All posts by Khabrain News

عدالت کے پانچوں ججوں نے ہمارے مؤقف کو تسلیم کیا: فواد چوہدری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ عدالت کے پانچوں ججوں نے ہمارے مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آج کا فیصلہ آئین کی فتح ہے اور یہ ایک متفقہ فیصلہ ہی ہے، ہمارے مؤقف کو پانچوں ججوں نے تسلیم کیا ہے، ہماری نظر میں یہ ججمنٹ پانچ صفر سے ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے الیکشن کا اعلان صدر کریں گے اور کے پی میں گورنر الیکشن کا اعلان کریں گے، عدالت نے وفاق کو سکیورٹی اور تمام وسائل فراہم کرنے کا پابند کیا ہے، عدالت نے کہا کہ سب کچھ 90 دن میں ہونا ہے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ پاکستان کی تمام ایگزیکٹو اتھارٹی پر لازم ہےکہ ججز کا اکثریتی فیصلہ مانیں، سب عدالت کے فیصلے کے پابند ہیں، اس میں اب کوئی ابہام نہیں۔
شیخ رشید کا کہنا تھا کہ قوم الیکشن کی تیاری کرے، یہ بہت بڑی فتح ہے، آج آئین اور قانون جیتا ہے، قوم کو عدالت نے میسج دیا ہے، 90 دن میں الیکشن کمشنر پنجاب کے الیکشن کی تاریخ صدر کے ساتھ طے کرے اور کے پی کا گورنر 90 دن میں تاریخ دے، یہ عمران خان کی فتح ہے، پنجاب اور کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت بننے جارہی ہے۔

