All posts by Daily Khabrain

وزیراعظم نے رمیز راجہ کو چیئرمین پی سی بی بنانے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے رمیز راجہ کو چیئرمین پی سی بی بنانے کا عندیہ دےدیا۔

وزیراعظم عمران خان سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اور سابق کرکٹر و کمنٹیٹر رمیز راجہ نے ملاقات کی جس میں بورڈ کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی کو آئندہ تین سال کے لیے توسیع نہ دینے کے فیصلے سے آگاہ کیا جب کہ رمیز راجہ کو بورڈ کا نیا چیئرمین بنانے کا عندیہ بھی دیا۔

ذرائع کاکہناہےکہ وزیراعظم عمران خان رمیز راجہ کا نام بطور ممبر بورڈ آف گورنرز کو بھجوائیں گے۔

امریکا سے افغانستان سے انخلا کی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کریں گے: برطانیہ

برطانیہ کا کہنا ہےکہ امریکی صدر سے افغانستان سے انخلا کی حتمی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی وزرا کا کہنا ہےکہ منگل کے روز ہونے والے جی سیون اجلاس کے موقع پر وزیراعظم بورس جانسن امریکی صدر جوبائیڈن سے افغانستان سے انخلا کی حتمی تاریخ میں توسیع کا مطالبہ کریں گے۔

برطانوی وزیر برائے مسلح افواج جیمس ہیپی اور جیمس کلیورلی نے کہا کہ برطانیہ امریکا پر زور دے گا کہ وہ افغانستان سے انخلا کے لیے مقرر 31 اگست کی تاریخ کو آگے بڑھائے جس سے لوگوں کی بڑی تعداد کو طالبان سے بچ نکلنے میں مدد ملے گی۔

وزیر برائے مسلح افواج کا کہنا تھا کہ برطانیہ آنے کے اہل تقریباً 4 ہزار افراد اب بھی افغانستان میں موجود ہیں اور اگر ممکن ہوا تو برطانوی حکومت مزید ہزاروں افراد کا انخلا کرسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اصل چیز یہ ہےکہ ہمارے خیال میں ہم سب کو گزشتہ ہفتے سے سیکھنا چاہیے اور ہم ہمیشہ جو ٹائم لائنز بناتے ہیں وہ مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتیں، اب ہمیں مزید وقت درکار ہے، ہم مزید لوگوں کا انخلا کرسکتے ہیں جس کے لیے ہم دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر نظر آیا کہ طالبان تعاون کررہے ہیں لیکن برطانوی طالبان پر انحصار نہیں کرسکتے، اس لیے ہم ترجیحی بنیادوں پر جتنی جلدی ممکن لوگوں کا تیزی سے انخلا کررہے ہیں، اگر اس میں ہمیں مزید وقت ملتا ہے تو یہ بہت اچھا ہوگا۔

واضح رہےکہ برطانوی وزیراعظم جی سیون ممالک کے ورچوئل اجلاس کی میزبانی کریں گے جس میں برطانوی حکومت کی جانب سے طالبان پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

جج کا قتل دہشتگردی قرار، عدالت نے سزائے موت کیخلاف اپیل مسترد کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل سیشن جج کے قتل کو دہشتگردی قرار  دیتے ہوئے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ایڈیشنل سیشن جج کے قتل سے متعلق کیس کا 26 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج کے قاتل فیض کی سزائے موت کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جج کا عہدہ بھی عوامی خدمت گزار کی تعریف میں آتا ہے۔

عدالت نے شریک مجرم رشید اور امیر بھٹی کی موت کی سزائیں عمر قید میں تبدیل کر دیں۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ نے فیصلے میں لکھا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ کسی بھی کیس میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، پولیس نے ملزموں کی شناخت پریڈ بغیر قانونی سقم اور رولز کے مطابق کروائی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقتول جج کے قریبی رشتہ داروں کی گواہی کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، پراسیکیوشن نے کیس میں شواہد اور حالات کی کڑیاں بہترین طریقے سے جوڑیں، مجرموں کے عدالت میں جرم تسلیم کرنے کے بیان نے بھی کیس ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

خیال رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج طاہر خان نیازی کو اگست 2015 میں ان کے گھر میں فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ صادق آباد پولیس نے مقتول جج طاہر خان نیازی کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا تھا۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت نے 2016 میں مجرم فیض، امیر بھٹی اور رشید کو 2، 2 بار موت کی سزائیں سنائی تھی جس کے خلاف انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

