All posts by Daily Khabrain

بلندی کے سائے میں پستی کا کھیل

ندیم اُپل
14اگست یوم آزادی،تجدید عہد کا دن مگرکوئی ابھی تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ اس روز مینار پاکستان کے سائے میں چار سو افراد کے ہجوم نے کس عہد کی تجدید کی۔چار سو افراد کی آٹھ سو آنکھوں میں کیا ایسی کوئی ایک آنکھ بھی نہ تھی جس میں تھوڑا بہت ہی شرم کا پانی نظر آیا ہو۔کیا سب کے ہی دیدوں کا پانی مر گیا تھا۔سب ہی کے ضمیر سو گئے تھے اگر جاگ رہی تھی تو صرف وحشت و بربریت اور اگر ناچ رہی تھی تو صرف شیطانیت۔چار سو افراد کے ہجوم میں پھنسی ایک لڑکی کو دیکھ کر ایک بار پھر یہی کہنے کو جی چاہا رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی۔رضیہ جو بھی تھی جیسی بھی تھی اور جس کام کی غرض سے وہ14اگست کو مینار پاکستان آئی تھی اس کو اگر زیر بحث نہ بھی لایا جائے لیکن اس سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتاکہ وہ جیسی بھی تھی اس کا ٹک ٹاکر کی حیثیت سے جیسا بھی اچھا برا کام تھا اسے اگر ایک طرف رکھ دیا جائے پھر بھی اس سے توکوئی بھی انکاری نہیں کہ وہ حوا کی بیٹی اور پاکستانی تھی۔ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ اپنے ٹک ٹاک پروگرام کے لیے ذہن میں کیا تھیم لیکر آئی تھی اور جشن آزادی کے دن کو اس نے کیسے پینٹ کرنا تھا مگر مینار پاکستان کے سائے میں میں کھڑے چار سوافراد نے اپنے اندر کی شیطانیت اور اور غلاظتوں کو خود ہی سامنے لاکر اس ٹک ٹاکر لڑکی کی مشکل آسان کر دی بلکہ میں تو اس بہادر لڑکی کو شاباش دوں گاکہ جس نے جشن آزادی کے موقع پر اپنی جان اور عزت کوداؤ پر لگا کر آزادی کے موقع پر ایک ایسا لائیو پروگرام پیش کردیا جس پر پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا۔عدل و انصاف اور سیکیورٹی اداروں کے لیے بھی ایک ایسا نشان چھوڑدیا جس کا جواب شاید وہ بھی اتنی آسانی سے نہ دے پائیں گے۔اس سے تو یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ اگر چار سو افراد کے ہجوم میں ایک ہاتھ بھی اسے بچانے کیلئے آگے نہیں بڑھا تو پھر ایسے ہاتھوں سے خود ہی چار سو افراد کو شرم کے مارے اپنے چہرے چھپا لینے چاہئیں۔
اگرچہ تازہ ترین ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ قصور وار لڑکی تھی جس نے خود اپنے فالورز سے ایک روز پہلے کہا تھا کہ وہ گریٹراقبال پارک آئیں اور ان کی موجودگی میں ہی جشن آزادی پر ٹک ٹاک بنائی جائے گی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹک ٹاکر لڑکی نے سب کچھ اپنے فالورز بڑھانے کیلئے کیا اور وہ اپنی اس حکمت عملی میں کامیاب رہی۔عینی شاہدین یہ بھی بتا رہے ہیں کہ لڑکی اکیلی آئی تھی اور پارک کے چوکیدار نے اسے اندر جانے سے روک دیا تھا اور کہا گیا تھا یہاں لوگ صرف فیملی کے ساتھ ہی اندر جا سکتے ہیں جس پر لڑکی پارک میں جانیوالی ایک فیملی کے ساتھ پارک میں داخل ہو گئی۔اگر یہ بات مان بھی لی جائے تو سوال یہ ہے کہ جہاں سیکیورٹی گارڈ ایک اکیلی لڑکی کو پارک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہا تھا وہاں چار سو افراد اکٹھے پارک میں کس کی اجازت سے داخل ہوئے اور وہ بھی 14اگست کے دن جہاں گریٹر اقبال پارک میں پولیس کو ہائی الرٹ ہونا چاہیے تھا۔پولیس کی یہی وہ کمزوریاں اور خامیاں تھیں جس پر وزیر اعلیٰ کی طرف سے کچھ ذمہ دار افسران کو فارغ کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔ہم ایک بار پھر اس بات کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا موضوع لڑکی نہیں ہے بلکہ وہ چار سو نوجوان ہیں جنہوں نے وطن عزیز کی آزادی کے مبارک دن مینار پاکستان کی بلندی کے سائے میں پستی کا بھیانک کھیل کھیلا۔اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ لڑکی غلط تھی تو اسی دن اسی پارک میں چند ایک گھریلو خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور دست درازی کی جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس کے جواب پولیس یا کسی اور ذمہ دار کے پاس کیا جواز ہے؟
آج ایک بار پھر شدت سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کیا واقعی ہم ایک زندہ قوم ہیں یا محض ایک گروہ اور ایک ہجوم ہیں۔آج سیاستدان،فنکار اور انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف یہی سوال کر رہی ہیں کہ من حیث القوم ہم کدھر جا رہے ہیں۔اس تازہ ترین واقعہ پر بھی حسب روایت نوٹس لے لیے گئے ہیں۔رپورٹیں طلب کر لی گئی ہیں۔چار سو درندوں کے ہجوم میں سے دس بارہ مشکوک افراد کو حراست میں بھی لے لیا گیا ہے جن کے چہروں کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ انصاف ہوتا نظر آئے گامگر ایسا کبھی ہوا نہیں۔سیالکوٹ میں کچھ عرصہ قبل دو سگے بھائیوں کو ایسے ہی ایک ہجوم میں ڈنڈے اور لاٹھیاں مار مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا تب بھی یہی کہا گیا تھا کہ جس جگہ ظلم ہوا ہے اسی جگہ انصاف ہوتا نظر آئے گامگر ہوا یہ کہ ایک ملزم کو ایک سیاسی جماعت اور دوسرے ملزم کو دوسری سیاسی جماعت کے رکن اسمبلی نے بچالیا تھا۔اب بھی جس طرح اعلی پولیس افسران کی سرپرستی میں کمیٹیاں بنائی گئی ہیں لگتا ہے یہ کمیٹیاں بھی اس وقت تک کام کرتی رہیں گی جب تک خدانخواستہ ایسا ہی کوئی دوسرا واقعہ رونما نہیں ہو جاتا مگر ہمیں پھر یہ کہنا پڑرہا ہے کہ چودہ اگست کو آزادی کے دن مینار پاکستان کی بلندی کے سائے میں چار سو افراد نے پستی کا جو بھیانک کھیل کھیلا وہ شرمناک ہے اور اس سے بھی شرمناک بات یہ ہوگی اگر انہیں بھی شک کافائدہ دے کر بری کر دیا گیا۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