پنجاب، کے پی الیکشن ازخود نوٹس: سپریم کورٹ کا 90 روز میں انتخابات کرانےکا حکم

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پنجاب، خیبرپختونخوا (کے پی) الیکشن ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے دونوں صوبوں میں انتخابات 90 دنوں میں کرانے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نےگزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں پنجاب اور کے پی میں انتخابات 90 دنوں میں کرانےکا حکم دیا ہے، سپریم کورٹ نے فیصلہ دو کے مقابلے میں تین کی اکثریت سے دیا ہے، بینچ کی اکثریت نے درخواست گزاروں کو ریلیف دیا ہے۔
فیصلے میں5 رکنی بینچ کے دو ممبران نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ جنرل اتنخابات کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے، آئین میں انتخابات کے لیے 60 اور 90 دن کا وقت دیا گیا ہے، اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں انتخابات ہونا لازم ہیں، پنجاب اسمبلی گورنرکے دستخط نہ ہونے پر 48 گھنٹے میں خود تحلیل ہوئی جب کہ کے پی اسمبلی گورنر کی منظوری پر تحلیل ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا ہےکہ گورنرکو آئین کے تحت تین صورتوں میں اختیارات دیےگئے، گورنر آرٹیکل 112 کے تحت، دوسرا وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرتے ہیں، آئین کا آرٹیکل 222 کہتا ہےکہ انتخابات وفاق کا سبجیکٹ ہے، الیکشن ایکٹ گورنر اور صدر کو انتخابات کی تاریخ کی اعلان کا اختیار دیتا ہے، اگر اسمبلی گورنر نے تحلیل کی تو تاریخ کا اعلان بھی گورنرکرےگا، اگر گورنر اسمبلی تحلیل نہیں کرتا تو صدر مملکت سیکشن 57 کے تحت اسمبلی تحلیل کریں گے۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا اختیار حاصل ہے، انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی آئینی ذمہ داری گورنر کی ہے،گورنر کے پی نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرکے آئینی ذمہ داری سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن فوری طور پر صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ تجویز کرے، الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد صدر پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، گورنر کے پی صوبائی اسمبلی میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں، ہر صوبے میں انتخابات آئینی مدت کے اندر ہونے چاہئیں۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہےکہ تمام وفاقی اور صوبائی ادارے انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کریں، وفاق الیکشن کمیشن کو انتخابات کے لیے تمام سہولیات فراہم کرے، عدالت انتخابات سے متعلق یہ درخواستیں قابل سماعت قرار دے کر نمٹاتی ہے۔
چیف جسٹس نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کے اختلافی نوٹ بھی پڑھ کر سنائے۔
سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے غلام محمود ڈوگرکیس میں 16فروری کو ازخودنوٹس کے لیے معاملہ چیف جسٹس کوبھیجا تھا جس پر سپریم کورٹ نے پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔
حکمران اتحاد نے 9 رکنی لارجر بینچ میں شامل 2 ججز پر اعتراض اٹھایا جس کے بعد جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی نے خودکو بینچ سے الگ کرلیا اور جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ بھی9 رکنی بینچ سے علیحدہ ہو گئے۔
9 رکنی بینچ ٹوٹنےکے بعد چیف جسٹس پاکستان نے بینچ کی ازسر نو تشکیل کرکے اسے 5 رکنی کردیا۔
چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے 2 سماعتیں کیں۔
گزشتہ روز7 گھنٹے کی طویل سماعت میں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہوئے، سپیکرز کے وکیل علی ظفر اور سپریم کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے، عوامی مسلم لیگ کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل دیے، اٹارنی جنرل شہزاد عطاالہٰی اور الیکشن کمیشن کے وکیل سجیل شہریار نے بھی دلائل دیے۔
گورنر کے پی کے وکیل خالد اسحاق، پیپلزپارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک، مسلم لیگ ن کے وکیل منصوراعوان، جے یو آئی کے وکیل کامران مرتضیٰ صدر مملکت کے وکیل سلمان اکرم راجہ، گورنرپنجاب کے وکیل مصطفیٰ رمدے اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل نے بھی دلائل دیے۔
بینچ میں شامل سپریم کورٹ کے تمام ججز نے گزشتہ روز ریمارکس میں کہا کہ آئینی طورپرانتخابات 90 دن میں ہوں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی آئینی ادارہ انتخابات کی مدت نہیں بڑھا سکتا، انتخابات بروقت نہیں ہوئے تو ملک میں استحکام نہیں آئےگا، عدالت کے سوا کسی آئینی ادارے کو انتخابات کی مدت بڑھانے کا اختیار نہیں، عدلیہ کو بھی مدت بڑھانے کی ٹھوس وجوہات دینا ہوں گی۔
چیف جسٹس نے سیاسی جماعتوں کو آپس میں مشورہ کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نےکہا کہ ان کے پارٹی لیڈرز کہتے ہیں کہ انتخابات کی تاریخ دینا سیاسی جماعتوں کا کام نہیں، ن لیگ کے وکیل منصور اعوان نے کہا کہ دو صوبوں میں ابھی انتخابات سے جنرل الیکشن متاثر ہوگا۔

جوڈیشل کمپلیکس ہنگامہ آرائی: عمران سمیت 21 پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 21 رہنماؤں کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔
عمران خان کی گزشتہ روز جوڈیشل کمپلیکس آمد پر ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے 250 کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں دہشت گردی،کار سرکار میں مداخلت اور سرکاری اہلکاروں سے مزاحمت کی دفعات شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق عمران خان ہجوم نما پر اشتعال لشکر لے کر جوڈیشل کمپلکس پہنچے، کارکنان نے ہاتھوں میں اسلحہ، ڈنڈے اور جھنڈے پکڑ رکھے تھے، ہجوم عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی قیادت میں جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہوا، احاطہ عدالت میں پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے لوگوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، سی سی ٹی وی کیمروں اور بینچز سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رہنما تحریک انصاف راجہ خرم، مراد سعید، علی اعوان، عامر کیانی، فرخ حبیب، غلام سرور خان، راجہ بشارت، شہزاد وسیم، شبلی فراز، کرنل ریٹائرڈ عاصم، طاہر صادق اور حماد اظہر کے نام بھی مقدمے میں شامل ہیں۔
جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ میں توڑ پھوڑ کے الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