منی ہائسٹ کی ‘ٹوکیو’ بالی وڈ میں کام کرنے کی خواہاں

معروف ہسپانوی شو منی ہائسٹ کی ٹوکیو (ارسولا کوربیرو) نے بھارتی فلموں میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

چار سیزن پر مشتمل منی ہائسٹ کا 5 واں اور آخری سیزن اگلے ماہ ستمبر میں مداحوں کیلئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر ریلیز کیا جائے گا۔

ریلیز سے قبل ہسپانوی اداکارہ ارسولا کوربیرو نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے منی ہائسٹ کی دنیا بھر میں مقبولیت پر حیرانی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بالی وڈ مایہ ناز انڈسٹری ہے اور میں اب تک کافی بھارتی فلمیں دیکھ چکی ہوں لیکن ان کے نام بھول جاتی ہوں، مجھے صرف ایک فلم کا نام یاد ہے جس کی میں بہت بڑی مداح بھی ہوں اور وہ ہے ‘سلم ڈاگ ملینئر’۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر میرے پاس وقت ہوا تو میں ہندی زبان سیکھ کر بالی وڈ کی فلموں میں کام کرنا پسند کروں گی، میں اپنی اداکاری کو مخصوص نہیں کرنا چاہتی، مجھے چیلنجز پسند ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں نے امریکا میں اپنی پہلی فلم کی تھی تب میری انگریزی اچھی نہیں تھی لیکن محنت کی اور اس میں اداکاری بھی کی۔

ماں بیٹی سے زیادتی کا واقعہ، رکشہ ڈرائیور کی شناخت ، ایک ملزم گرفتار

لاہور : چوہنگ میں ماں بیٹی سے زیادتی کے واقعے میں ملوث رکشہ ڈرائیورکی شناخت ہوگئی جبکہ اس کے ساتھی عمر کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ رکشہ ڈرائیور کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہے.

تفصیلات کے مطابق چوہنگ میں ماں بیٹی سےزیادتی کے واقعےمیں ملوث دوسرےملزم رکشہ ڈرائیورکی شناخت ہوگئی ، رکشہ ڈرائیورکی شناخت منصب کےنام سےہوئی، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کاتعلق پاکپتن اور ساہیوال سے ہے۔

پولیس نے چوہنگ کےعلاقےمیں ماں بیٹی سے رکشہ ڈرائیور اور ساتھی کی زیادتی کے واقعے میں ملوث ایک ملزم عمر کو گرفتار کر لیا ہے ، گرفتارملزم عمر کو کل عدالت میں پیش کیاجائےگا، جہاں ملزم کوشناخت پریڈکیلئےجیل بھجوانےکی استدعاکی جائے گی۔

آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ دوسرےملزم کی گرفتاری کیلئےٹیمزمتعددعلاقوں میں چھاپےمار رہی ہے، مقدمےمیں گینگ ریپ،دہشتگردی سمیت دیگرسنگین دفعات شامل کی گئیں ہیں۔

انعام غنی نے بتایا کہ گذشتہ شب 15پراطلاع ملتےہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچیں اور فوری کارروائی عمل میں لائی ، فارنزک ٹیم نےشواہداکٹھے کرلیے ہیں جبکہ متاثرہ خواتین کا میڈیکل بھی کروالیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب نے کہا ملوث ملزمان کوسزا دلوانےمیں پولیس کوئی کسر نہیں اٹھا رکھےگی،آئی جی پنجاب

دوسری جانب چائلڈپروٹیکشن بیورو نے چوہنگ میں وہاڑی کی رہائشی ماں بیٹی سےمبینہ زیادتی کانوٹس لے لیا ہے، چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا ہے کہ ماں اور 15سالہ بیٹی سےمبینہ زیادتی افسوسناک ہے، چائلڈ پروٹیکشن ٹیم متاثرہ فیملی سے رابطہ کرے گی اور پولیس کی جانب سےتمام ملزمان کوجلدگرفتارکرلیاجائےگا۔

بھارت افغان سر زمین پاکستان کیخلاف استعمال سے باز رہے : گلبدین حکمت یار

کابل، اسلام آباد (صباح نیوز) افغانستان کے سابق وزیراعظم اورحزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار کا کہنا ہے کہ  افغانستان میں امن کے لیے بھارت مثبت کردار ادا کرے، بھارت کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بیانات جاری کرنےکے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے ۔

ریڈیوپاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے گلبدین حکمت یار نے امید ظاہر کی کہ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے افغان دھڑوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات آئندہ چند روز میں شروع ہوں گے۔

گلبدین حکمت یار کا کہنا تھاکہ کوشش کریں گےکہ افغان دشمن قوتیں امن عمل کو متاثر نہ کریں، افغانستان درست سمت میں گامزن ہے، یہاں ایسی حکومت ہونی چاہیےجو عالمی برادری کوبھی قبول ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ امن دشمن افغانستان میں ایک مستحکم اور مضبوط مرکزی حکومت نہیں چاہتے، بعض غیرملکی خفیہ ادارے افغان عوام کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں سربراہ حزب اسلامی نےکہا کہ بھارت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد کا بدلہ لینے کے لیے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے باز رہنا چاہیے اور بھارت کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بیانات جاری کرنے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہیے ۔

مریم نواز کے بیٹے کا لندن میں نکاح ، خاندان کے قریبی افراد شریک

لندن (ماینٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے بیٹے کے نکاح کے موقع پر دولہا جنید صفدر اور والد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تصاویر سامنے آگئیں۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے بیٹے جنید صفدر کے نکاح کی تصاویر ٹوئٹر پر شیئر کردیں۔

ٹوئٹر پر مریم نواز کی جانب سے لندن میں جنید صفدر اور عائشہ سیف کے نکاح کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں، تصاویر میں جنید کو نکاح کے فارم پر دستخط کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

تصاویر شیئرکرنےکے ساتھ مریم نے دعا دیتے ہوئے لکھا ہے کہ’ اللّہ ہمیشہ خوش اور آباد رکھے’۔

خیال رہے کہ جنید صفدر کے نکاح کی تقریب لندن کے مقامی ہوٹل میں ہوئی جہاں دلہا اور دلہن نے نکاح نامے پر دستخط کردیے اور رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔

نکاح کی تقریب میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت خاندان کے قریبی افراد نے شرکت کی۔

پاکستان سے مریم نواز بیٹے کی نکاح کی تقریب میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہوئیں۔

افغانستان کی نئی قیادت ملک کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے ، او آئی سی

جدہ : (مانیٹرنگ ڈیسک ) او آئی سی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی مستقبل کی قیادت جنگ زدہ ملک کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہ بننے دے۔

اسلام ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے طالبان کے قبضے کے بعد دہشت گردی سے پاک افغانستان اور تنازع کے حل کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے اپنے بیان میں او آئی سی نے کہا کہ ‘افغانستان کو دوبارہ کبھی دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے’۔

بیان میں ملک میں موجودہ تنازع کے حل کے لیے جامع مذاکرات کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

تنظیم نے کہا کہ وہ ‘امن، استحکام اور قومی مفاہمت’ کی اہمیت پر زور دینے کے لیے نمائندے افغانستان بھیجے گی۔

جی سیون سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اس بات پر غور کریں گے افغانستان میں صورتحال کو کیسے قابو میں لایا جائے۔

اپنے بیان میں اسلامی تعاون تنظیم نے افغانستان کی مستقبل کی قیادت اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان دوبارہ کبھی دہشت گردوں کے پلیٹ فارم یا پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہ ہو اور نہ وہاں دہشت گرد تنظیموں کو قدم جمانے کی اجازت دی جائے’۔

تنظیم نے افغانستان میں انسانی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا جہاں بے گھر افراد اور مہاجرین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

او آئی سی نے رکن ممالک، اسلامی مالیاتی اداروں اور پارٹنرز سے مطالبہ کیا کہ وہ ان علاقوں میں امداد فراہم کریں جہاں امداد کی ہنگامی ضرورت ہے۔