پاک افغان کمیشن کا قیام ازحد ضروری

کنور محمد دلشاد
افغانستان میں حْریت پسندوں کے کابل پر قبضہ کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ ٹل گیا ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گذشتہ روز پہلی پریس کانفرنس کی تو کئی خدشات ختم ہو گئے۔یہ پریس کانفرنس ایک گھنٹہ تک جاری رہی اور وہاں پر موجود صحافیوں نے سوالات بھی کیے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا کہ افغانستان میں جاری جنگ ختم ہوچکی ہے۔مگر افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کا ایک ویڈیو پیغام بھی منظر عام پر آیا جس میں اْس کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔لیکن اس وقت تازہ ترین صورتِ حال یہ ہے کہ طالبان ملک کے تمام اہم سرحدی راستوں اور مقامات کا کنٹرول اپنے قبضہ میں کرچکے ہیں،محض چند علاقے ایسے ہیں،جہاں طالبان کی جانب سے قبضے کا دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے۔کابل کے صدارتی محل میں قبضہ کرکے حریت پسندوں نے پورے افغانستان اور سینٹرل ایشیا کے ممالک پر اپنی دھاک جمادی ہے اور پینٹاگون کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے کہ امریکی صدر،پینٹاگان،سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور سی آئی اے ایک پالیسی پر گامزن نہیں تھے اور متضاد خیالات کے حامی حلقے ایک دوسرے کو نیچا دکھارہے تھے۔امریکا اپنی پسپائی اور افغانستان سے نکلنے کا یہ جوازدے رہا ہے کہ وہ جس مقصدکے لیے افغانستان میں آیا تھا،وہ مقصد حاصل کرلیا ہے،یعنی القاعدہ کو مکمل طورپر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس زمینی حقائق یہ ہیں کہ بیس سال میں حامدکرزئی،اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سبھی قومی حکومت قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور امریکا تین کھرب ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی طاقت ور فوج بنانے میں ناکام رہا ہے۔امریکا نے معدنی وسائل پر قابض ہونے کے لیے عراق، افغانستان، شام اور لیبیا جیسے کئی ممالک تباہ کردئیے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے طالبان نے امریکی اتحاد کے مقابلے میں بہتر حکمت عملی اختیار کی اور امریکی فوج کے انخلا تک اپنی حکمتِ عملی تک برقرار رکھی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی اربوں ڈالر سمیت ملک سے فرار ہوگئے۔اگرچہ پریس کانفرنس میں افغان طالبان کے ترجمان نے عام معافی کا اعلان کیا،مگر کابل میں مستحکم حکومت قائم کرنے کے بعد اشرف غنی اوراْس کے حامی گروپ کو سزائے موت دیئے جانے کا امکان ہے اور ان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔ طالبان نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کی فوج سے مفاہمت کرلی جس کے نتیجہ میں پْرامن طریقے سے افغانستان کی سرکاری فوج نے ہتھیار پھینک دیے جس کی وجہ سے کابل اور ملک کے دیگر حصوں میں خانہ جنگی نہیں ہوئی۔
اب چونکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں طالبان پر پاکستان کا اثر رسوخ کم ہوگیا ہے اور حکومتی اداروں میں ایسے ماہرین شامل ہیں جن کے مفادات امریکا سے وابستہ ہیں،حساس نوعیت کی اہم پوسٹیں ایسے غیر منتخب افراد کو دی گئی ہیں،جو بالواسطہ یا بلاواسطہ امریکی دْہری شہریت کے حامل ہیں،جن کی وجہ سے جب طالبان براہِ راست امریکیوں سے معاہدہ کررہے تھے تو طالبان نے پاکستان سے بظاہر سست روی اور لاتعلقی کا مظاہرہ کیا، لہٰذا وزیرِ اعظم عمران خان اور حساس اداروں کے سربراہان کو زمینی حقائق کے مطابق وزارتِ خارجہ میں اہم تبدیلیاں لانا ہوں گی اور ایسے معاونین فارغ کرنا ہوں گے جن کے بارے میں افغانستان کی نئی حکومت کو تحفظات ہوں کیونکہ ابھی دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کا طالبان پر اثررسوخ زیادہ ہے۔