توشہ خانہ کیس: عمران خان کے وارنٹ جاری ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے وارنٹ گرفتاری کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان توشہ خانہ کیس میں متعدد بارعدالتی پیشی پر غیرحاضر رہے، وہ آخری سماعت کے عدالتی اوقات کے اندر پیش نہیں ہوئے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہےکہ عمران خان کی درخواست کے مطابق وہ جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے باعث کچہری نہیں آ سکتے، صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ عمران خان عدالتی پیشیوں کو اپنی ترجیحات کے مطابق رکھ رہے ہیں اور توشہ خانہ کیس ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ عمران خان ضلع کچہری سے چند منٹوں کی دوری پر تھے، ان کی درخواست قابل قبول نہیں اس لیے مسترد کی جاتی ہے اور عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں۔
عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو 7 مارچ کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی سے روک دیا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی سے روک دیا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے گلگت بلتستان میں ججز تعیناتی کے خلاف کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
ججز تعیناتی کے خلاف وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور بدھ کے روز سماعت کے موقع پر وفاقی حکومت نے جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ جواب دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی جائے اس پر وزیراعلیٰ جی بی کے وکیل مخدوم علی خان نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال سے مقدمہ زیر التوا ہے، کیس عدالت میں ہے پھر بھی ججز تعیناتیاں کی جارہی ہیں۔
جسٹس مظاہر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ کی ایڈوائس ججز تعیناتی میں ضروری ہے؟ جبکہ جسٹس اعجاز نے کہا کہ ایک دو ہفتے تعیناتیاں نہ بھی ہوں تو کچھ نہیں ہوگا، ججز چارج سنبھال چکے ہیں، انہیں نوٹس دینے کی قانونی حیثیت آئندہ سماعت پرطے کریں گے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ جی بی میں ججز تعینات کون کرتا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہاں ججز کی تعیناتی وزیراعظم پاکستان کرتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں ججز کی تعیناتی سے روک دیا اور مقدمے کے فیصلے تک تعیناتیوں پر حکم امتناع جاری کردیا۔
سپریم کورٹ نے جی بی سپریم ایپلٹ کورٹ میں تعینات ججز کو بذریعہ رجسٹرار نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 15 مارچ تک ملتوی کردی۔

پی ڈی ایم کی اجتماعی سیاسی تدفین کا وقت زیادہ دور نہیں، مسرت چیمہ

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ٹولے کی اجتماعی سیاسی تدفین کا وقت اب زیادہ دور نہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں رہنما پی ٹی آئی مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ عمران خان کو مائنس کرنے کے خواب دیکھنے والے عوام کا جنون دیکھ لیں، سیاسی مخالفین روئیں چاہے اپنے بال نوچیں آج پاکستان کی سیاست کا محور عمران خان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان باہر نکلتے ہیں تو لندن اور پاکستان میں کئی لوگوں کے پلیٹ لیٹس گر جاتے ہیں، سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ تاریخی ہوگا، ملک کے مستقبل کا تعین ہونا ہے، قوی امید ہے معزز جج صاحبان کسی دباؤ میں آئے بغیر آئین کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
مسرت جمشید چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ راجن پور ضمنی الیکشن نے ثابت کر دیا کہ تبدیلی کی ہوائیں چل پڑی ہیں، ملک میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے نتائج راجن پور کے نتائج سے مختلف نہیں ہوں گے، مستقبل کی سیاست میں مریم صفدر کا کوئی کردار نہیں، وقت گزارنے کیلئے باغبانی سیکھیں۔

قومی ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ کا آغاز 9 مارچ سے ہوگا