کہاں آ گئے ہم چمن سے نکل کر

عبدالباسط خان
پاکستان کو آزاد ہوئے 74 سال بیت گئے اور ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے زندگی کی 67 بہاریں دیکھ لیں۔ کئی نشیب و فراز دیکھے۔ پاکستان کو دو لخت ہوتے دیکھا۔ مارشل لاء کے سیاہ تاریک دن دیکھے اور اپنے پسندیدہ لیڈر بھٹو صاحب کو اسلامی دُنیا کا لیڈر بنتے دیکھا ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھتے ہوئے دشمنوں سے لڑائی مول لیتے دیکھا۔ اقوام متحدہ میں دُنیا کو بھارت کا سیاہ چہرہ ببانگِ دہل دکھاتے ہوئے دیکھا۔ امریکہ کو للکارتے ہوئے دیکھا۔ بالآخر اُس عظیم لیڈر کو تختہ دار پر چڑھتے دیکھا۔ اسلام کا جھوٹا ڈھونگ رچاتے ضیاء الحق کو دیکھا پاکستان میں کلاشنکوف، ہیروئن اور کراچی جیسے روشنیوں کے شہر کو لسانی جھگڑوں کی آماہ جگاہ بنتے دیکھا۔ سلطان راہی کا گنڈاسا اور کلاشنکوف کلچر فلموں میں دیکھا۔ انتہا پسندی دیکھی۔ روسی فوجوں کی یلغار افغانستان پر ہوتے دیکھی اور امریکہ کی جھوٹی دورنگی پالیسی اور پاکستان کو گرداب میں چھوڑ کر افغانستان سے راہ فرار دیکھی اور پھر بھٹو کی بیٹی کو لاہور میں داخل ہوتے دیکھا کیا منظر تھا اور کیا ہجوم تھا بے نظیر کی حکومت، زرداری سے شادی اور مرتضیٰ بھٹو کا قتل دیکھا۔ نواز شریف جانشین ضیاء الحق کے روپ میں دیکھا اور پھر دو سیاسی پارٹیوں کی ایک دوسرے کے خلاف غلیظ مہم دیکھی۔ خاتون لیڈر کے خلاف گندی الیکشن مہم اور جاگ پنجابی جاگ دیکھا۔ اُس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو حکومتی معاملات درپردہ چلاتے دیکھا۔ سیاسی لیڈروں کی کرپشن سے محل بنتے، بکتے دیکھا۔ جنرل مشرف کے دور میں طیارے کا اغواء دیکھا اور پھر میاں صاحب کی خود ساختہ جلاوطنی دیکھی پاکستان کی ایک بار پھر امریکہ کا حلیف بن کر ملک میں خون ریز دہشت گردی کا لمبا سفر دیکھا اور پھر جنرل صاحب کی رخصتی کا منظر دیکھا۔ بینظیر اور نوازشریف کی واپسی اور پھر محترمہ کا قتل اور پیپلز پارٹی کی تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت دیکھی۔ نواز لیگ کی پیپلز پارٹی کی قیادت کو گلیوں میں گھسیٹنے کی طوطا کہانی سنی اور پھر پاکستان کی تاریخ کا پہلا سیاسی لیڈر نواز شریف کو تیسری بار مسندِ اقتدار پر جلوہ افروز دیکھا۔ پھر پانامہ دیکھا اور دونوں پارٹیوں کے لیڈرز راجہ پرویز اشرف اور خاقان عباسی کو وزارت عظمیٰ پر فائز ہوتے دیکھا۔ عمران خان کا تاریخی دھرنا اور اُن کی دونوں پارٹیوں کے خلاف جدوجہد کا اختتام دیکھا اور اب جناب عمران خان صاحب کو قوم کو یہ تلقین کرتے ہوئے دیکھا کہ گھبرانا نہیں۔ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی مہنگائی اور نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی جیل یاترا دیکھی اور میاں نواز شریف کی لندن روانگی کا واقعہ پاکستان کی تاریخ کا اہم قانونی سقم دیکھا۔ پلیٹ لیٹس کی کمی اور میاں صاحب کی ایک بار پھر لندن جلاوطنی اور موجودہ حکومت اور پاکستان کی موجودہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جارحانہ تقریریں اور ووٹ کو عزت دو کے نعرے سنے۔ موروثی سیاست کے وارث بلاول اور مریم کو مزاحمتی سیاست کرتے دیکھا۔ پیپلز پارٹی کے لیڈران کو پابند سلاسل دیکھا اور تمام لیڈروں کو پھر آزاد دیکھا۔ یہ ہے پاکستان کے 74 سال کا خلاصہ تو جناب من کیا کھویا کیا پایا وہ پاکستان جو قائد اعظم نے بنایا جس کا ویژن تخیل اور خواب پاکستان کے عوام نے 1947ء میں دیکھا۔ کیا وہ پاکستان آج ہے؟ بالکل نہیں۔