پاکستان،چین،روس اور ایران مل کر افغانستان کی نئی حکومت کے سامنے کوئی وسیع تر مفاد میں قابل عمل فارمولہ رکھیں تو یقینا طالبان کے لیے انکارکرنا ممکن نہیں ہوگا۔اس مقصد کے لیے میری تجویز ہے کہ اعلیٰ سطح کا پاکستان افغان کمیشن مقررکرتے ہوئے ہمایوں اختر کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں،جو جنرل عبدالرحمن اختر کی ماضی کی پالیسیوں کی بدولت طالبان سے مذاکرات کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں اور سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اعجاز الحق کے اثر رسوخ سے بھی فائدہ اْٹھایا جاسکتا ہے،اگر پاکستان افغان کمیشن بنانے میں تکنیکی رکاوٹ پائی جائے تو ہمایوں اختر خان کو وزیرِ اعظم کا مشیر برائے افغانستان امور مقررکیا جاسکتا ہے،جو وزارتِ خارجہ کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم پاکستان کے بھی مشیر معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ہمایوں اخترتجربہ کار سیاست دان ہیں وہ بہتر طورپر پالیسی چلاسکتے ہیں۔
وزراتِ خارجہ اور حساس اداروں کو میڈیا ہاؤسز کے اْن اینکر پرسنز کے پروگراموں پر بھی دھیان رکھنا ہوگا جو عالمی طاقتوں کے مہرے بن کر ملک میں طالبان کے خلاف کنفیوژن پھیلائے ہوئے ہیں، کیری لوگر بل کے تحت میڈیا ہاؤسز کو اربوں روپے کی گرانٹ دی گئی تھیں، پاکستان میں اب میڈیا کے ذریعے افراتفری پھیلانے کامذموم کھیل کھیلا جاسکتا ہے۔ٍٍپاکستان کے میڈیا چینلزپر فرسودہ قسم کے تجزئیے پیش کیے جارہے ہیں جس سے پاکستان کے عوام میں اچھے تاثرات نہیں جارہے ہیں،جس سے ملک کی وحدت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے،امن و امان اور خطہ میں پْراَمن ماحول آنے کے بعد اٹھارویں ترمیم پر نظر ثانی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے حوالہ سے بین الاقوامی سطح پر سرگرمیاں تیز تر ہوتی جارہی ہیں اور اقوامِ متحدہ نے افغانستان کی صورتِ حال پر گہری نظریں لگائی ہوئی ہیں، چین، روس، سعودی عرب،ترکی کے سفارت کار افغانستان کے حوالہ سے اپنی اپنی سفارشات اپنے ممالک میں بھیج رہے ہیں۔افغانستان میں اندرونی کیفیت بھی غیر یقینی ہے۔لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کتنی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔پاکستان کو ان حالات میں بھی بھارت کی سازشی تھیوریوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہوگی۔
وزیرِ اعظم عمران خان اپنی اندرونی سیاسی سرگرمیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوری طورپر ترکی،چین کا دورہ کریں اور عالمی برادری کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں۔عالمی برادری افغانستان کے زمین حقائق مدِ نظر رکھتے ہوئے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے،عبوری حکومت کو تسلیم کرکے افغانستان میں نئے سرے سے انتخابات کرانے کی راہ ہموار کرے تاکہ افغان امن کو یقینی بنایا جاسکے۔افغانستان خطے کا ایک اہم ملک ہے اس کا امن خاص طورپر پاکستان کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔وزیرِ اعظم عمران خان کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لے کر قومی پالیسی مرتب کرنا چاہیے اور جن جن رہنماؤں پر احتساب بیورو میں مقدمے چل رہے ہیں ان کو چلنے دیں اور اپوزیشن کو افغانستان کی پالیسی بنانے میں ان کو اعتماد میں لیا جائے،کیونکہ طالبان کی حکومت پاکستان کے مفاد میں ہے۔ صدرجوبائیڈن اسی وقت دوراہے پر کھڑے ہیں، امریکی عوام اْن کے خلاف اْٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور میڈیا اْن پر شدید تنقید کررہا ہے۔ان حالات میں وزیرِ اعظم عمران خان اْمت مسلمہ کے رہنما بن کر سامنے آئیں اور متوازن پالیسی اختیار کریں۔ آئندہ انتخابات کے لیے اب اکتوبر 2023کا انتظار کرنا ہی اپوزیشن کے لیے سود مند ثابت ہوگا۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭……٭……٭