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ کا آغاز لیزر سٹی باؤلنگ کلب جناح پارک راولپنڈی میں 9مارچ سے ہوگا ۔
پاکستان ٹین پن بائولنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمان کاکہنا ہے کہ چیمپئن شپ کی تیاریاں ابھی سے شروع کردی گئی ہیں ، چیمپئن شپ میں ملک بھر سے مرد اور خواتین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں اور چیمپئن شپ میں مینز سنگلز، مینز ڈبلز، ٹیم ایونٹ، ایمچور، ڈیف (مینز اینڈ ویمنز ) اور میڈیا کیٹگریز کے مقابلے رکھے گئے ہیں۔
چیمپئن شپ میں دس لاکھ روپے کی انعامی رقم رکھی گئی ہے ، چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب 13 مارچ کو ہوگی اور چیمپئن شپ کے اختتام پر کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے جائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ خواتین کے عالمی ڈے کے موقع خواتین ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ کے بھی مقابلے ہونگے جس میں100سے زائد خواتین حصہ لیں گی۔

گزشتہ سال کی نسبت ٹیکس وصولی میں 18 فیصد اضافہ ہوا، اسحاق ڈار

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال مجموعی طور پر ٹیکس وصولی میں 18 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ایف بی آر نے فروری میں 527 ارب 20 کروڑ روپے کے ٹیکس اکٹھے کیے، فروری میں ٹیکس وصولیوں میں 17 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا۔
وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ ایف بی آر نے جولائی سے فروری 4 ہزار493 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، گزشتہ سال اسی عرصے میں 3 ہزار 820 ارب کے محصولات حاصل ہوئے تھے۔

سی ٹی ڈی کراچی نے دہشتگردی کی منصوبہ بندی ناکام بنا دی ،2ملزمان گرفتار

کراچی: (ویب ڈیسک) کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی ) نے پاپوش نگر میں کارروائی کے دوران 2 ملزمان کو گرفتار کرکے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کراچی کے علاقے ناظم آباد پاپوش نگر میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کے دوران 2 ملزمان فہد بلوچ اور زاہد بلوچ کو گرفتار کرلیا۔
ملزمان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، 17 نائن ایم ایم پستول ، 5ہزار30بور ،1ہزار نائن ایم ایم اور 500کلاشنکوف کی گولیاں اور نائن ایم ایم پستول کے میگزین برآمد ہوئے ، اسلحہ ممکنہ طورپردہشت گردی میں استعمال ہوناتھا۔
حکام کے مطابق ملزم زاہد بلوچ متعدد بار گرفتار ہوکر جیل جاچکا ہے ، ملزمان کے خلاف سی ٹی ڈی تھانے میں مقدمہ درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے ۔

چنیوٹ : 9 رکنی ڈانس گروپ کا کچے کے علاقے میں اغواء، ایک کروڑ تاوان طلب

صادق آباد: (ویب ڈیسک) پنجاب کے شہر چینوٹ کا 9 رکنی ڈانس گروپ کچے کے ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گیا ، ڈاکوؤں نے مغویوں کی رہائی کیلئے ایک کروڑ روپے کا تاوان طلب کرلیا ۔
تفصیلات کے مطابق شادیوں میں ڈھول بجانے اور ڈانس کرنیوالے چنیوٹ کے 9 رکنی ڈانس گروپ کو ڈاکوؤں نے فون پر شادی کی تقریب کیلئے بلایا ، گروپ فیصل آباد سے رحیم یارخان پہنچا اور ڈاکوؤں کے ہاتھوں اغوا ہو گیا ۔
رحیم یارخان پہنچنے کے کچھ گھنٹوں بعد 9 رکنی گروپ کے موبائل فون بند ہو گئے ، مغویوں میں کم عمر لڑکا بھی شامل ہے ۔
ڈاکوؤں نے مغویوں کی رہائی کیلئے ایک کروڑ روپے تاوان مانگ لیا ہے ۔