74 سالوں میں پاکستان کا کلچر شناخت، تمدن تہذیب اور اسلام ایک عجیب و غریب شکل اختیار کر چکا ہے۔ نوجوان کیا اور عمر رسیدہ بوڑھے کیا، جنسی بے راہ روی اور بچوں اور بچیوں کے ریپ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انصاف کوسوں دور نظر آتا ہے لوگ جوانی میں کیس کرتے ہیں اور عدالتیں اُن کی موت کے بعد فیصلے کرتی ہیں ہر آنے والا دن خوفناک صورتحال پیش کررہا ہے ہم دنیا کے مقروض ہیں مگر ہمارے سیاسی لیڈر علیشان محلوں کے مقیم نظر آتے ہیں ہمارے سیاسی لیڈروں کے کھاؤ اور کھانے دو پر عمل کیا سیاسی رشوتیں ووٹ حاصل کرنے کے لئے دیں۔
طویل المدتی پلان بنانے کی بچائے ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی پالیسیاں بنائیں نہ پانی کے بحران کی فکر نہ غذائی بحران کا خیال نہ معاشرے کی بگڑتی صورتحال پر نظر نہ لوگوں کو دو وقت کی روٹی، نہ روزگار مہیا کیا۔ نہ سونے کیلئے چھت فراہم کی اور خود بادشاہوں کی طرح زندگی گزاری اگر یہ ہی حالات رہے تو پھر طالبان پاکستان میں بھی قدم جما لیں گے کیونکہ وہ انصاف کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ خدارا انصاف کی فراہمی اور جلد فراہمی کیلئے عدالتی اصلاحات کی جائیں لوگوں کو انصاف 1947ء سے لے کر آج تک نہیں ملتا اور تگڑے اور طاقتور طبقے کو راتوں رات ضمانتیں دے دی جاتی ہیں۔ 24 گھنٹے سے پہلے ان کے کیس سن لئے جاتے ہیں۔ مگر غریب خاندان کے زیور، گھر اور عزتیں لٹ جاتی ہیں۔
خدارا پاکستان میں وی آئی پی کلچر کو ختم کریں۔ قرار داد معیشت پارلیمنٹ میں لے کر آئیں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے کی بجائے آگے کی سوچیں جو لوٹ مار کر لی بس اُس پر اکتفا کریں اور پاکستان کو مستحکم بنائیں آج پاکستان کو ہندوستان اور طالبان سے اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اپنے ملک کی سیاسی قیادت اور لیڈر شپ سے ہے یہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی جدوجہد میں مصروف نظر آتے ہیں اور پاکستان کی بدنامی اور بے عزتی کا باعث بن رہے ہیں جس قوم کے نوجوان اور بوڑھے لوگ عورتوں کو قبروں سے نکال کر ریپ کریں۔ جانوروں کے ساتھ جنسی پیاس بجھائی تو جوان لڑکیوں کے سر تن سے جدا کریں اس کا کیا مقام ہوگا۔ آج کا میڈیا اپنی سرعت اور تیزی سے خبروں کو پوری دنیا میں نشر کر دیتا ہے اور پاکستان جو ایک اسلامی ملک ہے پوری دنیا میں جگ ہنسائی کا باعث بن جاتا ہے۔
پاکستان میں دن بدن خواتین کی تذلیل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ واقعہ جس میں ایک خاتون ٹک ٹاکر کو سینکڑوں لوگوں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس کے جسم کے ہر حصے کو اس طرح نوچا جس طرح گدھیں مردہ جانور کے گوشت کو نوچتی اور کھسوٹتی ہیں۔ 21ویں صدی میں جب ہم اپنے آ پکو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں لین ایسی ایسی ایجادات جس میں موبائل فون پر سٹوریاں بنا کر عوام کو تفریح فراہم کی جاتی ہے نہ تو اخلاقی اقدار کو مد نظر رکھا جاتا ہے اور نہ اپنی ثقافت کلچر کی حرمت کا خیال کیا جاتا ہے۔ ہمارے بڑے بڑے سیاستدان لیڈروں کے بیانات اس واقعہ کی مذمت میں اخبارات اور ٹی وی پر نشر ہو رہے ہیں لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ جو آج ہم فصل کاٹ رہے ہیں یہ انہی سیاستدانوں اور ڈکٹیٹروں کی مرہون منت ہے۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