افغانستان میں انقلابی تبدیلیاں اور امن کی راہ؟

ملک منظور احمد
افغانستان کی صورتحال میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ڈرمائی تبدیلی آئی ہے اور ایسی تبدیلی جس کا اندازہ امریکہ سمیت کوئی بھی نہیں لگا سکا،طالبان نے 11روز میں افغانستان کے 27صوبائی دارالحکومتوں سمیت وفاقی دارالحکومت کابل پر بھی قبضہ کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے،افغان حکومت اور افغان مسلح افواج ایک سراب کی مانند منظر سے غائب ہو گئیں۔سابق افغان صدر تو اپنے نجی طیارے پر سوار ہو کربیرون ملک روانہ ہو گئے تو دوسری جانب افغان فوج کدھر غائب ہو گئی اس کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔خود امریکی صدر اور امریکی فوجی جرنیل اس بات کا اعتراف کرتے نظر آرہے ہیں کہ طالبان نے ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ جلدی کابل فتح کر لیا۔سقوط کابل کے بعد کابل ائر پورٹ پر جو صورتحال پیدا ہو ئی وہ مغربی دنیا اور خاص طور پر امریکہ کے لیے نہایت ہی شرمناک تھی،کابل ایئر پورٹ پر امریکی طیاروں سے گرتے ہوئے افغان شہریوں کے مناظر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا،اور ان مناظر کے باعث موجودہ امریکی حکومت بھی شدید تنقید کی زد میں آچکی ہے،امریکہ کے اندر سے صدر جو با ئیڈن پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے اور کچھ سیاست دانوں نے تو امریکی صدر کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔بہر حال جو با ئیڈن استعفیٰ دیں یا نہ دیں ان کی مقبولیت کو اس تمام صورتحال میں شدید دھچکا ضرور پہنچا ہے اور نہ صرف ان کو بلکہ امریکہ کی عالمی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
برطانوی وزراء اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل سمیت کئی مغربی رہنماؤں نے امریکہ پر اس حوالے سے شدید تنقید کی ہے اور مغربی ماہرین یہ کہتے ہو ئے بھی نظر آرہے ہیں کہ اس تمام صورتحال سے عالمی سطح پر چین اور روس فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔خاص طور پر چین کے لیے تو یہ نادر موقع ہے کہ وہ افغانستان میں امریکہ کے چھوڑے جانے والا خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ بات مغرب کو پریشان کیے ہوئے ہے لیکن اب اس حوالے سے عملی طور پر کچھ زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔امریکہ صدر جو با ئیڈن افغان صدر اشرف غنی کے ملک سے فرار اور افغان فوج جس کی تربیت امریکہ نے ہی کی تھی بغیر لڑائی کے ہی ہتھیار ڈالنے کو کوستے ہو ئے نظر آرہے ہیں۔سابق افغان صدر اشرف غنی کو کئی روز لا پتہ رہنے کے بعد دبئی سے ایک ویڈیو پیغا م سامنے آیا ہے جس میں وہ افغانستان سے اپنے فرار کی وضا حتیں پیش کرتے نظر آتے آرہے ہیں جبکہ افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح خود کو افغانستان کا نیا صدر سمجھ بیٹھے ہیں اور سیاسی رہنماؤں سے ساتھ دینے کی اپیلیں کسی نا معلوم مقام سے کر رہے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ طالبان کی کابل میں حکومت ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے اور امریکی اور یورپ سمیت جلد یا بدیر دنیا کو اسے کسی نہ کسی حد تک تسلیم کرنا پڑے گا۔
