ایس آئی چیف کیساتھ گذشتہ روزمنظرعام پرآئی ہے وہ بغلگیرہوتے ہوئے نظریں چرارہے ہیں۔کہتے ہیں قیدی اورحوالدارکارشتہ ہمیشہ برقراررہتاہے تاہم پھربھی فخرکی بات یہ ہے کہ انہوں نے برملایہ اعلان کیاہے کہ ان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اورپاکستان ہماراقابل اعتماددوست ہے۔
اس مرحلے پر ہماری دعاہے کہ جب افغانستان میں عبوری حکومت بن چکی ہے اور ملاعبدالغنی برادر نے پاکستان کے بارے میں نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہنابھی مناسب سمجھا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی وہ اس عزم پرقائم رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مستقبل کا افغانستان کا نقشہ پوری امت مسلمہ کے لئے لائق فخر ہو کہ اس نے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا غرور رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ دن کی روشنی میں توڑا ہے اورامریکہ کو اس نے دم دبا کر بھاگنے پرمجبور کردیاہے۔ یہ تاریخ کاسبق ہے اورامریکہ کویہ سبق ازبرکرلینا چاہیے اور مستقبل میں کسی ملک پر جارحیت سے پہلے اسے سوچ بچار کرکے پیشقدمی کرنی چاہیے۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

طالبان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کے وعدے پرقائم ہیں، امریکی وزیر خارجہ

انٹرنیشنل: امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان افغان شہریوں کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے عہد پر عمل کر رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن قطر کے 2 روزہ دورے پر ہیں جہاں انھوں نے افغان انخلاء کاروں اور امریکی ٹیموں سے ملاقات کی اور امریکا جانے کے لیے ٹرانزٹ پرواز سے قطر آنے والے افغانوں کی نقل مکانی سے متعلق امور پر بات چیت کی۔

اینٹونی بلنکن نے اپنے قطری ہم منصب کے ہمراہ دوحہ میں پریس کانفرنس میں کہا کسی افغانستان سے امریکا کے لیے پرواز بھرنے والے کسی  ہوائی جہاز کو یرغمال بنانے جیسی صورتحال سے آگاہ نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے مزید کہا کہ طالبان افغانوں کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیکر اپنے وعدوں پر اچھی طرح عمل کر رہے ہیں اور ہم اس حوالے سے طالبان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ کچھ مسافروں کی شناخت اور سیکیورٹی اسکریننگ کا مسئلہ ہے، چارٹر فلائٹس کے ساتھ مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں جس پر طالبان سے بات چیت جاری ہے۔

وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر جوبائیڈن کو اپنی ہی جماعت اور حریفوں کا شمالی مزار شریف سے امریکیوں سمیت کئی سو افراد کو طالبان انخلا سے روکنے پر دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے۔

کابل پر 15 اگست کو طالبان کے کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد سے افغانستان سے ایک لاکھ 20 ہزار افراد ہوائی جہاز کے ذریعے امریکا نقل مکانی کر گئے جن میں سے نصف ٹرانزٹ پروازوں کے ذریعے قطر اور متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔

اس موقع پر قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان نے میڈیا کو بتایا کہ کابل ایئرپورٹ کی مکمل بحالی اور اسے فعال بنانے کے لیے ترکی کے ساتھ تیزی سے کام کر رہے ہیں جس سے مزید لوگوں کے انخلا کے عمل میں تیزی آجائے گی۔

آرمی چیف سے یورپی یونین کی سفیرکی ملاقات، افغانستان کی صورتحال پرگفتگو

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یورپی یونین کی سفیراندرولا کامینارا نے ملاقات کی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغانستان اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملاقات میں یورپی یونین اور پاکستان کے تعلقات کے فروغ کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھاکہ مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کے فروغ کے خواہاں ہیں  اور  پاکستان یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یو رپی یونین کی سفیر نے افغانستان میں پاکستان کے کردار اور افغانستان سے پاکستان کے زیرانتظام کامیاب انخلا کو سراہا۔

صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے وارنٹ گرفتاری جاری

لاہور: اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔

لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے دونوں فنکاروں کے مسلسل غیر حاضر ہونے پر وارنٹ جاری کیے۔  اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید پر مسجد میں ویڈیو شوٹ کرنے کے الزام میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں اداکارہ صبا قمر اور اداکار بلال سعید کے البم کے ایک گانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دونوں فنکار لاہور کی مسجد وزیر خان میں موجود تھے۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی دونوں فنکاروں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور تھانہ اکبری گیٹ میں دفعہ 295 کے تحت دونوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا گیا ہے۔

شہباز شریف سے ٹیلی فون پر صرف الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی پر بات ہوئی

شہباز شریف سے ٹیلی فون پر صرف الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی پر بات ہوئی
پاکستان کو جدید اسلامی ملک بنانا چاہتے ہیں جس کی مثال دنیا میں دی جائے

پی پی ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف لڑی طالبان حکومت بننے پر چاہتے ہیں دہشت گردی ختم ہو
ہماری اسمبلیوںسے استعفے نہ دینے کی بات سچ ثابت ہو رہی ہے