افغانستان کی موجودہ صورتحال اور امکانات

جاوید ملک
افغانستان میں امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کی ذلت آمیز شکست کے بعد صورتحال یہ ہے اب تک چار لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو کر کابل میں پناہ گزین ہوئے تھے انکی تعداد میں مزید اضافہ ہورہا ہے بھوک، بیماری اور غربت میں زندگی گزارنے والے افغانستان کے لاکھوں افراد سامراجی طاقتوں کے خونی پنجوں میں گزشتہ چار دہائیوں سے جکڑے ہوئے ہیں اور اب پھر ایک نئی خانہ جنگی کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس کے گہرے اثرات پاکستان کے محنت کش طبقے پر بھی مرتب ہوں گے۔
بائیں بازو کے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دودہائیوں کی امریکی سامراج کی مسلط کردہ جنگ کی ناکامی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر اس خونریزی اور بربادی سے نجات ممکن نہیں۔ دو ہزار ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کرنے اور لاکھوں کی تعداد میں فوج تعینات کرنے کے باوجود امریکی سامراج اور اس کے تمام تر اتحادی افغانستان کو ایک جدید ریاست بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ سامراجی طاقتوں کی مسلط کردہ کابل حکومت امریکی فوجوں کے مکمل انخلا سے پہلے ہی گرنا شروع ہو گئی تھی۔ تین لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل فوج امریکہ کے فراہم کردہ اسلحے سے لیس ہونے کے باوجود تاش کے پتوں کی طرح بکھر چکی ہے۔ افغانستان پر سامراجی طاقتوں کی جانب سے مسلط کردہ اس حکومت کو کبھی بھی عوامی حمایت نہیں مل سکی تھی اور یہ اپنے آقاؤں کی بیساکھیوں پر ہی قائم تھی۔ جیسے ہی وہ بیساکھیاں سرکنے لگی تو یہ دھڑام سے زمین بوس ہوگئی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں فراڈ الیکشنوں اور دیگر طریقوں سے اس حکومت کو مسلط کر کے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ افغانستان میں جمہوریت قائم ہو گئی ہے۔ لیکن خطے کے لوگ بخوبی جانتے تھے کہ اس عمل میں سامراجی طاقتیں اپنی کٹھ پتلیوں کو فوجی طاقت کے بل بوتے پر مسلط کر رہی ہے جبکہ عوام میں ان کے خلاف شدید نفرت اور غم و غصہ موجود ہے۔ ان کٹھ پتلیوں کی کرپشن، بے دریغ لوٹ ماراور عوام دشمن کارروائیوں کے باعث اس نفرت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور آج اس کا نتیجہ واضح ہے کہ شمال میں موجود اپنے محفوظ ترین علاقوں میں بھی یہ اپنے سے کئی گنا کم قوتوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہیں۔ شیرغان، کندوز اور دیگر ایسے شمالی علاقے جو اس کابل حکومت کے سب سے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے وہاں بھی یہ ابتدائی مراحل میں ہی بدترین شکست سے دوچار ہو گئے۔
المیہ یہ ہے کہ اس سامراجی کٹھ پتلی کے خلاف خانہ جنگی برپا کرنے والی قوتیں بھی مختلف سامراجی طاقتوں کی ہی کٹھ پتلی ہے اور اس قوت سے بھی عوام کی شدید نفرت اور حقارت موجود ہے۔
یہ سطور تحریر کی جاچکی تھی کہ افغانستان سے حیران کن خبر سامنے آئی کہ جلال آباد سمیت دس دیگر شہروں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے افغانستان کے پرچم بلند کرتے ہوئے طالبان کے خلاف مظاہرے کیے اور ان مظاہروں پر طالبان کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں تین افراد ہلاک اور بارہ شدید زخمی ہوگئے اسی طرح کا ایک حیران کن احتجاج خواتین کی طرف سے بھی کیا گیا جس میں انسانی بنیادی حقوق اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ خواتین نے اپنے مطالبات پیش کیے تاہم موجودہ افغان فورسز نے خواتین کے مظاہرے پر فائرنگ نہیں کی ایک ممتاز تجزیہ نگار کے مطابق یہ مظاہرے ثابت کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں افغانستان کے اندر مخلوط یا کسی بھی نوعیت کی جو بھی حکومت بنائی جائے گی اسے بھرپورعوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اگر طالبان نے پچھلے بیس سال میں کچھ سبق حاصل کیا ہے تو افغانستان میں بسنے والے چار کروڑ عوام نے بھی بہت سے تلخ اسباق پڑھے ہیں جس کا غیر متوقع اظہار جلال آباد سمیت دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں کو دیکھ کر بآسانی کیاجاسکتا ہے۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی ایشوز پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