افغانستان میں اگلا مرحلہ ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جو کہ نہ صرف افغانستان میں تمام لسانی دھڑوں کی نمائندگی کرتی ہو بلکہ افغانستان میں امن اور استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ کسی حد تک بین الا اقوامی برادری کو بھی قابل قبول ہو،افغان طالبان نے بر سر اقتدار آنے کے بعد جتنے بھی بیانات دیے ہیں اور کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس میں بھی خطاب کرتے ہوئے جو باتیں طالبان رہنماؤں کی جانب سے کی گئی ہیں وہ حوصلہ افزا ہیں،طالبان نہ صرف اپنے مخالفین کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے بلکہ خواتین کو تمام شرعی حقوق دینے کا علان بھی کیا ہے،طالبان کے مطابق خواتین،اسلامی حدود میں رہتے ہوئے تعلیم بھی حاصل کر سکتی ہیں اور کام بھی جاری رکھ سکتی ہیں،افغان میڈیا پر اب بھی خواتین نظر آرہی ہیں،بلکہ ایک خاتون اینکر نے طالبان لیڈر سے ٹی وی پر انٹرو یو بھی لیا ہے،طالبان کی جانب سے ان اقدامات کو چین،روس،ترکی،ایران اور پاکستان کی جانب سے سراہا گیا ہے جبکہ امریکہ اور یو رپ ابھی طالبان کے کسی اقدام کی ستائش کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم طالبان حکومت کے حوالے سے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔لیکن میری نظر میں طالبان کا اصل امتحان اب شروع ہو ا ہے ہم نے دیکھا ہے کہ گزشتہ دو دن کے اندر اندر افغانستان میں کبھی جھنڈے کو بنیاد پر تو کبھی کسی اور مسئلہ کو لے کر طالبان کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔
سابق افغان نائب صدر امر اللہ صالح سمیت کئی ایسے عناصر موجود ہیں جو کہ طالبان کے لیے آنے والے دنوں میں اچھی خاصی مشکلا ت کھڑی کر سکتے ہیں، اور یہ اطلا عات بھی سامنے آرہی ہیں کہ افغان صوبے پنج شیر میں احمد شاہ مسعود کے ساتھ مل کر امر اللہ صالح ایک فورس تشکیل دے رہے ہیں جو کہ طالبان کے خلاف جنگ کر سکے۔ اسی لیے یہ طالبان اور پاکستان کے لیے نہایت ہی ضروری ہے کہ ایسی افغان حکومت وجود میں آئے جو کہ تمام افغانوں کی نمائندہ حکومت کہلائی جاسکے اس سلسلے میں پاکستان کی کوششیں بھی جاری ہیں اور افغانستان کی اسمبلی کے سپیکر رحمان رحمانی کی قیادت میں شمالی اتحاد کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور اس حوالے سے بات چیت کی گئی اور خود طالبان قیادت بھی اس سلسلے میں اقدامات لیتے ہو ئے دکھائی دے رہی ہے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور سابق چیف ایگز یکٹو عبد اللہ عبد اللہ سے انس حقانی نے ملا قات کی ہے جس میں ایک وسیع البنیاد افغان حکومت کے قیام پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ہے۔جتنی جلد ایک ایسی حکومت بر سر اقتدار آئے جو کہ پورے افغانستان کو ساتھ لے کر چل سکے وہی افغانستان کو پا ئیدار امن اور ترقی کے راستے پر لے جا سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ امر خوش آئند ہے کہ ابھی تک امریکہ سمیت کسی بھی مغربی قوت نے پاکستان پر سقوط کابل کا الزام عائد نہیں کیا ہے،لیکن یہ صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے،پاکستان کو چاہیے کہ وہ دیگر علاقائی طاقتوں کو ساتھ لے کر ایسی افغان حکومت کے قیام میں طالبان کی مدد کریں جو کہ صحیح معنوں میں افغانستان میں امن اور استحکام لا سکے اسی میں خطے اور دنیا کی بھلائی ہے۔
(کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
٭……٭……٭