پاکستان سے مداخلت نہیں طالبان کا دنیا کو پیغام

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان نے عارضی حکومت تشکیل دیتے ہوئے وزراء اور کابینہ اراکین کے ناموں کا اعلان کردیا جس کے مطابق نئی حکومت کا سربراہ محمد احسن اخوند کو منتخب کیا گیا ہے۔کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے نئی حکومت کی تشکیل اور وزراء کے ناموں کا اعلان کیا۔انہوں نے بتایا کہ نئی حکومت کے سربراہ محمد احسن اخوند ہوں گے جبکہ ملاعبد الغنی برادر کو معاون سرپرست ریاست اور وزراء کا عہدہ دیا گیا ہے، اسی طرح مولوی محمد یعقوب مجاہد وزیردفاع، سراج حقانی کو وزیرداخلہ تعینات کیا گیا ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق مولوی ملا ہدایت اللہ وزیر ماحولیات، ملاخیراللہ وزیراطلاعات ہوں گے، ملا امیرخان متقی وزیرخارجہ، شیخ نور اللہ منیر سرپرست وزارت معارف، قاری دین محمد وزیر اقتصادی امور ہوں گے۔افغان طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ نور محمد ثاقب وزارت حج و اوقاف، عبدالحکیم شرعی وزیر قانون، نوراللہ نوری وزیر سرحدی امور و قبائل، یونس اخونزادہ انٹیلی جنس چیف، شیخ محمد خالد کو دعوت و ارشاد کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح ملاعبد المنان فوائد و اعمال، حاجی ملا محمد عیسی معدنیات وپٹرولیم کے وزیر ہوں گے۔طالبان نے اپنی نئی حکومت کے قیام کا اعلان کردیا ہے اور محمد احسن اخوند عبوری وزیراعظم ہوں گے۔طالبان ترجمان نے اپنی نئی حکومت میں دیئے جانے والے عہدوں کا اعلان کرتے ہوئے ان مناصب پر فائز افراد کے ناموں کا اعلان کیا۔انہوں نے بتایا کہ ملا برادر غنی اور مولانا عبدالسلام دونوں مولانا محمد حسن کے معاون ہوں گے جبکہ ملا ہدایت اللہ وزیر مالیات اور محمد یعقوب مجاہد عبوری وزیر دفاع ہوں گے۔

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم نے مکمل کوشش اور مشاورت کے بعد سیاسی کابینہ تشکیل دی، ہماری پہلی ترجیح ملک میں قیام امن ہے، جس کیلئے مختلف اقدامات کیے ہیں، موجودہ کابینہ نگران ہے اور عارضی طور پر اپنی خدمات انجام دے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کابینہ میں وقت کے ساتھ سا تھ اصلاحات لاتے رہیں گے، ذمہ داریاں وقتی طور پر دی جارہی ہیں، وزراء اور کابینہ اراکین میں ردوبدل ہوسکتا ہے، نگران کابینہ کا اعلان ملک میں فوری نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کیا ہے، مستقل حکومت کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ آزادی سے متعلق ہونے والا کابل کا حالیہ مظاہرہ قانونی نہیں، اگر ایسے مظاہرے ہونے لگے تو ملک میں قیامِ امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے، ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کو مظاہرے کنٹرول کرنے کا تجربہ نہیں، ہماری اولین کوشش ہے کہ مظاہروں کے دوران شہر میں کسی بھی قسم کی بدنظمی نہ ہو۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ اب جومظاہرے کیے جا رہے ہیں وہ غیرقانونی ہیں، جب تک مظاہروں سے متعلق قانون نہیں بن جاتا عوام ان سے گریز کرے کیونکہ ایسے مظاہروں سے بیرونی ایجنڈے کا تاثر ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مداخلت سے متعلق پروپیگنڈا 20 سال سے جاری ہے، ہمارے معاملات میں پاکستان سمیت کسی ملک کی مداخلت نہیں ہے، ہم نے اپنی آزادی کے لیے تقریبا پوری دنیا سے جنگ لڑی، کوئی ثابت نہیں کرسکتاکہ ہمارے اقدامات سے پاکستان کو فائدہ ہوا کیونکہ ہم نے طویل جنگ لڑکی جس کے حالات کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پنج شیرکا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے، ہم کسی ایک قوم کی نمائندگی نہیں کرتے، ہمارے ساتھ تمام قومیت کے لوگ شامل ہیں، نگران کابینہ کی تشکیل میں بھی تمام اقوام کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، جس سے قومیت کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل کا تاثر غلط ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پنج شیرمیں کچھ لوگوں کی جائیدادیں تھیں اور کچھ غرباء تھے، لوگوں نے قوم کے نام پر جائیدادیں بنائیں تھیں، جس کی وجہ سے دیگر اقوام کے لوگ محرومیوں کا شکار تھے، آج ہونے والے مظاہرے میں پنج شیر کی جنگ روکنے کا مطالبہ کیا گیا، جب ہم جنگ جیت چکے ہیں تو پھر روکنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ہمارے نظام کی تشکیل میں کسی اور کی مداخلت نہیں، افغانستان میں نظام حکومت کا انتخاب صرف افغان شہریوں کا حق ہے، اس معاملے میں کسی اور ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی، عوام اپنا نظام قانون کے مطابق خود چلائیں گے۔امارات اسلامیہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم دنیا اور بالخصوص خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، اب ملک چھوڑنے والے قانونی معاملات پورے کر کے ہی جا سکیں گے۔