لاہور(ویب ڈیسک) لاہورمیں ایک ہفتے کے دوران آتشزدگی کا دوسرا بڑا واقعہ پیش آگیا ،راوی روڈ ٹمبر مارکیٹ میں جوتوں بنانے والے کارخانے میں ہولناک آگ سے لاکھوں روپے کا سامان جل کے راکھ ہوگیا تاہم خوش قسمتی سے تمام مزدور بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ، آگ نے قریبی کھمبوں اور بجلی کی تاروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیاجس کے باعث علاقے کی بجلی منقطع کر دی گئی ، آگ کی شدت کے باعث ملحقہ عمارتوں اور گھروں کو بھی خالی کروا لیا گیا ، پورے علاقے پر دھویں کے سیاہ بادل چھا گئے،فائر فائٹرز نے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیا ،فائیر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا ۔تفصیلات کے مطابق ٹمبر مارکیٹ میں واقع جوتوں کے کارخانے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ،کارخانے میں جوتے میں استعمال ہونے والا لیدر بھاری مقدار میں موجود تھا جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی اور اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کی 8گاڑیاں موقع پر پہنچی اور آگ بھجانے کا عمل شروع کیا گیا تاہم آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے فائر فائٹرز نے اسے تیسرے درجے کی آگ قرار دیتے ہوئے مزید فائر ٹینڈر طلب کئے ۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ اس قدر شدید تھی کہ اس کے شعلے اردگرد دکانوں اور گھروں تک جا پہنچے جس کے باعث قریبی گھروں اور عمارتوں کو فوری طور پر خالی کروا لیا گیا،پورے علاقے پر دھویں کے سیاہ بادل چھا گئے۔ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی مزید گاڑیاں بھی موقع پر پہنچیں اور ٹیموں نے آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیااور کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا ۔بتایا گیا ہے کہ جب آگ لگی تو اس وقت کارخانے میں 25سے 30مزدور موجود تھے جو کہ بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے ۔آگ کے باعث راوی روڈ پر پر ٹریفک بھی جام ہو گیا جس سے دور دور تک گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔لارڈ مئیر لاہور مبشر جاوید اور ڈپٹی کمشنر سمیر نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔میئرلاہور کرنل یٹائرڈ مبشر جاوید نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ آگ موٹر کے اسپارک ہونے کے باعث لگی آگ کی شدت کی وجہ پلاسٹک کی شیٹ تھی جس کی مدد سے جوتے کے سول بنائے جاتے تھے اس موقع پر میئر نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ عمارت قانونی طور پر کمرشل تھی یا نہیں اگر یہ کمرشل تھی کو اس میں فائر سیفٹی کے آلات نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہیں ۔ڈپٹی کمشنر لاہور سمیر احمد نے بھی بتایا کہ آگ موٹر میں ہونے والے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔جبکہ فیکٹری مالک نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی ہے ، آگ لگنے کے دوران مزدور کارخانے میں موجود تھے۔دوسری جانب وزیرا علیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ایک ہفتے کے دوران آتشزدگی کا دوسرا واقعہ پیش آنے پر متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالباسط نے بھی آتشزدگی کے بارہا سانحات اور ان کی وجہ سے تاجروں کو اربوں روپے کے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ مارکیٹوں میں ہائیڈرنٹس نصب کرے تاکہ بڑے نقصانات سے بچاجاسکے۔انہوں نے لیسکو پر بھی زور دیا کہ وہ مارکیٹوں میں بجلی سپلائی کا نظام درست کرے کیونکہ ناقص نظام کی وجہ سے شارٹ سرکٹ بھی آتشزدگی کی بڑی وجوہات ہیں۔ واضح رہے کہ لاہور میں اسی ہفتے پیر کے روز بھی انارکلی بازار کی گنپت روڈ پرایک پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے بھاری نقصان ہواتھا ۔






