طالبان کا ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائیاں روکنے کا حکم، کمشین قائم

کا لعدم تحریک طالبان کے ارکان عام معافی کے بدلے ہتھیار دلالیں اور پاکستان چلے جائیں اور پاکستان سے تمام معلومات حل کریں ،افغان طالبان کمیشن کی ٹی ٹی پی کووارننگ

کابل ایئرپورٹ کے قریب بھگدڑ ،7افراد متعدد زخمی امریکہ نے اپنے باشندوں کو کابل ایئرپورٹ پر جانے سے روک دیا داعش کے حملے کا خطرہ متبادل راستوں پر غور کر رہے ہیں امریکی حکام افراتفری کے زمہ دار نہیں :طالبان

خانہ جنگی کا خطرہ ٹل گیا احمد مسعود کا طالبان سے لڑائی کا ارادہ موخر ،امریکہ کا افغانستان سے انخلا احمکانہ فیصلہ ہے،ٹوبليئر، یورپی باشندوں کے محفوظ انخلا کلیئے طالبان سے رابطہ کیا طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا: یورپی یونین

گورنمنٹ ایمپائرز ہاؤسنگ اتھارٹی میں بیلٹنگ کے نام پر فراڈ، من پسند افراد کو پلاٹ الاٹ

50 لاکھ گھروں کا منصوبہ وزیر اعظم کا شاندار ویژن،
ذاتی دلچسپی سے کام جاری، نقصان پہنچانے کا انکشاف،

ق لیگی وزیر طارق چیمہ روکاوٹ بننے لگے،کرپشن کا امکان

ایف 14 اور 15 سیکٹر کے 3 کیٹیگری پلاٹوں کی ہنگامی طور پر قرعہ اندازی کی گئی کیٹیگری ایک کی قرعہ اندازی وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ بٹن دبا کر کی

وزارت ہاؤسنگ نے ڈیلروں سے ملی بھگت کی حقداروں اندھيرے میں رکھ کر کروڑوں کے پلیٹ کوڑيوں کے بھاؤ خرید لیے بیواؤں کا حق تلفی پر عدالت جانے کا فیصلہ

نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

سول ایوی ایشن کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق نیو اسلام آباد ائیرپورٹ کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہےکہ نیواسلام آباد ائیرپورٹ کے ائیر ٹریفک کنٹرول ٹاور کے لیے غلط سائٹ کا انتخاب کیا گیا، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو 2 کروڑ 10 لاکھ روپےکا نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کا ائیرٹریفک کنٹرول ٹاور تعمیر کا مقصد پورا نہیں کرتا ،کنٹرول ٹاور سے مرکزی ٹرمینل کے شمال مغرب میں کھڑے طیارے نظر نہیں آتے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق نئے ٹھیکے کے ذریعے کنٹرول ٹاور کے لیے ایک اور عمارت تعمیر کی گئی، جس کے باعث 10 کروڑ 10 لاکھ روپے کے اضافی اخراجات ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ بد انتظامی اور کمزور اندرونی کنٹرول کے باعث نقصان ہوا، اگست اور ستمبر 2020 میں معاملے کی نشاندہی کی گئی،لیکن پراجیکٹ مینیجمنٹ نے جواب نہیں دیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کرکے نقصان کو پورا کیا جائے۔

نیب نے قومی سطح پر کرپشن ختم کرنے کیلئے موثر حکمت عملی اپنائی،چیئرمین نیب

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے قومی سطح پر کرپشن ختم کرنے کے لئے موثر حکمت عملی اپنائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئر مین نیب جاوید اقبال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ موثر حکمت عملی سے نیب کی موجودہ انتظامیہ نے 535ارب برآمد کئے ہیں جبکہ  گیلپ سروے کےمطابق 59فیصد پاکستانیوں نے نیب پر اعتماد کا اظہار کیاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  نیب مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 66فیصد سے زائد ہے، نیب کی توجہ اس وقت منی لانڈرنگ ، عوام سے دھوکہ دہی کے کیسز پر ہے ۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال  کا مزید کہنا تھا کہ فنڈز میں بے ضابطگیاں اور اختیار کے غلط استعمال کے کیسز بھی ترجیح ہیں جبکہ  میگا کرپشن کیسز کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے ہماری فورسز کے حوصلے پست نہیں کرسکتے،شیخ رشید

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے ہماری فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے گچک بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر آئی ای ڈی سے دہشت گرد حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی واقعے میں کیپٹن کاشف کی شہادت کی اطلاع پردکھ  اور افسوس ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی شہید کیپٹن کاشف کے درجات میں مزید بلندی عطا فرمائے اور زخمی اہلکاروں کوجلد صحتیابی عطا فرمائے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں ان کو شکست فاش دینگے۔

سرکاری جائیدادوں سے قبضہ چھڑانے کیلئے پراپرٹیز مینجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس جاری

صدر مملکت نے سرکاری جائیدادوں سے قبضہ چھڑانے کے لیے عدالتی عمل محدود کرتے ہوئےفیڈرل گورنمنٹ پراپرٹیز مینجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 جاری کر دیا۔

وفاقی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرمملکت نے 17 اگست کو مذکورہ آرڈیننس جاری کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: حکومت کا سرکاری اراضی واگزار کرانے کیلئے خصوصی ٹربیونلز قائم کرنے کا فیصلہ

نوٹیفکیشن میں آرڈیننس سےمتعلق تفصیلات جاری کرتےہوئے کہا گیا ہے کہ آرڈیننس کا نفاذ فوری ہو گا اور اس کا اطلاق تمام حکومتی جائیدادوں پر ہو گا۔

فیڈرل گورنمنٹ پراپرٹیز مینجمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے تحت فیڈرل گورنمنٹ پراپرٹیز مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی، جس کا کوئی بھی فیصلہ یا اقدام کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

آرڈیننس کے مطابق سرکاری اثاثوں سے قبضہ چھڑانے کے لیے ہونے والی کارروائی کو کوئی عدالت نہیں روک پائے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اتھارٹی کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہو گا، جن کو وفاقی حکومت تعینات کرے گی اور اتھارٹی کا مرکزی دفتر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر ملک بھر میں ہوں گے۔

اتھارٹی کے بورڈ کا سربراہ متعلقہ وزیر ہو گا، ارکان میں نجی شعبے اور سرکاری شعبے کے 4 چار ارکان بورڈ کا حصہ ہوں گے۔

صدارتی آرڈیننس کے تحت وفاقی حکومت کے کسی بھی اثاثے کو اتھارٹی کو منتقل کیا جا سکے گا اور اتھارٹی وفاقی حکومت کی جائیدادوں سے قبضہ ختم کرنے کے اختیار کی حامل ہو گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دو روز قبل کہا تھا کہ حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے وعدے کے مطابق کھربوں روپے مالیت کے سرکاری گھر اور ریاستی زمینیں خالی کرانے کے لیے خصوصی ٹربیونلز تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے صدارتی آرڈیننس جلد جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی آرڈیننس جاری کرنے کے لیے تیار ہیں جس کے تحت ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: تیسرے پارلیمانی سال میں اب تک 18 آرڈیننس نافذ

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اس آرڈیننس کے تحت نہ صرف غیر قانونی طو ر پر قبضہ کی گئیں سرکاری زمینیں اور جائیدادیں خالی کرائی جائیں گی بلکہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں پر بھاری جرمانے بھی کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹربیونلز ابتدائی طور پر وفاقی دارالحکومت میں قائم کیے جائیں گے اور بعد ازاں صوبائی سطح پر ان کا قیام عمل میں لایا جائے گا، خاص طور پر ان صوبوں میں جہاں پاکستان تحریک انصاف برسر اقتدار ہے جن میں پنجاب اور خیبر پختونخوا شامل ہے۔

خیال رہے کہ ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ 12 اگست کو ختم ہونے والے تیسرے پارلیمانی سال میں وفاقی حکومت نے 18 آرڈیننس نافذ کیے جن میں ملک کے انتخابی اور ٹیکس قوانین میں تبدیلی کے متنازع آرڈیننس بھی شامل ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے پر شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے گزشتہ برس قانون سازی کے لیے 31 آرڈیننس نافذ کیے تھے جبکہ اپنی 3 سالہ مدت کے دوران حکومت مجموعی طور پر 56 آرڈیننس اب تک نافذ کرچکی ہے۔

رواں پارلیمانی سال کے دوران نافذ کردہ سب سے متنازع آرڈیننس انتخابی قوانین 2017 میں ترمیم اور ٹیکس قانون (ترمیمی) آرڈیننس 2021 تھا۔

مزید پڑھیں: نام نہاد انتخابی اصلاحات آئین اور قانون سے متصادم ہیں، شاہد خاقان عباسی

حکومت نے فروری میں سینیٹ انتخابات میں ‘اوپن اور قابل شناخت بیلٹ کے استعمال کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا آرڈیننس نافذ کیا تھا اور بعدازاں حکومت نے سرکولیشن کے ذریعے وفاقی کابینہ سے اس کی منظوری بھی حاصل کرلی تھی۔

آرڈیننس کے فوری نفاذ کے اعلان کیا گیا تھا تاہم الیکشن ایکٹ کی دفعہ 122 میں ترمیم کے ساتھ اسے سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے مشروط کردیا گیا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے آرڈینس سے متعلق ریفرنس کو خارج کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ پارلیمان کو ارسال کردیا تھا۔

بعدازاں مئی میں حکومت نے جلد بازی میں ایک اور آرڈیننس نافذ کیا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئندہ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایمز) خریدنے اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا پابند کیا گیا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) سمیت ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات میں ای وی ایمز کے استعمال کے حکومتی منصوبےکو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ 2023 کے عام انتخابات میں دھاندلی کی کوشش ہے۔

سائنو ویک کی مزید 20 لاکھ ڈوز پاکستان پہنچ گئیں

چینی ویکسین سائنو ویک کی مزید 20 لاکھ ڈوز پاکستان پہنچ گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھی 20 لاکھ ڈوز سائنو ویک پاکستان پہنچی تھیں۔

واضح رہے کہ ویکسین وزارت صحت کے حوالے کردی گئی ہیں۔